{امت مسلمہ کے حالات اور نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی رہنمائی }
✍🏻 قرآن کریم میں ارشاد ہے
لقدکان لکم فی رسول اللہ أسوۃ حسنہ
تمہارے لیے حیات رسول میں بہترین نمونہ ہے،
(سورہ احزاب آیت نمبر21)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی امت مسلمہ کے لیے آئیڈیل اور نمونہ ہے،ہرطرح کی ہدایات رہنمائی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی سے انسانوں کو ملتا ہے ،زندگی کا کوئی موڑ ایسا نہیں جس کا حل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی سے ہمیں نہ ملتاہو،
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زندگی کے تمام مسائل کو حل کیا جاسک،
قوم کی ترقی کا راز قرآن وسنت میں مضمر ہے،
قرآن کریم اور رسول اللہ کے بر حق اور صحیح ہونے میں کسی مومن کو ذرا بھی شک و تردد نہیں کیونکہ اس کے بغیر وہ مومن نہیں ہوسکتا-
امت محمدیہ کو بقیہ تمام امتوں پہ تفضل وتفخر حاصل ہے اس کی بنیاد بھی قرآن وسنت ہے-
قرآن کریم میں جابہ جا فرمان باری تعالیٰ موجود ہے ،اگر دنیا و آخرت میں فوز وفلاح اور ترقی چاہتے ہو تو اللہ اور اسکے نبی کی اطاعت کرو -
اور صراحتا قرآن میں موجود ہےکہ صحابہ کرام کی کامیابی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقہ کار پر عمل کرنے کی وجہ سے ممکن ہوا ہے اور اسی بنیاد پہ صحابہ کرام کو رضی اللہ عنہم ورضو عنہ کا مژدہ ملا ،
دنیا کے اندر اہل ایمان کی کامیابی تاریخ کی کتابوں میں عیاں ہے ،محض قلیل افراد نے چہار دانگ عالم میں پرچم حق لہرایا ،اور دنیا کو یہ پیغام دیا کہ
اے لوگو! تمہاری کامیابی راہ حق پہ چلنے میں ہے ،ظلم کو ختم کرنے اور عدل کو پھیلانے میں ہے ، محبت بانٹنے اور نفرت کو فروتر کرنے میں ہے،
اگر آپ تاریخ کا مطالعہ کریں گےتو یہ عیاں ہو جائیں گی کہ سیاست کا جو فریضہ خلفائے راشدین نے انجام دیا تاریخ اسکی مثال پیش کرنے سے عاجز وقاصر ہے ،صحابہ کرام نے سیاست و خلافت سے مبدأ ومعاد کی نجاح حاصل کرلی ،اور ہوتا بھی کیوں نہیں چونکہ یہ مقدس وپاکیزہ لشکر و جماعت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے تعلیم و تربیت یافتہ تھے-
آج امت مسلمہ بھی کامیابی چاہتی ہے ،وہ چاہتی ہے پانی میں گھوڑے دورڑاۓ ،اسکی ایک آوز پہ ظالم پہ رعشہ طاری ہوجاۓ ،انکی ہیبت دشمنوں کے دلوں میں راسخ وپیوست ہوجاۓ ،ان کے اثر ورسوخ کا چرچہ دنیا کے اندر ہو ،اور اسکی طاقت کا شہرہ پوری دنیا میں ہو ، اسکے خلاف کسی کو بھی چارہ جوئی کوئی حق حاصل نہ ہو،
معاندین اسلام حق کے سامنے سر تسلیم خم کر دے ،وہ جس چیز کو چھوۓ سونا بن جاۓ ،
لیکن امت مسلمہ اس بات پہ غور نہیں کرتی یہ ساری خوبیاں کب اور کیسے پیدا ہوسکتی ہے؟
اس کا جواب یہ ہیکہ ہم دیکھیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کامیاب زندگی کے کیا اصول بتلائے ہیں ،نصوص میں ان کی کیا صراحت ہے؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم اورصحابۂ کرام کا کیا سیاست میں کیا کردار رہے ،ان کا طرز سیاست کہاتھا ،سیاسی شعور کیسا تھا،
گویا کہ ہمیں طرح کے مشکل سے مشکل تر حالات سے نمٹنے کا اور اس میں سرخ رو ہونے کا طریقہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے معزز صحابہ کرام کی زندگی سے ملتاہے
آج امت مسلمہ بے شمار مصائب وآلام اور بظاہر لاینحل مسائل سے دو چار ہے
مجموعی اعتبار سے ہرجگہ ظلم وستم کی آندھیاں چل رہی ہے، ناانصافی کا دور دورہ ہے ،حق سے رو گرادنی عام ہے ،کمزوروں اورلاچاروں کے ساتھ ناروا سلوک کی وبا عام ہے،
ملک گیر ہی نہیں بلکہ عالمی پیمانے پہ اہل حق کومسماری کی تیاری تیز ہے
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس طرح کے حالات کیوں آتے ہیں، ان کے وجوہات کیا ہیں ،
ہمیں اس پہ غور کرنے کی ضرورت ہے کہ مشکل حالات کیوں آتے ہیں -
اگر ہم عقل و خرد سے کام لیں ،سیرت رسول ،تاریخ کا مطالعہ کریں تو ہمارے تمام سوالات کاحل چٹکیوں میں مل جائیگا،
اس کا حاصل اتنا ہے جب ہم مؤمن ہیں تو ہمارے لیے آزمائش و امتحان عام ہے تاکہ ہمارا تعلق اللہ سے مضبوط رہےاور سکی تائید ونصرت کی توقع برقرار رہے،دوسرا اطاعت خداوندی اور سنت رسول سے دوری ،
حالات خواہ خوشگوار ہو یا ناگوار یہ سب اللہ کی طرف سے آزمائش وانعام ہے
قرآن مجید ارشار ہے
ولنبکونکم بشئی من الخوف والجوع ونقص من الاموال والانفس والثمرات ،وبشر الصابرین
اور بالیقین ہم تمہیں ڈر ،بھوک مالوں ،جانوں اور پھلوں میں نقصان کرکے آزمائیں گے، اور سے نبی آپ خوش خبری سنادیں صبر کرنے والے کو
(سورہ بقرہ آیت نمبر155)
،سورہ بقرہ میں دوسری جگہ ارشاد ہے
ام حسبتم ان تدخلوا الجنۃ ولمایأتکم مثل الذین خلوا من قبلکم مستھم الباساء والضراء وزلزلو حتی یقول الرسول والذین آمنو معہ متی نصر اللہ
ألاأن نصر اللہ قریب
ترجمہ
تمہارا کیا خیال ہے تم یوں ہی جنت میں داخل ہوجاؤگے جب کہ ان جیسے حالات نہیں آۓ جو تم سے پہلے گزر گیے ،انہیں تنگدستی اور تکالیف لاحق ہوئی، انہیں متزلزل کیاگیاحتی کہ رسول اور اہل ایمان بول پڑے کہ اللہ مدد کب آئیگی ،سن لو بالیقین اللہ کی مدد قریب ہے
(سورہ بقرہ آیت نمبر 214)
اللہ رب العزت نے اپنے انبیاء اور اسکے متبعین کو ناگزیر حالات سے دوچار کیا ،اور اسی کے نتیجہ میں انہیں کامیابی ملی -
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں مکہ کے جو حالات تھے تقریبا وہی حالات اب ہیں ،جس طریقہ سے اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپکے معزز اصحاب کو ستایا گیاتھا ویسے ہی آج ستایا جارہا ہے، جس طریقہ سے وہاں شعائر اسلام سےروکا جارہا تھا آج روکا جارہاہے ،بحالت نماز جس طریقہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام کو تکلفیں دی جارہی تھی اب لاٹھی ڈنڈے چلاۓ جارہے ہیں ،جس طرح وہاں فردا فردا صحابہ کرام کوقتل کردیا جاتا تھا یہاں بھی مسافروں بلکہ مسلمانوں کو قتل کیا جارہا ہے، جس طریقہ سے اہل مکہ اسلام کو ختم کرنے پہ تلے ہوئے تھےآج بھی ان ناپاک اولاد اسلام کو مٹانے پہ تلے ہوۓ ہیں،جس طرح وہاں صحابہ کرام کو حتی المقدور اسلام سے پھیرنے کی کوشش کرتے تھے آج بھی اسلام سے مرتد کرنے کی کوشش جاری ہے، اور یہ صرف دیارہند ہی نہیں بلکہ عالمی پیمانے پہ یہی صورت
حال ہےـ
اب دیکھنا یہ ہےکہ ایسے موقع پہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے تعلیمات اور رہنمائی کیا ہےاور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس سلسلے میں سیاسی زندگی کیا رہی ہے-
آپ سیرت نبویہ کے گوشۂ سیاست کا مطالعہ کریں گے تو پتا چلے گا کہ جب تک آپ صلی اللہ علیہ مکہ میں تھے جواب کی کوئی صورت اختیار نہیں کیا بلکہ سہتے رہے اس کی دو وجہ ہیں
نمبر 1اسباب کی قلت
نمبر2حکم ربی کا انتظار
لیکن حالات مزید دشوار کن ہوۓ تو پھر اللہ تعالیٰ کی جانب سےہجرت مدینہ کا حکم ملا اور آپ کے اصحاب رفتہ رفتہ ہجرت کرکے مدینہ چلے گیے ،اور وہاں صلح و آشتی کا پیغام دیا اور منافقوں اور یہودیوں سے عہد وپیمان کیا، اسلامی نظام کو قائم کیا، اسلام اور اہل اسلام کو مضبوط کیا، آلات حرب اور جنگی اسلحے تیار کیے ،تلوار وتیر اندازی سیکھی ،جب قوت بڑھ گئی، پورے طور پرطاقت مضبوط ہوگئی تو پھر جوابی کاروائی شروع کی، اس تدبیر میں اللہ رب العزت نے کامیابی دی -
آج اگر ایسے ناگفتہ حالات پیدا ہوگیے ہیں تو خوف زدہ ہونے کی چنداں ضرورت نہیں ہے اور نہ جذبات میں آکر کوئی ایسا فیصلہ کرنے کی ضرورت ہے جس سے اہل اسلام کا نقصان ہو اور اسکا کوئی فائدہ بھی نہ ہو بلکہ ہم تعلیمی و سیاسی میدان میں اتریں اور کامیاب بنیں ، ایمانی واعتقادی لحاظ سے اتحاد وہم آہنگی پیدا کریں، دینی شعور وآگہی پیدا کریں ،اللہ سے اپنے تعلق مضبوط کریں -
حب دنیا اور حب جاہ فکر اپنے ذہن ودماغ سے نکال دیں ،اور یہ سمجھ لیں کہ دنیا اہل ایمان ہی کےلیے نہیں بلکہ عالم انسان کیلیے امتحان گاہ ہےاللہ کبھی کچھ دیکر آزماتاہے ہے جسے حالات کی خوشگواری سے تعبیر کرتے ہیں اور کبھی کچھ لیکر آزماتا ہے جسے حالات کی ناگواری سے تعبیر کرتے ہیں -
ان تمام حالات سے انسان کو متأثر نہیں ہونا چاہیے، بلکہ حق پر ثابت قدم رہنا چاہیے اپنے رب کی حمدوثنا اور اس کا شکر بجا لانا چاہیے-
یاد رہے جوبھی اس دنیا سے بحالت میں ایمان اور حق پہ قائم رہتے ہوۓ رخصت ہوگا ،کامیابی اس کا مقدر ہوگی ،اور جو حالات سےخوف زدہ ہوکر حق سے منھ موڑلے اور حالات کی رو (بفتح الواو)میں بہہ پڑے توابدی ذلت وخواری اس کا مقدر ہوگی
باری تعالیٰ ہم سب کو حق پہ قائم رکھے ،آزمائش میں صبر واستقامت اور اللہ پریقین کی توفیق عطا فرمائے آمین
🪶•••{رشحات قلم}•••📖
گل رضا راہی ارریاوی