بیسویں صدی کا افسانوی مجاہد

محمد بن عبد الکریم الخطابی اور معرکۂ انوال کی لازوال داستان

محمد صادق اصلاحی ندوی 

تاریخِ انسانی میں بعض شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو اپنے عہد کی حدود سے نکل کر ایک عہد ساز علامت بن جاتی ہیں۔ وہ صرف ایک قوم یا ایک خطے کی نہیں رہتیں بلکہ آزادی، مزاحمت اور حریتِ فکر کی عالمی علامت بن جاتی ہیں۔ ان کی زندگی اس حقیقت کا اعلان ہوتی ہے کہ ایمان، عزم اور قربانی جب یکجا ہو جائیں تو کمزور سے کمزور قوم بھی بڑی سے بڑی طاقت کو للکار سکتی ہے۔

بدقسمتی سے ہماری نئی نسل اپنی تاریخ کے ایسے ہی بے شمار درخشاں ابواب سے ناواقف ہوتی جا رہی ہے۔ ہم نے اپنی یادداشتوں سے ان مردانِ حُر کے تذکرے مٹا دیے ہیں جنہوں نے استعماری قوتوں کے سامنے سرتسلیم خم کرنے کے بجائے عزت و آزادی کی راہ اختیار کی۔ انہی عظیم کرداروں میں ایک نام محمد بن عبد الکریم الخطابی کا ہے، جنہیں بیسویں صدی کی مزاحمتی تاریخ کا ایک افسانوی مجاہد اور غیر معمولی سپہ سالار قرار دیا جاتا ہے۔

جب مراکش کے خطۂ ریف میں ہسپانوی افواج کی شکستوں کا سلسلہ دراز ہونے لگا اور ان کے نقصانات حد سے بڑھ گئے، تو ہسپانیہ کے بادشاہ الفونسو سیزدہم نے اپنے قریبی دوست جنرل سِلوسترے کی قیادت میں میڈرڈ سے ایک عظیم لشکر روانہ کیا۔ بالآخر دونوں فوجیں تاریخ ساز معرکۂ انوال میں آمنے سامنے ہوئیں۔

ایک جانب ساٹھ ہزار سے زائد منظم ہسپانوی فوج تھی، جو جدید اسلحہ، توپ خانے اور عسکری سازوسامان سے لیس تھی، جبکہ دوسری جانب محض تین ہزار مسلمان مجاہد تھے، جن کے پاس محدود وسائل اور سادہ ہتھیار تھے۔ ظاہری اسباب کی دنیا میں یہ مقابلہ ناممکن دکھائی دیتا تھا، لیکن تاریخ نے ایک مرتبہ پھر ثابت کیا کہ جنگیں صرف ہتھیاروں سے نہیں، بلکہ حوصلوں، عقیدوں اور قیادتوں سے بھی جیتی جاتی ہیں۔

چنانچہ امیر محمد بن عبد الکریم الخطابی کی قیادت میں ان مجاہدین نے ہسپانیہ کی طاقتور فوج کو ایسی شکست دی جس نے یورپ کے ایوانوں کو لرزا دیا۔ ہزاروں ہسپانوی فوجی مارے گئے، بے شمار گرفتار ہوئے اور جو چند جان بچا کر نکل سکے، وہ اسپین واپس جا کر ریف کے پہاڑوں میں دیکھی گئی تباہی اور خوف کی داستانیں سناتے رہے۔

اس تاریخی فتح کے بعد شمالی مراکش میں جمہوریۂ ریف قائم ہوئی۔ امیر خطابی نے ایک منظم ریاست کی بنیاد رکھنے کی کوشش کی۔ انہوں نے انتظامی اصلاحات نافذ کیں، تعلیم کے فروغ پر توجہ دی، نوجوانوں کو بیرونِ ملک تعلیم کے لیے بھیجا اور قبائلی اختلافات کو ختم کر کے اتحاد و یکجہتی کی فضا پیدا کرنے کی سعی کی۔

مگر تاریخ کا ایک تلخ سبق یہ بھی ہے کہ جب کوئی محکوم قوم آزادی کی جانب قدم بڑھاتی ہے تو استعماری طاقتیں اپنے تمام اختلافات بھلا کر اس کے خلاف متحد ہو جاتی ہیں۔ ریف کی ابھرتی ہوئی ریاست بھی اسی انجام سے دوچار ہوئی۔

فرانس اور اسپین نے مشترکہ فوجی اتحاد قائم کیا۔ جدید ٹینک، جنگی طیارے، بحری بیڑے اور بھاری اسلحہ میدان میں اتار دیا گیا۔ لیکن اس کے باوجود امیر خطابی کے مجاہدین نے بارہا دشمن کو نقصان پہنچایا اور کئی معرکوں میں حیران کن کامیابیاں حاصل کیں۔

جب عسکری قوت فیصلہ کن کامیابی حاصل نہ کر سکی تو استعمار نے ظلم کے نئے ہتھکنڈے اختیار کیے۔ اسپین نے ریف کے مختلف علاقوں میں کیمیائی ہتھیاروں اور زہریلی گیسوں کا استعمال کیا، جسے بعد کی تاریخی تحقیقات نے بھی ثابت کیا ہے۔ دوسری طرف پورے علاقے کا سخت محاصرہ کر دیا گیا اور شہری آبادی کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

بالآخر جب لاکھوں بے گناہ انسانوں کی جانیں خطرے میں پڑ گئیں اور جنگ ناقابلِ برداشت مرحلے میں داخل ہو گئی، تو امیر محمد بن عبد الکریم الخطابی نے 1926ء میں مزید خونریزی روکنے کے لیے خود کو دشمن کے حوالے کر دیا۔ یوں ایک عظیم مزاحمتی تحریک عسکری اعتبار سے اگرچہ ختم ہو گئی، لیکن اس کا پیغام ہمیشہ کے لیے زندہ ہو گیا۔

اس کے بعد فرانسیسی حکام نے انہیں بحرِ ہند کے جزیرۂ لارینیون میں جلا وطن کر دیا، جہاں انہوں نے تقریباً دو دہائیاں جلاوطنی کی صعوبتوں میں گزاریں۔ بعد ازاں مصر پہنچ کر انہوں نے عرب اور اسلامی دنیا کی تحریکاتِ آزادی کی فکری اور سیاسی سرپرستی جاری رکھی۔

محمد بن عبد الکریم الخطابی کی زندگی محض ایک شخص کی داستان نہیں بلکہ اس حقیقت کی روشن مثال ہے کہ آزادی کی قیمت قربانی ہوتی ہے، اور حریت کی شمع ہمیشہ انہی لوگوں کے خون سے روشن ہوتی ہے جو اپنی ذات سے بلند ہو کر قوموں کے لیے جینا سیکھ لیتے ہیں۔

آج جبکہ ہماری نئی نسل تاریخ کے حقیقی ہیروز سے دور ہوتی جا رہی ہے، ضرورت اس بات کی ہے کہ ایسے کرداروں کو دوبارہ زندہ کیا جائے۔ اس لیے کہ قومیں صرف اپنے حال سے نہیں بلکہ اپنے محسنوں، مجاہدوں اور قربانی دینے والوں کی یاد سے بھی زندہ رہتی ہیں۔

محمد بن عبد الکریم الخطابی نہ قرونِ اولیٰ کے کسی عہد سے تعلق رکھتے تھے اور نہ ہی وہ کسی داستانوی روایت کے کردار تھے۔ وہ بیسویں صدی کے ایک حقیقی انسان تھے جنہوں نے اپنے ایمان، اپنی بصیرت، اپنی جرأت اور اپنی قربانی کے ذریعے تاریخ میں اپنا نام ہمیشہ کے لیے ثبت کر دیا۔

ان کی زندگی آج بھی یہ پیغام دیتی ہے کہ اگر عزم زندہ ہو تو غلامی کی زنجیریں ٹوٹ سکتی ہیں، اگر قیادت مخلص ہو تو منتشر قومیں متحد ہو سکتی ہیں، اور اگر قربانی کا جذبہ باقی ہو تو تاریخ کے دھارے کا رخ بھی بدلا جا سکتا ہے۔

📚 مآخذ:
1. محمد بن عبد الكريم الخطابي، مذكرات محمد بن عبد الكريم الخطابي.
2. عبد الكريم الخطابي والتاريخ المحرَّم.
3. عبد الكريم الخطابي: أسد الريف.