الحمدللہ
الحمدللہ رب العلمین

بھائیو اور بہنو
بغیر تمھید کے بات شروع کرتے ہیں
مضمون سوچ سمجھ کر پڑھیں گے تو آپ کو بات سمجھ آجاۓ گی
صدائے قلم والوں نے مضمون نویسی مقابلہ میں جو عنوان تجویز کیا ہے یہ درست نہیں لگتا
کیونکہ عنوان یہ ہے کہ ۔جہیز ایک معاشرتی ناسور اور ہمارا کردار

یہاں غور کریں جہیز کو ناسور کہا گیا ہے حالانکہ جہیز بذاتِ خود ایک ناسور نہیں ہے، بلکہ جہیز کے نام پر رائج ظالمانہ رسم اور اس سے وابستہ معاشرتی دباؤ ایک ناسور کی حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔"
دیکھیے
ہمارے محسن اعظم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیٹی کو جہیز دیا ہے بھلے کم چیزیں تھی
لیکن شمار تو جہیز ہوتی ہیں
تو جہیز
پھر کیسے ناسور ہوگیا


بہرحال بغیر طوالت کے بات مختصر کرتا ہوں

ہم سب کو اس پر توجہ دینی چاہیے
میں نے بھی اس عنوان پر مضمون لکھا ہے اور جمع بھی کرادیا ہے
لیکن اس غلطی کو مدنظر رکھتے ہوئے مضمون کوتربیت دی ہے
ہاں صرف ایک جگہ غلطی رہ گئی ہے وہ بھی میرے اعتبار سے

میرے اعتبار سے کیسے غلطی رہ گئی ہےاسکی وضاحت کردوں نگا
کمنٹ میں سوال کرنے پر
تاکہ معلوم تو ہو علم کے پیاسے کتنے موجو دہیں

امید کرتا ہوں یہ میری بات ہمارے پیارے اور محبوب صداۓ قلم والوں تک پہنچے گی
وہ اس پر غور وفکر فرماکر
 ہماری رہنمائی فرمائیں گے
والسلام
عروہ جی