🖊️اسلام کی طرف دہشت گردی کی نسبت

حقیقت یا فریب📚


✍🏻نواۓ خامہ :گل رضاراہی ارریاوی


میں آئینہ ہوں دکھاؤں گا داغ چہرے کے

جسے خراب لگے وہ سامنے سے ہٹ جاۓ


اسلام کی تعلیمات روز روشن کی طرح عیاں ہے اور آئینہ کی طرح صاف وشفاف ہے -

اس میں کسی طرح کا کوئی بھی داغ نہیں ہے ،

اسلام ازل سے ہی ظلم وتشدد کے سخت خلاف ہے

اسلام کی بنیاد اور ہدف ہی ظلم وتشدد کو ختم کرنا ہے


یہی وجہ ہے آفتاب اسلام اس وقت ہوا جب دنیا ظلم وستم کی شب دیجور میں راہ حق سے بھٹک چکی تھی ، توحید سے روگردانی کرکے اصنام پرستی کے نام پر سینکڑوں معبودان باطلہ بنارکھے تھے،ظلم وبربریت کا یہ عالم تھا کہ انسان کا خون پانی زیادہ سستا اور بہایا جاتا تھا، چھوٹی چھوٹی باتوں پر مارپیٹ ہوجاتی تھی ، غرور وتکبر اور انانیت کی وجہ سے کوئی کوئی لڑائی برسوں تک چلتی ،دل اتنے سخت تھے کہ سینکڑوں جانیں ضائع ہوجاتی پران آنکھیں نم نہ ہوتی ،وہ اسی کو بہادری تسلیم کرتے تھے ،بیٹیوں کو زندہ رکھنا اپنے لیے بےعزتی سمجھتے تھے ،یتیموں کا مال دبانا جائز تصور کرتے تھے ،رہزنی اور ڈاکہ زنی بے تامل کرتے تھے ،شراب نوشی ایک شوق نہیں بلکہ زندگی کا جزو لاینفک تھی ،عصمت دری بے جھجھک کرتے تھے گویا کہ ہرچیز وضع الشیئ فی غیر محلہ ہوا کرتا تھا جو کہ سراسر ظلم اور دہشت گردی پر مبنی تھی ،یہ تمام وبائیں پوری دنیا میں عام تھی جس سے دنیا عاجز آگئی تھی ،

ایسے ماحول میں اسلام کی آمد ایک سعادت عظمی و نعمت عظمیٰ تھی ، اس کا تقاضا تو یہ تھا کہ وہ اسے خوشی بہ خوشی قبول کرتے ،دعوت حق کو لبیک کہتے پر انہوں نے انکار کیا ،روگردانی کی ،چلیے روگردانی تک تو ٹھیک ہے، انہوں نے صرف اپنی ذات کا نقصان کیا ،لیکن بات یہاں ختم نہیں ہوتی چونکہ ان کی سرشت میں کئی صدیوں کی خرابی اور انانیت تھی ،اس لیے انہیں یہ برداشت نہیں تھی کہ اس کے باطل نظریے کے خلاف کوئی حق نظریہ پروان چڑھے ،اور یہ بات فطرتا ہےکہ باطل ہمیشہ حق کے خلاف برسر پیکار رہتاہے اور یہ ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہوئی دنیا نے آپ کو دیکھا ،بچپن دیکھا ،جوانی دیکھی ،صادق وامین جیسے مغزز خطاب سے نوازا،اور آپ کے پاکیزہ صفات کے گن گانے لگے یہ اس وقت تک تھاجب آپ نے مقصد بعثت کو واضح نہیں کیا تھا ،لیکن جب نبوت ملی اور اور پیغام نبوت ان تک پہونچائی سب آپ کے مخالف ہوگیے غیر تو غیر اپنے بھی کانٹے کی طرح چھبنے لگے ،کل تک جو آپ کے لیے پھول بچھاتے تھے آج کانٹے بچھانے لگے ،محبت کرنے والے نفرت کرنے لگے صرف اس وجہ سے کہ اس کے انا کو ٹھیس پہونچا بس کیا تھا اسی وقت آپ کے خلاف منظم سازشیں ہونے لگی اور آپ ادھر اپنے اپنے پیغام نبوت لوگوں تک پہونچانےمیں کلی طور پر لگ گیے،رفتہ رفتہ لوگ آپ کے پیغام کو قبول کرنے لگے ،سب سے پہلے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہ نے دعوت حق کیا پھر ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اس کے بعد دھیرے دھیرے لوگ آپ کی باتوں سے اتفاق کرنے لگے اور انصاف کے دامن حلقہ بگوش ہو کر دارارقم میں جمع ہونے لگے ،اولا تو اہل عرب نے اسے ہلکے میں لیا اور زیادہ توجہ سے اعراض کیا ،لیکن جوں جوں امن وسلامتی کا جواں عزم قافلہ بڑھنے لگا اہل عرب کو تشویش ہوئی بے چینی بڑھ گئی اور اس معزز قافلہ کےلیے شدت پسند ہوگیے ، انہیں روکنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگادیا کیا کیا ظلم وستم نہ کیا ،سب کچھ کیا جو وہ کرسکتے تھے آپ اور آپ کے اصحاب مکہ میں خاموش ظلم سہہ کر ،بھوکے رہ کر ،پتھر کھاکر ،سب وشتم سن کر پیغام حق کی نشرو اشاعت کرتے رہے ،لیکن جب یہاں شعائر اسلام سے روکا گیا ،ظلم وستم کی انتہا ہوگئی ،برداشت کی آخری حد کو بھی بحکم خدا قبول کیا ، اپنے گھر بار ،کھیت کھلیان باغات وچشمے، زمین جائداد اور اپنے اعزہ واقارب کو بھی الوداع کہہ کر رخ یثرب کیا تاکہ وہاں سکون و اطمینان سے اپنے امور انجام دے سکے اور وہیں سے امن وسلامتی کا پیغام ،حقوق انسانیت ، احترام نفس اور نفوس سلیمہ کی اہمیت بتائیں ،لیکن ظالموں کو یہ بھی ہضم نہیں ہوااور وہاں بھی آپ سے بر سر پیکار ہونے لگے تو اب پانی سر سے اتر گیا تھا ،انسانیت خطرے میں تھی ،دفاع ضروری تھا لہذا اب حکم ربی کا نزول ہوا کہ

وقاتلو فی سبیل اللہ الذین یقاتلونکم ولاتعتدو ،ان اللہ لایحب المعتدین

اور اللہ کے راستے میں جنگ کرو ان لوگوں سے جو تم سے جنگ کرے اور تجاوز مت کرو ،بے شک اللہ تعالیٰ تجاوز کرنے والے کو پسند نہیں کرتا

(سورہ بقرہ)

اس آیت میں آپ دیکھیں تو

تین باتیں ہیں

نمبر 1 جنگ کا حکم اس وقت ہوا جب اہل مکہ نے ظلم کی انتہا کردی اور میدان کار زار میں اترنے کے سوا اور کوئی راستہ نہیں تھا ،گویا اپنےدفاع کا راستہ صرف جنگ کرنا ہےورنہ خون بہانا کوئی جائز عمل نہیں -


دوسری بات جنگ بھی ان سے کی جاۓ گی جو آپ سے جنگ کےلیے برسر پیکار ہو لہذا جو آپ سے جنگ نہ کرے اور امن پسند ہو آپ ان سے کوئی تعارض نہ کریں -


تیسری بات یہ ہے کہ جنگ ان سے ہو جو آپ کے مد مقابل ہو ان سے لڑنے میں حد تجاوز نہ کریں ،یعنی احکام اسلام کی نگہداشت رکھتے ہوۓ جنگ کریں

اور وہ یہ ہے کہ آپ جنگ میں بوڑھے، بچے ،بیمار اور عورتوں کو نقصان نہ پہنچائیں اور اسی طرح بے قصور بھی آپ کی تلوار کی زد میں نہ آۓ،اگر مد مقابل آپ کے ساتھ صلح کریں تو جنگ کے مقابلے میں صلح کو ترجیح دیں ، اگر کوئی آپ کے پیغام کو قبول کرلے یا جزیہ دینے کےلیے تیار ہو تب ان سے جنگ نہ کریں یہ سب ہدایت صرف اس لیے ہے تاکہ خون خرابہ ،جنگ وجدال نہ ہو اور دنیا میں امن وسکون برقرار رہے ،

اور قرآن کریم کا واضح پیغام ہے کہ

من اجل ذالک کتبنا علی بنی اسرائیل انہ من قتل نفسا بغیر نفس اور فساد فی الارض فکأنما قتل الناس جمیعا ومن احیاھا فکأنما احیی الناس جمیعا

اسی وجہ سے ہم نےبنی اسرائیل کےلیے لکھ دی یہ بات کہ جس نے بغیر قصاص اور بغیر فساد مچاۓ کسی نفس کوقتل کردے تو اس نے گویا تمام انسانوں کا قتل کردیا اور جس نے زندہ رکھا (یعنی زندہ رکھنے کا سبب بنا)تو اس نے سارے انسان کو زندہ رکھا ،

(سورہ مائدہ)


اسی طرح دوسری آیت میں ہے


ولاتفسدو فی الارض بعد ذالک اصلاحا


زمین میں درستگی کے بعد فساد مت مچاؤ

(سورہ بقرہ )


اسی طرح قرآن میں ہے

یاأیھاالذین آمنو ادخلوا فی السلم کافہ ،ولاتتبعوا خطوات الشیطان

اے ایمان والو!اسلام میں مکمل طور پر داخل ہوجاؤ ،اور شیطان کے نقش قدم مت چلو

(سورہ بقرہ)


اور کسی انسان کو ناحق قتل کرنا یہ شیطان کے طریقوں میں سے ہے


،ولاتقتلو النفس التی حرم اللہ الابالحق

اس نفس کوقتل مت کرو جس کو اللہ تعالیٰ نے حرام کیا ہے مگر حق کے ساتھ یعنی اگر اس نے قتل کیے جانے والا جرم کیا ہو ،

(سورہ انعام )


مثلا قصاص اور شادی شدہ ہونے کی حالت میں زنا اور اس طرح کے دیگر جرائم


اور قرآن اولا کے قتل کے سلسلے میں واضح پیغام دیاکہ

ولاتقتلو اولاد کم خشیۃ املاق

اور تم اپنی اولاد کا قتل مت کرو تنگی رزق کے خوف سے

(سورہ انعام و بنی اسرائیل)


اسلام اور دوسرے مذاہب کے درمیان تصادم نہ ہو

اس کےلیے حکم فرمایا

ولا تسبوالذین یدعون من دون اللہ فیسبواللہ ودعا بغیر علم

اور جو اللہ کے علاوہ کو پکارتے ہیں انہیں گالی مت دیجئے ورنہ وہ اللہ کو گالی دیں گے نادانستگی میں

(سورہ انعام)


لکم دینکم ولی دین

تمہارے لیے تمہارا دین ہے اور میرے لیے میرا دین ہے

(سورہ کافروں)


پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بلند اخلاق حسن ،کردار اپنے ذوق نفیس اپنے پیغامات پہونچایا یہاں تک کہ عرب فتح ہوگیا لوگ اسلام لےآۓ ،اپنی سابقہ حرکت پہ پشیماں ہوۓ اس طرح اسلام دنیا کے طول وعرض میں پھیلا اور اسلام راہ وسعت پر روز بہ روز ترقی کرتا گیا

اورعدل وانصاف کا جھنڈا پوری دنیا میں بلند ہوگیا


آج دنیا میں اسلام کسی شخص سے مخفی نہیں ہے،اس کا روشن چہرہ آج سب کے سامنے ہے یہ الگ بات ہے اگر کسی کی آنکھ ہی خراب ہو اوراسے اسلام کی خوبصورتی نظر نہ آۓ

اس میں اس کی آنکھوں کا قصور ہے آفتاب اسلام کا نہیں


اب آئیے ان لوگوں کی طرف بڑھتے ہیں جو اسلام پر ظلم وستم کا الزام عائد کرتے ہیں ایا یہ الزام ٹھیک ہے یا پھر فریب


دنیا میں بے شمار مذاہب پاۓ جاتے ہیں


اس کی بنیاد چار طرح کےلوگوں پر منحصر ہے


نمبر 1 جو سرے سے خدا کے منکر ہیں وہ دنیا میں کسی خدا کے قائل نہیں ہے اسے ہماری زبان میں دہریہ کہتے ہیں جوکہ عقل ونص کے خلاف ہے بھلا اتنی بڑی دنیا اور زبردست نظام ،شمس وقمر ،دن رات کے تغیرات ،بےشمار مخلوقات کا ہرروز دنیا میں آنا جانا،ان کی روزی کا انتظام اور اسی طرح سے دیگر بےشمار محیر العقول کارنامے اپنے مستقر پہ انجام پارہے ہیں کون کررہاہے ،کوئی ذات ہے جو یہ سارے امور اس کے وقت پر انجام دے رہی ہے،ایسی بدیہی بات انکار کرنا جس کا عقل میں بھی گنجائش نہیں ایسا ہے جیسے کوئی اپنے باپ کے وجود کا انکار کررہاہو،

سوچنے کی بات ہے کہ ایک مشین بغیر کسی کے چلاۓ نہیں چل سکتی تو دنیا کا یہ نظام بغیر کسی کے چلاۓ کیسے چل سکتا ہے


نمبر 2 جو وجود خدا کا قائل ہے پر خدا کا تصور اس کے نزدیک وہ ہے جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ،جیسے کہ مجوسی اور صائب کہ یہ لوگ آگ اور ستاروں اور شمس و قمر کی پرستش کرتے ہیں جس کو خود بقاء حاصل نہیں ان پر ہر روز زوال طاری ہوتاہے حالاں کہ خدا تو وہ ہے جو زوال حوادث سے منزہ ومبرا ہو، ہمیشہ سے ہو اور ہمیشہ رہے گویا اس کے یہاں خدا کا وہ تصور نہیں جو اصل خدا ہے یہ ایسا ہے جیسے کہ صاحب حق کو محروم کرکے غیر مستحق کو حق دینا

جوکہ درست نہیں -


نمبر 3 جو وجود خدا قائل کا ہے مگر ساتھ ہی ساتھ شرکت کا بھی قائل ہے گویا ان کے مطابق خدا کے نائبین ہیں جوان کے سارے امور انجام دیتا ہے اور وہ اپنی ذات میں محتاج اور عاجز ہے جو کہ سراسر باطل ہے کیونکہ خدا تو وہ ہے جو قارد مطلق ہو کوئی چیز اس کے طاقت وقدرت سے باہر نہیں


ان اللہ علی کل شئی قدیر

بے شک اللہ تعالیٰ ہرچیز پر قادر ہے


عقل و مشاہدہ بھی اس بات کو گوارا نہیں کرتا کہ ایک ملک میں کئی بادشاہ اور ایک گھر میں کئی ممالک نہیں ہوتا کہ ملکی نظام یا گھریلو نظام خراب نہ ہو اور اختلاف قفسادات کا شکار نہ ہو، جب عاجز انسان میں بھی شرکت گوارا نہیں ہوتا تو بھلا بتائیے خدا جو عجز ونقص سے پاک و صاف ہے اپنی ذات وکمالات میں کامل ہے

اس کےلیے شرکت ثابت کرنا کیسے ممکن ہے یہ تو عقل ونص کے خلاف ہے

قرآن میں ہے

لوکان فیھما الھۃ الا اللہ لفسدتا

اگر زمین وآسمان میں اللہ کے سوا کوئی کوئی معبود ہوتا تو دونوں کا نظام برہم ہوجاتا

آپ دیکھ رہے ہیں کہ اب تک زمین وآسمان میں کوئی فساد واقع نہیں ہوا تو ثابت ہوا کہ خدا کے سوا کوئی معبود نہیں

اس نظریہ کے قائل وحامی یہود ونصاریٰ اور اصنام پرست ہیں


نمبر 4 جو وجود خدا کا قائل اور حقیقی خدا کا موحد بھی اس کی تمام باتوں کوبصدق دل قبول کرتاہے اور وہ مسلمان ہے-


ان چاروں نظریہ میں برحق مسلمان ہے کیونکہ انہوں نے حقیقی خدا کا تصور اپنایاجو کہ انصاف پرمبنی ہے

اور دیگر مذاہب نے چونکہ اپنی بنیادی اینٹ ہی ظلم پر رکھی ہے تو اس کا بھلا کسی منصف پر دہشت گردی کا الزام لگانا کیسے ٹھیک ہوسکتاہے


اگر اس کے الزامات کو قبول بھی کرلیا جاۓ تب بھی بینات وشواہد اس کے حمایت میں نہیں ہے

کیونکہ تاریخ کا ایک بڑا حصہ وہ ہے جنہوں نے ہمیشہ سے مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلی ہے شہیدمسلم کی ایک لمبی داستان تاریخ میں درج ہے، فلسطین واندلس، برما ،سیریا عراق وبخارا و سمرقند اور دیار ہند یہ سب برسوں سے غیروں کے ظلم وستم کی چکی میں پس رہے ہیں

تو بھلا بتائیں مظلوم کو ظالم ودہشت گرد قراد دینا فلسفیانہ خیال ہے جو بطلان پر مبنی ہے


اگر کسی مسلم حکمران نے اگر ظلم کیا ہے یاکوئی مسلمان کسی جرائم کا مرتکب ہوتاہوا پکڑا جاتاہے تو کوئی بھی مسلمان اس کے ظلم کی حمایت نہیں کرتاہے بلکہ اس کے ظلم کےخلاف ہی ہوتاہے


اس کو اسلام سے جوڑنا کہ اسلام اسی کی تعلیم دیتا ہےقطعاً درست نہیں


ایک ہے مذہبی تعلیم اور ایک ہے مذہبی شخص کا عمل دونوں میں تصادق وتوافق ہو یہ کوئی ضروری نہیں تفاوت ممکن ہے بلکہ اکثر تفاوت ہوتا ہے کیونکہ شیطانی حربہ ہمیشہ اس کے ساتھ وابستہ ہے

لہذا اسلام کی طرف دہشت گردی کی نسبت صرف اور صرف اسلام کوبدنام کرنا اور لوگوں کو غلط فہمی میں ڈال کر اس کو دھوکہ میں رکھنا ہے تاکہ کوئی قبول حق کی طرف پیش قدمی نہ کرے جوکہ قطعا درست نہیں


آئیے یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں لوگوں کو حق سے کیوں روکا جاتاہے

اس کے دو وجوہ صاف نظر آتے ہیں

نمبر 1 اپنی انانیت اور سرداری کےختم ہونے کا خوف

نمبر 2 یا اس کے پس پردہ اپنے کالے کرتوت اور جرائم کو چھپانا

یہود ونصاریٰ نے چونکہ خدائی کتاب واحکام اور نظریات میں تحریف کرڈالی اور بہت سی من گھڑت اور من مانی کام کیا جس کو چھپانا تھا اس لیے انہوں نے لوگوں کو اسلام کے خلاف کرنے کے لیے اسلام پر کیچڑ اچھالنے کی کوشش کی اور اب یہی کوشش دیگر مذاہب کے لوگ بھی کررہے ہیں ،

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی باتوں کو ماننا ان کی سرداری لیے خطرہ تھا چونکہ اسلام عدل ومساوات مبنی ہے جس جو اس کے لیے سراپا نقصان تھاکہیں ہماری ناک نہ کٹ جاۓ اور ہماری سرداری ختم نہ ہوجاۓ اسلیے انہوں نے ایسے حربے اپناۓ کہ اسلام کے خلاف زہر اگل کر اپنی سرداری بچاؤ اور اپنے جرائم کو چھپاؤ

یہود ونصاریٰ کو دیکھ کر دیگرمذاہب کےلوگوں نے بھی یہی عمل شروع کردیا جس کا نتیجہ یہ ہے کہ آج دیار ہند میں اسلام اور مسلمانوں کی طرف ایک ایسے لفظ کی نسبت کی جارہی ہے جس کا دور دور تک اسلام سے کوئی تعلق ورشتہ نہیں

یہ سرا سرا ناانصافی ہے جو کسی بھی منصف مزاج شخص کےلیے قطعاقابل برادشت نہیں

اس لیے ہمیشہ حق اور سچ کا ساتھ دینا چاہیے

اور

لوگوں سے گزارش ہےکہ حقیقت تک پہونچنے کےلیے سننے سے زیادہ منصف لوگوں کی تاریخ اور اسلام کی صحیح تعلیمات پڑھنے کوشش کریں تاکہ آپ غلط فہمی سے بچ سکیں اور حق کو قبول کرسکیں ، یہی باشعور اور اچھے لوگوں کا طرۂ امتیاز ہے


اللہ تعالیٰ اپنے تمام بندوں کو فہم سلیم اور فکر صحیح کی دولت سے آراستہ فرمائے اور ہدایت کے فیصلے فرمائے آمین ثم