*تہذیب دیکھی تھی ایک غریب کے گھر پر پھٹا سا دوپٹہ تھا لیکن سر پے تھا۔*
عیدِ قربان کا وہ مبارک اور بابرکت دن تھا جب اللہ کی رضا کی خاطر قربانی کا گوشت مستحقین تک پہنچانے کا جذبہ دلوں میں موجزن تھا، اسی جستجو میں، میں ایک غریب بستی کے ایک کچے اور بوسیدہ سے مکان میں داخل ہوا جہاں غربت کے آثار دیواروں سے جھلک رہے تھے، مگر وہاں داخل ہوتے ہی جو سکون اور اخلاقیات کا مشاہدہ ہوا اس نے میری سوچوں کے زاویے بدل دیے، ان غریب لوگوں نے جس خلوص اور عاجزی کے ساتھ مجھے پکا ہوا کھانا پیش کیا اور فاتحہ کے لیے بٹھایا، اس نے یہ ثابت کر دیا کہ مہمان نوازی اور تہذیب کا تعلق تجوریوں کی دولت سے نہیں بلکہ انسان کے ظرف اور کشادہ دلی سے ہوتا ہے، ان کے ہاں جو تقدس اور احترام کا ماحول تھا وہ آج کل کے بڑے بڑے محلات کی مصنوعی شان و شوکت میں ناپید ہوتا جا رہا ہے۔
اسی دوران جب میں وہاں موجود تھا، تو ایک چار پانچ سال کی کم سن بچی اپنے چھوٹے سے وجود پر ایک پھٹا پرانا سا دوپٹہ اوڑھے کمرے میں داخل ہوئی، اس بچی کی آنکھوں میں حیا کی جو چمک اور انداز میں جو وقار تھا اس نے مجھے گہرا متاثر کر دیا، *اس نے بڑی نفاست سے اس بوسیدہ اور جگہ جگہ سے پھٹے ہوئے کپڑے کو اپنے سر پر یوں سنبھالا جیسے کوئی ملکہ اپنے تاج کو سنبھال رہی ہو، اس منظر کو دیکھ کر میری زبان سے بے ساختہ یہ الفاظ نکل پڑے کہ تہذیب کبھی غربت نہیں دیکھتی، تہذیب تو صرف محل اور اخلاق کا معیار دیکھتی ہے، اس ننھی سی بچی نے عملی طور پر یہ ثابت کر دیا کہ تربیت کسی عالی شان بنگلے یا مہنگے اسکولوں کی محتاج نہیں ہوتی بلکہ یہ وہ گہرا جوہر ہے جو والدین اپنی اولاد کی روح میں ان کی پرورش کے دوران اتار دیتے ہیں۔*
آج کا دور عجب انتشار اور اخلاقی گراوٹ کا شکار ہو چکا ہے، جہاں فیشن اور جدیدیت کے نام پر حیا کو عیب اور دوپٹے کو قدامت پرستی کا نشان سمجھ لیا گیا ہے، *کتنے افسوس اور شرم کا مقام ہے ان عورتوں کے لیے جو اپنی بے حجابی کو روشن خیالی کا نام دیتی ہیں اور پردے کو اپنی ترقی کی راہ میں رکاوٹ سمجھتی ہیں،* یہ کیسی ترقی ہے کہ آج سر پر دوپٹہ ہونا ایک شرمندگی کی علامت بن گیا ہے، ایسے لوگوں کے لیے یہ ننھی بچی ایک چلتا پھرتا طمانچہ ہے *جو مرسڈیز جیسی مہنگی گاڑیوں میں بیٹھ کر بھی اپنی عریانیت کو فخر سے دکھاتی پھرتی ہیں، جن کی بیٹیاں تہذیب سے کوسوں دور ہو کر آزادی کے نام پر اپنی اقدار کا جنازہ نکال رہی ہیں، ان کے پاس دولت کے انبار تو موجود ہیں مگر کردار کی وہ دولت نہیں جو اس غریب بچی کے اس پھٹے ہوئے دوپٹے میں بستی ہے۔*
ہماری قوم کی ماؤں کا ماضی کتنا تابناک اور لائقِ تقلید تھا، وہ مائیں جو خود کو پردے کی آڑ میں ڈھانپ کر رکھتی تھیں اور بچوں کے سامنے بھی وقار اور حیا کا ایسا پیکر بن کر رہتی تھیں کہ اولاد کی آنکھوں میں بچپن سے ہی شرم و حیا کی ایسی آبیاری ہوتی تھی کہ وہ جوان ہو کر بھی خود بخود دیندار اور باکردار بن جاتے تھے، آج کی مائیں خود فیشن کی اندھی دوڑ میں اس قدر مگن اور بے پرواہ ہو چکی ہیں کہ اپنی اولاد کو یہ سکھانا ہی بھول گئی ہیں کہ اصل خوبصورتی نمود و نمائش، برانڈڈ ملبوسات یا بے پردگی میں نہیں بلکہ ڈھکے ہوئے بدن، پاکیزہ سیرت اور شرم و حیا کے زیور میں پوشیدہ ہے، *کیا آج کی مائیں کبھی بیٹھ کر یہ سوچنے کی زحمت کریں گی کہ وہ اپنی آنے والی نسلوں کو کیسا ورثہ سونپ رہی ہیں اور کیا یہی ہماری مسلم تہذیب کا خاصہ ہے۔*
آج اس منظر نے یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح واضح کر دی کہ انسان کی اصل پہچان اس کے پہننے والے کپڑے کی قیمت سے نہیں بلکہ اس کے اخلاق و کردار کی بلندی سے ہوتی ہے، یہ تہذیب کا وہ حسین پہلو ہے جو دنیا کی کسی مادی آسائش یا دولت کا محتاج نہیں، آئیے ہم اپنے گھروں میں اس بچی کی طرح حیا کا وہ چراغ دوبارہ روشن کریں جو صرف سر پر دوپٹے کا نام نہیں بلکہ روح کی پاکیزگی اور اللہ کے ڈر کا نام ہے، کیونکہ اصل تہذیب وہی ہے جو انسان کو خالقِ کائنات کے سامنے جھکنا سکھائے اور معاشرے میں وقار اور حیا کے ساتھ جینا سکھائے، اور جیسا کہ میں نے اس دن دیکھا اور محسوس کیا تھا کہ یہ دنیا وقتی ہے مگر حیا کا وہ زیور جو اس بچی نے اس عمر میں پہنا تھا، وہی اصل سرمایہ ہے جو انسان کو دونوں جہانوں میں سرخرو کرے گا، خدا کرے کہ ہماری آنے والی نسلیں فیشن کی اس اندھی تقلید سے نکل کر اس تہذیب کو اپنائیں جس میں ہماری بقا ہے، اور ہمیشہ یہ گواہی دیتی رہیں کہ *تہذیب دیکھی تھی ایک غریب کے گھر پر،پھٹا سا دوپٹہ تھا لیکن سر پہ تھا۔*
*✍️متعلم الجامعۃ الاشرفیہ✍️*