✍ محمد احسان موتیہاری
امت مسلمہ کی موجودہ حالت پر ایک گہری اور سنجیدہ نظر ڈالیں، تو یہ حقیقت آشکار ہوتی ہے کہ آج مسلم دنیا بےپناہ مشکلات، ظلم و استبداد اور ذلت سے دوچار ہے۔ اس وقت مسلمانوں کے خون سے زمین سرخ ہو رہی ہے، ان کی عزت و حرمت کی پامالی کی جا رہی ہے، ان کی مساجد شہید اور مکانات منہدم کیے جا رہے ہیں، اور اُن کے ایمان و عقائد پر ہر طرف سے حملے کیے جا رہے ہیں۔ آج امت مسلمہ بےسہارا اور بےبس نظر آتی ہے، گویا کہ یہ ایک عضو معطل ہو۔ کیا سبب ہے کہ یہ قوم، جو کبھی علم و فضل اور عظمت و قیادت میں ممتاز تھی اور جس کی پورے چہار دانگ عالم میں حکومت تھی، آج زوال و پستی کی گہرائیوں میں جا پہنچی ہے؟
قوتِ ایمانی اور اعمال صالحہ کی ضرورت
آج ہم وہی غلطیاں دہرا رہے ہیں جن کی بنا پر ابلیس رحمتِ خداوندی سے دور ہوا، اور جو ماضی کی امتوں کے زوال کا سبب بنیں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں ارشاد فرمایا ہے کہ "تم ہی غالب رہو گے اگر تم مومن ہو" نیز یہ بھی فرمایا کہ " تم میں سے جو لوگ ایمان لائیں اور اعمال صالحہ کریں ان سے اللہ وعدہ فرماتا ہے کہ ان کو زمین میں حکومت عطاء فرمائے گا۔ ان آیتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ تمکین اور استخلاف کے وعدے کا تعلق ایمان و اعمال صالحہ کے ساتھ ہے۔ لیکن جب امت مسلمہ نے اللہ کی نافرمانی، احکامِ الٰہی سے غفلت و لا پرواہی اور اللہ و رسول سے لا تعلقی کی ، تو ذلت و ہلاکت نے ہمیں اپنے شکنجے میں جکڑ لیا۔ اور جب ہم نے قرآن کو طاقوں کی زینت اور سنتِ نبوی کو چھوڑ کر غیر قوموں کے طرزِ زندگی کو اپنانا شروع کر دیا، صرف برائے نام مسلمان رہ گئے، اپنے ایمان و عزت کا سودا کر کے اپنا مقام و رتبہ کھو دیا، تو کثیر تعداد میں ہونے کے باوجود پستی و تنزلی کے شکار ہو گئے۔
وقتِ عمل اور سوچ کا تقاضا
آج ضرورت جزع فزع اور مایوسی کی نہیں، بلکہ سنجیدہ غوروفکر اور عملی میدان میں آنے کی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: "بیشک اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا، جب تک وہ خود اپنے حالات نہ بدلے"۔ فلاح و بہبودی اس میں ہے کہ ہم اپنی ذات اور اپنی صفوں میں اصلاح کا بیڑہ اٹھائیں، اپنے اتحادی دیوار کو مستحکم کریں۔ خود کو ایک حقیقی مسلمان بنائیں، صحابہ کرام کو اپنے لیے عملی نمونہ سمجھیں، اور اللہ و رسول سے اپنے تعلق کو مضبوط کریں۔ کیونکہ ہماری نجات کا راز یہی ہے کہ ہم احکامِ الٰہی اور سنتِ نبوی کو اپنا شعار بنائیں۔
دنیوی اسباب اور ایمان کی مضبوطی
ساتھ ہی اس بات کی بھی ضرورت ہے کہ ہم دنیوی اسباب اور حکمتِ عملی بھی اختیار کریں، مگر ہمارا ایمان و یقین محض مسبب الاسباب یعنی اللہ تعالیٰ کی ذات پر ہو۔ اگر ہم اپنی ایمانی حالت اور اعمال میں سچائی لائیں، تو یقیناً اللہ کی رحمتیں ہم پر نازل ہوں گی۔ مشکلیں آسان ہوں گی، فرشتے نصرت کو اتریں گے، اور کفر کے مقابلے میں امت مسلمہ کو پھر سے غلبہ حاصل ہوگا۔
اللہ سے دعا ہے کہ وہ امت مسلمہ کو صحیح فکر و عمل کی توفیق عطا فرمائے، ہمیں اللہ سے جڑنے، اپنے عمل کی اصلاح کرنے اور اتحاد و بھائی چارے کی راہ اپنانے کی توفیق دے، اور ہمارے حالات پر رحم فرمائے۔ آمین!