✍ محمد احسان موتیہاری
انسان مختلف رشتوں کے بندھن میں بندھا ہوا ہے، کسی سے خون کا تعلق ہوتا ہے تو کسی سے نسل کی نسبت ہوتی ہے اور کہیں قرابت داری کا ربط، لیکن دوستی ایک ایسا انمول رشتۂ دل ہے، جو نہ خون کا تقاضا کرتا ہے، نہ خاندانی نسب چاہتا ہے اور نہ ہی دنیاوی نسبت، یہ دل کے تاروں سے جڑنے والا وہ مقدس اور پاکیزہ تعلق ہوتا ہے جس کی اساس و بنیاد خالص محبت، آپسی وفاداری اور باہمی اعتماد و تعاون اور ایثار و قربانی ہر رکھی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دوست کا انتخاب انسان اپنی فطرت، طبیعت کے میلان ،اپنے ذوق و مزاج اور روح کی کشش کے مطابق کرتا ہے۔
بسا اوقات یہ رشتہ خونی رشتوں سے کہیں زیادہ گہرا ،مقدس اور پائدار ہوتا ہے۔ جہاں بھائی بازو ہوتا ہے وہیں ایک حقیقی دوست انسان کا دل و جان، ہمت و حوصلہ اور غمخوار و گم گسار ہوتا ہے، جو ہماری خوشیوں میں مسکراتا ہے تو غموں اور مصیبتوں میں ہمارا سہارا بن کر ہمیں تھام لیتا ہے، ہمارے مشکل اوقات اور ناگفتہ بہ حالات میں جب ساری دنیا ہم سے اپنا دامن بچاتی ہے وہ ہمارے شانہ بشانہ کھڑا رہتا ہے۔
دوستوں کی اہمیت اور اس کا کردار:
دوست ہماری بے رنگ زندگی کو خوشیوں سے رنگا رنگ کرتا اور جگمگا دیتا ہے، اس کا محض وجود ہی زندگی کو پر سکون اور سفرِ حیات کو خوشگوار بنانے کے لیےکافی ہوتا ہے۔
حقیقت یہ ہے اچھا دوست ایک ایسا نایاب تحفہ ہوا کرتا ہے جسے نصیب خوش بخت لوگوں کی تھیلی میں ہی ڈالا کرتی ہے، جو نہ دولت سے خریدا جا سکتا ہے، نہ عہدے سے حاصل کیا جا سکتا ہے اور ہی شہرت سے اس کا بدل بن سکتی ہے۔
جب انسان ہر طرف سے تھک ہار جاتا ہے ، توقعات کے روزن اور امیدوں کے دریچے بند ہو جایا کرتے ہیں ، تمناؤں کی ہری شاخیں حسرتوں کے بے رنگ کانٹے کا روپ دھار لیتے ہیں، ہر سمت اندھیرا ہی اندھیرا دکھائی دینے لگتا ہے ، دل کو تنگ اور دنیا کو بے رنگ محسوس کرنے لگتا ہے، تو مایوسی کے اس عالم میں ایک اچھا دوست ہی امید کا کرن بن کر نمودار ہوتا ہے، جو زمین کی پستیوں سے آسمان کی بلندیوں تک کا سفر طے کراتا ہے۔
بہتر دوست کی شناخت:
دنیا میں بیشتر لوگ دعوئ دوستی کیا کرتے ہیں، لیکن کہتے ہیں نا: ”ہر مسکرانے والا دوست اور ہر ساتھ کھڑا شخص خیر خواہ نہیں ہوتا۔“
حقیقی اور اصل دوست وہ ہے، جس کی صحبت اللہ کی یاد سے جوڑے، جس کی ہمنشینی دل میں نرمی اور خوف الٰہی کو جگائے، باتوں میں شیرینی پیدا کرے، جس کی گفتگو میں دلسوزی ہو، جس کے کردار میں خوف الٰہی جھلکے، جس کے پاس نشست و برخاست فکر آخرت کو بیدار کرے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صحابۂ کرامؓ نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کہ: ہم کس کی مجلس اختیار کریں؟
آپ ﷺ نے فرمایا:”وہ شخص جسے دیکھ کر تمہیں اللہ یاد آجائے، جس کی بات تمہارے عمل میں اضافہ کرے، اور جس کا عمل تمہیں آخرت کی یاد دلائے“
انسان کی شخصیت، اس کے کردار، اس کے دین اور اس کا زاویۂ غور و فکر ، اس کی طبیعت و مزاج کا اندازہ اور مدار اس کے انتخاب رفاقت سے معلوم ہوتا ہے۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"آدمی اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے، لہٰذا تم میں سے ہر شخص دیکھے کہ وہ کس سے دوستی کر رہا ہے۔"
اس کے ساتھ ہی دوست کا مخلص و وفادار اور خیر خواہ و غم گسار ہونا انتہائی ناگزیر ہے، جو آپ کو حسب ضرورت مفید مشورے سے نوازے، بوقت حاجت آپ کا ہاتھ تھام سکے، آپ کی بہتری کا خواہاں اور کامیابی کے لیے کوشاں رہے، جس پر آپ کی مسکراہٹ سے خوشی کا اثر اور غم سے اضطرابی کی کیفیت طاری ہو جائے۔۔۔۔۔۔۔
دوست کی آزمائش:
دوست کا اصل پہچان خوشیوں کی محفلوں میں نہیں ہوتا اس کا امتحان تو راہِ زندگی کے نشیب و فراز میں ہی ہوتا ہے کہ جوکھم بھرے تلخ گھڑی میں وہ آپ کے ساتھ رہتا ہے یا پشت دکھاتا ہے ۔غلط فہمیوں کو دوری اور دشمنی کا ذریعہ بناتا ہے یا اس کو دفع کرکے اپنے پاکیزہ رشتہ کی حفاظت کرتا ہے۔
اپنے دوست کی فرو گزاشت اور غلطیوں کو یوں ہی نظر انداز کرتا ہے یا مناسب وقت پر سنجیدگی کے ساتھ مخلصانہ رہنمائی کرتا ہے، کمزوریوں اور خامیوں کو پس پردہ رکھتا ہے یا سر بازار اس کی تشہیر کرتا ہے۔
یہی صحیح وقت ہوتا ہے ایک دوست کے امتحان کا، تحفہ اور آزمائش میں امتیاز و فرق کا، اور اچھے برے کی شناخت کا۔
دوست کے انتخاب میں احتیاط:
اس لیے انسان کو چاہیے کہ کسی سے رشتۂ رفاقت کا پلو باندھنے سے قبل اس کی تحقیق و تفتیش کر لیا کریں، ورنہ زندگی پرسکون اور پر لطف ہونے کی بجائے اجیرن بن سکتی ہے، آپ کا دشمن دوست کی شکل میں زخمی کر سکتا ہے، آپ کی رازوں اور پنہاں باتوں سے واقف ہو کر آپ کے لیے غیر متوقع ضرر رساں ہو سکتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اچھے لوگوں کا ہم صحبت اور ہم مجلس بنائے اور ہم کو مخلص و وفادار دوست عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین