✍ محمد احسان موتیہاری
کتابیں انسان کو نئی زندگی بخشتی ہیں، تخیل کو پرواز دیتی ہیں، دماغ میں سکون و راحت کی فضا قائم کرتی ہیں اور دونوں جہاں کی معلومات فراہم کرتی ہیں۔ یہ ذہن کی پرتیں کھولتی اور فہم و ادراک کے زاویے کو بدل دیتی ہیں۔ یہ ضیاعِ وقت سے محفوظ رکھنے کا بہترین ذریعہ ہیں، اور ایک ایسی بے مثال سواری ہیں جو انسان کو بیٹھے بٹھائے پوری دنیا کی سیر کراتی ہیں۔ جسے کتاب کی دوستی نصیب ہو جائے، اسے اس کے بغیر چین نہیں آتا۔ یہ غم و اُکتاہٹ کو مٹا دیتی ہیں، الجھنوں کو دور کرتی ہیں اور مسائل کا حل پیش کرتی ہیں۔
*کتاب اور انسان*
کتاب محض اوراق کا ڈھیر نہیں بلکہ زندگی کی راہوں کو روشن کرنے والا چراغ ہے۔ یہ انسان کی تنہائی کی ہم نشین، اس کے خوابوں کی تعبیر اور فکر و دانش کا سفینہ ہے۔
یہ سفر و حضر کی بہترین ہم سفر ہے، ایسا رفیق جس کی رفاقت میں دغابازی کا اندیشہ نہیں، اور ایسی محبوبہ جس کی محبت میں بے وفائی کا شائبہ نہیں۔
شاعرِ متنبی نے کہا ہے: ”خير جليس في الزمان كتاب“ یعنی کتاب انسان کا بہترین ساتھی ہے۔
صدیوں کے تجربات اور انمول خزانے کتاب کے سینے میں محفوظ ہوتے ہیں، جو نسل در نسل انسان کو بصیرت عطا کرتے ہیں۔ یہ ذہن میں وسعت و کشادگی پیدا کرتی ہے، معاملہ فہمی اور اصابتِ رائے کا مادہ بیدار کرتی ہے اور ہماری فکری گرہیں کھول دیتی ہے۔
کتابیں انسان کو جہالت کی تاریکی سے نکال کر شعور کی روشنی عطا کرتی ہیں، اس کے اخلاق کو نکھارتی اور سوچ کو مہذب بناتی ہیں۔ یہ ایک کھڑکی ہیں جن سے ہم دنیا کو دیکھتے ہیں، اور ایسا خاموش استاد ہیں جو دلوں میں علم و محبت کی خوشبو بکھیرتا ہے۔
*مطالعہ کے فوائد*
مطالعہ مختلف زمان و مکان کی سیر اور گوناگوں شخصیتوں سے ہم کلامی کے مترادف ہے۔ یہ دل و دماغ کو معطر کرتا، انسان کو دوسروں سے ممتاز بناتا اور زندگی کو نیا شعور عطا کرتا ہے۔ مطالعہ دماغ کو تیز کرتا ہے، تخیل کو متحرک کرتا ہے، روح کو جوش دیتا ہے اور نظر کو پاک کرتا ہے۔
کہا جاتا ہے کہ مطالعہ کرنے والے مرنے سے پہلے ہزار زندگیاں جی لیتے ہیں، اور جو مطالعہ نہیں کرتے وہ صرف ایک ہی زندگی جیتے ہیں۔ یہ ایک حسین حقیقت ہے۔ کتابیں ہمیں ہنساتی بھی ہیں، رُلاتی بھی ہیں، خواب بھی دکھاتی ہیں اور خواب کو شرمندۂ تعبیر کرنے کا جذبہ بھی جگاتی ہیں۔
*خوشبوئے کتاب*
اگر کتابوں کو سونگھا جائے تو کتبِ اسلامی سے دین کی خوشبو، تاریخ سے قربانی کی مہک، فلسفے سے زندگی کی روشنی، جغرافیہ سے مٹی کی باس، سائنس سے منطق کی سختی، ٹیکنالوجی سے جدت کی چمک، معاشیات سے معیشت کی حقیقت، نفسیات سے رویّوں کی جھلک اور ادب سے عشق کی چاشنی محسوس ہوتی ہے۔
*کتاب سے دوری کے مضرات*
جب انسان کتابوں سے بے توجہی اور بے اعتنائی برتتا ہے تو وہ ضلالت و جہالت کی وادیوں میں جا گرتا ہے۔ پست فکر، سطحی سوچ اور بے مقصد زندگی اس کا مقدر بن جاتی ہے۔ وہ فضولیات، لغویات اور کھیل کود میں اس قدر محو ہو جاتا ہے کہ نہ اپنے مقصد کی فکر باقی رہتی ہے اور نہ مستقبل کا شعور۔
لہٰذا انسان کو چاہیے کہ وہ کتاب کو اپنا حقیقی دوست اور محبوب بنائے، تاکہ وہ اسے فضولیات سے محفوظ رکھ کر کامیابی کی راہوں پر گامزن کرے۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو باشعور، صاحبِ فکر اور وقت کا قدردان بنائے، اور کتاب کو ہمارا بہترین رفیق و ہم سفر بنائے۔
آمین ثم آمین