*علاماتِ مہدی کی روشنی میں شکیلیت کا مکمل پوسٹ مارٹم*
✍🏻 محمد پالن پوری
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
فریبِ راہ بتاتے ہیں رہزنوں کے چراغ
سفر میں آنکھ بڑی احتیاط چاہتی ہے
جب بھی کوئی شخص اپنے آپ کو مہدی کہہ کر امت کی آنکھوں میں دھول جھونکنے نکلتا ہے تو سب سے پہلے اسے اسی میزان کے سامنے لایا جاتا ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدیوں پہلے نصب کر دی تھی، جو جھوٹے مدعیان کے ہزاروں دعوے بازیوں کو ایک لمحے میں پاش پاش کر دیتی ہے۔۔۔۔
حقیقی مہدی کی پہلی اور بنیادی علامت یہ ہے کہ وہ سیدۃ النساء فاطمہ رضی اللہ عنہا کی نسل سے ہوں گے، قریشی ہوں گے، ان کا نسب روشن ہوگا، تاریخ کے اوراق میں جگمگاتا ہوا نہ کہ کسی ایسے شخص کی مانند جسے اپنی خاندانی شناخت بھی واٹس ایپ کی قسطوں میں بنانی پڑتی ہو۔ جہاں سے نسب کی روشنی بجھ جائے مہدی کا دعویٰ وہیں مر جاتا ہے اور شکیلیت کا محل ابتدائی کڑی ہی میں زمین بوس ہو جاتا ہے۔۔۔۔۔
دوسری علامت یہ ہے کہ مہدی کا اسمِ مبارک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسم سے مشابہ ہوگا محمد بن عبد اللہ یہ مشابہت محض زبان کا اتفاق نہیں بلکہ تقدیر کا انتخاب ہے جبکہ شکیلیت میں نام بھی نہیں ملتا، نہ معنی میں نسبت، نہ حقیقت میں کوئی ربط صرف کھوکھلا دعویٰ اور بے بنیاد تعبیرات کا شور۔۔۔
تیسری علامت یہ ہے کہ مہدی خود اعلان نہیں کرتے کہ مہدی ہوں بلکہ لوگ انہیں پہچان لیتے ہیں، زبردستی انہیں بیعت کے لیے پکڑتے ہیں، وہ خود سے تخت نہیں مانگتے بلکہ ذمہ داری ان پر ڈالی جاتی ہے جبکہ شکیل اپنی مہدویت کا پروسپیکٹس تک خود تیار کرتا ہے، اعلان بھی کرتا ہے، پیغامات بھی چلاتا ہے اور اپنی ہی پیشانی پر خود ہی تاج رکھ کر کہتا ہے کہ قبول کرو، یہی میں ہوں! جسے خود اپنی زبان سے اپنے لیے مقدمہ لڑنا پڑے وہ مہدی کہاں، کسی سستی شہرت کا بھکاری زیادہ لگتا ہے۔۔۔۔۔۔
چوتھی علامت یہ ہے کہ مہدی مدینہ کے باشندے ہوں گے، ان کا ظہور بھی اسی پاک شہر میں ہوگا، پھر ان سے کعبہ کے پاس بیعت لی جائے گی۔ جبکہ شکیلیت کا ظہور مدینہ کی گلیوں میں نہیں بلکہ یوٹیوب کے تبصروں، اپنی خفیہ و رازدارانہ دعوتوں اور بوسیدہ خوابوں میں ہوتا ہے جس کی حقیقت کا سب سے بڑا دشمن اس کا اپنا ماضی ہوتا ہے۔۔۔
پانچویں علامت یہ ہے کہ مہدی کے ظہور کے وقت زمین ظلم سے بھر جائے گی اور وہ زمین کو عدل سے بھر دیں گے۔ یہ انقلاب عالمی ہوگا، ریاستی پیمانے پر ہوگا اور یوں ہوگا کہ زمانہ بدلتا ہوا دکھائی دے گا۔ جبکہ شکیلیت کے گرد نہ عدل کی لہر نظر آتی ہے نہ ظلم کے خاتمے کی کوئی جھلک۔ نہ ریاست بدلتی ہے، نہ تہذیب، نہ معاشرہ صرف اس کے فالوورز کی اندرونی دنیا کا غبار ہی اڑتا ہے۔۔۔۔۔۔
چھٹی علامت یہ ہے کہ مہدی سات سال تک حکومت کریں گے اور زمین پر ایسی خوش حالی آئے گی کہ کوئی فقیر باقی نہیں رہے گا جبکہ شکیلیت میں تو گھر کے دو کمرے بھی خوش حالی نہیں دیکھ پاتے اور نہ شکیلیت کے ماننے والوں میں کوئی ایسی تبدیلی آتی ہے جو آسمانی نصرت کی علامت کہلائے سوائے ذہنی افلاس اور عقلی دیوالیہ پن کے۔۔۔۔۔
ساتویں علامت یہ ہے کہ مہدی صفتِ قیادت، علم، صلاح، عدالت اور تقویٰ کے پہاڑ ہوں گے، ان کے سینے پر نور کا دریا بہے گا اور شکیلیت کا حال یہ ہے کہ قرآن کی بنیادی آیات کا ترجمہ تک غلط، احادیث کی سند کا علم صفر اور کردار ایسا کہ اگر سوشل میڈیا ہٹادیں تو اس کے ماننے والے خود ہی پوچھ بیٹھیں کہ یہ شخص آخر ہے کون؟جناب پرانا کردار چھپانے سے مہدی نہیں بنا جاتا اور نیا کردار سجا لینے سے ولایت نہیں مل جاتی۔۔۔۔۔۔۔
آٹھویں علامت یہ ہے کہ مہدی کے ساتھ آسمانی نصرت ہوگی، زمین ان کے لیے سکڑ جائے گی، فتوحات ان کے قدم چومیں گی، جنگیں ان کی تکبیر سے پلٹ جائیں گی جبکہ شکیلیت کا دامن تو ایک FIR کی آندھی بھی نہیں سنبھال سکتا، دنیا کا نظام بدلنا تو دور کی بات ہے۔۔۔۔۔
نویں علامت یہ ہے کہ مہدی اور عیسیٰ یہ دونوں الگ الگ شخصیات ہیں جبکہ یہ شکیل کہتا ہے کہ میں مہدی بھی اور عیسیٰ بھی۔۔۔۔۔
دسویں اور فیصلہ کن علامت یہ ہے کہ مہدی فتنے نہیں پھیلاتے، فتنے ختم کرتے ہیں جبکہ شکیلیت کا وجود ہی فتنے کا دوسرا نام ہے۔ خاندان ٹوٹتے ہیں، ذہن بگڑتے ہیں، لوگ دین کے اصل راستے سے ہٹ جاتے ہیں، تفرقہ بنتا ہے اور ہر جگہ ایک ایسا انتشار جنم لیتا ہے جسے صرف کمزور عقل قبول کرتی ہے اور مضبوط ایمان ٹھوکر مار دیتا ہے۔۔۔۔
حقیقت یہ ہے کہ جب مہدی کی تمام علامات کو ایک ایک کرکے شکیلیت کے سامنے رکھا جائے تو یہ دعویٰ ایسے گل جاتا ہے جیسے تیز دھوپ میں جھوٹ کا جالا۔ نہ نسب ملتا ہے، نہ جگہ ملتی ہے، نہ حالات ملتے ہیں، نہ کردار، نہ قوت، نہ تقویٰ، نہ علم پھر دعویٰ کہاں سے لائیں؟۔۔۔
علاماتِ مہدی آفتاب کی طرح روشن ہیں اور شکیلیت ان کے مقابل ایک بجھا ہوا دیا بھی نہیں بلکہ صرف دھوئیں کی ایک کمزور لکیر ہے۔ سچ یہی ہے کہ مہدی کا ظہور امت کی امید ہے جبکہ شکیلیت امت کا دھوکہ۔ مہدی زمین کو عدل سے بھرتے ہیں اور شکیلیت عقلوں کو فتنوں سے۔۔۔۔۔۔۔
*ہر ایک دور میں پیدا ہوئے ہیں دجّال بہت*
*خدا بچائے ہمیں ان کے ہر وبال سے*