کیا کچھ نہیں سوچتے ہم اپنے بارے میں
کیسے کیسے سپنے دیکھتے ہیں
پر کبھی کبھی خوابوں کے سگنل 🚦 کی بتّی بھی سرخ ہو جاتی ہے
اور پھر حقیقت طۓ کرتی ہے راستے بھی اور منزل بھی
وہ کہتے ہے نا کہیں پہچنے کے لیئے کئ سے نکلنا پہلی شرط ہے
خوابوں کی دنیاں سے باہر نکلو اور حقیقت کا سامنا کروں آگے بڑھوں آگے بڑھوں
عاصم نفیس