*لڑکی جننے(پیدا کرنے)والی بیوی منحوس کیوں معاشرے میں*؟
میری تحریر پڑھ کر کچھ کلاس کے دوستوں کی طرف سے مجھے اس موضوع پر لکھنے کے لئے کہا گیا (*جزاكم الله خيرا كثيرا و احسن الجزاء في الدارين يا اصدقائ*)،میری پوری تحریر کا انحصار صرف اس مذکورہ ڈائگرام پر ہے، جس کو میں نے بنایا ہوا ہے جو سائنس سے منسلک طلبہ ہیں انکے لیے بہت آسان ہے اس کا سمجھنا۔
اولا ہم قرآن پاک کا مطالعہ کریں، اور قرآن سے پوچھتے ہیں اے قرآن کچھ لوگ لڑکی جننے والی عورت کو منحوس سمجھتے ہیں کیا یہ صحیح ہے یا غلط؟ ہماری راہنمائی فرما۔
دلــــــــــــــــــــــائـــــــــــــــــــــــــــل:
(1) اللہ کریم قرآن مجید فرقان حمید میں ارشاد فرماتا ہے(انا خلقناكم من ذكر و أنثى الخ )یقینا ہم نے تمہیں مرد اور عورت پیدا کیا ہے،
(2) اللہ َلَقَكُمْ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُطْفَةٍ ثُمَّ جَعَلَكُمْ أَزْوَاجًا وَ مَا تَحْمِلُ مِنْ أُنْثَى وَ لَا تَضَعُ إِلَّا بِعِلْمِهِ الخ: یعنی اللہ نے تم کو مٹی سے پیدا کیا پھر نطفہ سے پھر تم کو جوڑے جوڑے بنایا اور مادہ جو حمل پاتا ہے اور وہ جو(پیدا کرتی)جنتی ہے سب اللہ جل جلالہ کے علم سے ہوتا ہے،
(3)(هُوَ الَّذِیْ یُصَوِّرُكُمْ فِی الْاَرْحَامِ كَیْفَ یَشَآءُؕ-لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ) یعنی:وہی ہے کہ تمہاری تصویر بناتا ہے ماؤں کے پیٹ میں جیسی چاہے اس کے سوا کسی کی عبادت نہیں عزت والا حکمت والا۔
ان آیات کی تفسیر میں تمام مفسرین کا قول یہی ہے کہ لڑکا اور لڑکی پیدا فرمانا یہ صرف و صرف اللہ ہی کا کام ہے، گورا ،کالا، خوبصورت، بدصورت، سب اللہ پیدا فرماتا ہے،تو معلوم ہوا کہ قرآن منع کرتا ہے کہ یہ مرد اور عورت میں سے کسی کا کام نہیں کسی کی غلطی نہیں نا عورت کی نا مرد کی بلکے یہ اللہ کی شان ہے جسے چاہتا ہے لڑکی پیدا فرماتا ہے اور جسے چاہتا ہے لڑکا پیدا فرماتا ہے،اور یہی ہمارا ایمان ہے، قرآن پاک کی اور بیشمار آیات آپکو قرآن کریم سے حاصل ہو جائیں گی جو اس موضوع پر دال ہیں، *لیکن وقت کی قلت اور مضمون کو طوالت سے محفوظ رکھنے کے لئے کم ہی پر اقتصار کر رہا ہوں* یہ تمام آیات دال ہیں اس بات پر کہ اللہ کریم عطا فرماتا ہے بیٹا، اور بیٹی اور یقینا یہ اللہ ہی کی شان ہے۔
*اب میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ بھائی آپ نے آخر کیوں اس لڑکی پیدا کرنے والی عورت کو منحوس سمجھا کیا یہ اس کے ہاتھ کا کام ہے کہ جیسا چاہے پیدا کرے اگر چاہے تو لڑکی پیدا کرے چاہے تو لڑکا پیدا؟**
اے گھر کے تمام افراد آخر آپنے کیوں یہ حکم لگا دیا کہ جب سے آئی ہے لڑکیوں کا ڈھیر لگا دیا آخر آپنے کیوں طعنہ و تشنیع کرکے اس درد کی ماری عورت کو گھر میں جھنم کے دہانے پر کھڑا کردیا اور یہ بار بار اس بچی کو جنم دینے پر شرمندہ ہے باوجودیکہ قرآن کریم کی یہ آیات اس بات پر دال ہیں کہ لڑکی اور لڑکا پیدا کرنا یہ اللہ کی شان ہے پھر آپنے کیوں اسکو قصوروار ٹھہرایا آخر آپ کہنا کیا چاہتے ہو اس عورت سے جو تمہاری منشا ہو وہ پیدا کرے تم چاہو لڑکا تو لڑکا پیدا کرے تم چاہو لڑکی تو لڑکی پیدا کرے؟
اگر تمام کائنات زور لگائے پھر بھی ایسا نہیں کر سکتی یہ صرف و صرف اللہ کی شان ہے وہ جیسا چاہتا ہے پیدا فرماتا ہے،جب اللہ کا یہ فیصلہ ہے تو آپ کون ہوتے ہو اسے منحوس سمجھنے والے، آپ کون ہوتے ہو اسے طعنہ و تشنیع کرنے والے،
*آخر آپنے منحوس سمجھا کیوں؟؟*
یہ لڑکی تمہارے گھر کا مال لے جائے گی، یہ تمہاری دولت کو جہیز میں لے جائے گی، یہ تمہیں کما کر نہیں دے سکتی،یہ تمہاری کمائی ہوئی دولت کو اپنے ساتھ لے جائے گی،خدارا اللہ کا خوف کریں اللہ کے یہاں بھی جواب دینا ہے۔
تمام عمر کا خالق حساب مانگیں گا
بقہر و جبرو عتاب و شتاب مانگیں گا
ابھی سے خود کو بناؤ جواب کے قابل
وہ ہر سوال کا تم سے جواب مانگیں گا۔
بچی پیدا کرنے پر عورت کو طعنہ و تشنیع کا مرکز سمجھنے والوں، یہ اسکے ہاتھ کا کام نہیں یہ اللہ کی شان ہے،
*موضوع کی طرف مزید وضاحت*
اولا تو مجھے تمہاری بات ہی تسلیم نہیں کہ وہ عورت خطاکار ہے جس نے بچی کو جنم دیا کیوں کہ قرآن سے فیصلہ ہو چکا ہے کے لڑکی اور لڑکا پیدا کرنا اللہ کی شان ہے اور یہی فیصلہ اٹل اور مضبوط ہے، ہم ایمان والوں کے لئے، مگر چلو طعنہ و تشنیع والے لوگوں کی بات کو بھی چیک کرتے ہیں کہ جس نظریہ سے وہ بات کہتے ہیں کیا وہ کسی حد تک ٹھیک ہے یا نہیں؟ بفرض محال اگر اس بات کو تسلیم بھی کر لیا جائے کہ تم نے بچی پیدا کرنے پر اس عورت کو خطاکار قرار دیا،
تو اس میں خطاکار کون یہ عورت جس نے بچی کو پیدا کیا ہے؟
اب میرے ڈائگرام کی طرف چلتے ہیں جس ڈائگرام کو میں نے آخذ کیا ہے دسویں کلاس کی سائنس کی کتاب سے۔
اس میں سائنسداں کا کہنا یہ ہے کہ دو مادۂ منویہ عورت میں پائے جاتے ہیں اور دو مادۂ منویہ مرد میں پائےجاتےہیں، عورت میں کیا مادے پائے جاتے ہیں؟ اور مرد میں کیا مادے پائے جاتے ہیں؟ سائنسدان کے مطابق سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
آو سنو: عورت میں پائے جانے والا مادۂ منویہ دو ہیں،اور دونوں ایک ہی طرح کے ہیں جنہیں سائنسدان(xx)سے تعبیر کرتے ہیں,
مرد میں پائے جانے والے مادۂ منویہ بھی دو ہوتے لیکن دونوں الگ الگ ہوتے ہیں، جنہیں سائنسدان(xy)سے تعبیر کرتے ہیں۔
لڑکے اور لڑکی کا وجود:
*اب سائنسدان کا کہنا یہ ہے کہ جب مرد کا مادۂ منویہ x عورت کے مادۂ منویہ x سے ملتا ہے تو لڑکی کا وجود ہوتا ہے**
میں پہلے ذکر کر چکا ہوں کہ عورت کے دونوں مادے ایک جیسے ہوتے یعنی(xx)
*آگے چلیں جب مرد کا مادۂ منویہ y عورت کے مادۂ منویہ x سے ملتا ہے تو لڑکے کا وجود ہوتا ہے*
تو مطلب یہ ہوا جب سیکس کے دوران مرد کا مادۂ منویہ x نکلے گا تو لڑکی کا وجود اور جب مرد سے خارج ہونے والا مادۂ منویہ y ہوگا تو لڑکے کا وجود تو معلوم ہوا کہ لڑکے اور لڑکی کے وجود کا دار و مدار مرد پر ہے نا کہ عورت پر تو طعنہ و تشنیع کرنے والے لوگوں کے مطابق اور سائنسدان کے مطابق تو خطاکار مرد ٹھہرا نا کے عورت اپنا بوجھ اتار کر عورت پر ڈالنا چاہتے ہو۔
اب میں کہنا چاہوں گا او بھائی کی منہ بگاڑنے والی بہن او بھائی کے بھائی او بھائی کے باپ او بھائی کی ماں او بھائی کی پھوپھی تمہارے بقول خطاکار یہ عورت نہیں بلکہ تمہارا بھائی ہے اب اسے منحوس سمجھو اب اسے گالیاں دو اب اسے طعنہ و تشنیع کرو اب اسے گھر سے باہر نکال دو😡
یا اگر تمہیں لڑکا چاہیے تو کہو اپنے اس بھائی اپنے اس بیٹے اپنے اس بھتیجے سے کے وہ مادۂ منویہ y کا اخراج کرے کائنات کی نانی مر جائے گی پر یہ کبھی بھی نہیں کر سکتے یہ صرف اس وحدہ لا شریک کی ذات ہے جسے چاہتا ہے بیٹا عطا فرماتا ہے اور جسے چاہتا ہے بیٹی عطا فرماتا ہے۔
خدارا بھائی بس سمجھانا مقصد تھا اور کچھ بھی نہیں آخر ہم کیوں ہو گئے ایسے آخر ہم کیوں بھول گئے خدا کو آخر ہم کیوں ان یہود و نصارٰی والی حرکتیں کرتے ہیں؟
اب ہو جاؤ خدا تعالٰی کے فیصلے پر راضی اب کہو کہ یہ اللہ ہی کی شان ہے کہ وہ جسے چاہتا ہے بیٹا عطا فرماتا ہے اور جسے چاہتا ہے بیٹی عطا فرماتا ہے اور اس کا ہر فیصلہ حق اور ہمارے حق میں بہتر ہے اور وہی بہترین کارساز ہے
اپنی پسند کا بھی اظہار کریں؟
جزاکم اللہ خیرا کثیرا و احسن جزائکم فی الدارين۔
اللہ کریم ہمیں سوچنے سمجھنے کی توفیق بخشے اور اپنے فیصلوں پر راضی ہونے کی توفیق بخشے،
آمین بجاہ النبی الکریم ﷺ۔
*✍️ متعلم الجامعۃ الاشرفیہ ✍️*