انسانی دنیا پر مسلمانوں کے عروج وزوال کا اثر

شائع شدہ: 28 Nov, 2025

(خلاصہ و تجزیہ از کتاب: ماذا خسر العالم بانحطاط المسلمین، مصنف: مولانا ابوالحسن علی ندویؒ)

✍🏻 ابو خالد قاسمی


دنیا تغیر و تبدل کی آماجگاہ ہے۔ وقت کا پہیہ ہر لمحہ گردش میں ہے، سلطنتیں بدلتی ہیں، قومیں ابھرتی ہیں، تہذیبیں بنتی اور مٹتی ہیں، مگر اللہ کی ذات ازل سے ابد تک قائم و دائم ہے۔

انسان کی اجتماعی زندگی بھی کبھی مسرتوں سے لبریز ہوتی ہے تو کبھی آلام و مصائب کا شکار۔ کبھی عروج نصیب ہوتا ہے، کبھی زوال مقدر بنتا ہے۔

لیکن اس تغیر و تبدل میں ایک اصول ہمیشہ باقی رہتا ہے:

"اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا، جب تک وہ خود اپنی حالت کو نہ بدلے۔" (سورۃ الرعد: 11)

یہی اصول مولانا ابوالحسن علی ندویؒ نے اپنی شہرۂ آفاق تصنیف "ماذا خسر العالم بانحطاط المسلمین" میں پوری قوت سے بیان کیا ہے — کہ دنیا کی تاریخ دراصل اسلام کے عروج و زوال کی کہانی ہے۔

جب مسلمان بامقصد، صالح اور خدا پرست رہے تو پوری دنیا کو ان کے وجود سے فائدہ پہنچا، اور جب وہ خود زوال پذیر ہوئے تو انسانیت کے تمام گوشوں پر اندھیرا چھا گیا۔

قبلِ اسلام کا عالمی منظرنامہ

بعثتِ نبوی سے قبل انسانیت زوال کی آخری انتہاؤں کو چھو چکی تھی۔

روحانیت کا چراغ بجھ چکا تھا، دنیا کی بڑی قومیں — فارس و روم — مادی عیش و عشرت میں ڈوبی ہوئی تھیں۔

عدل و انصاف کا کوئی تصور باقی نہ رہا تھا، طاقت ہی قانون بن چکی تھی۔

جہاں علم و فلسفہ تھا وہاں ایمان نہ تھا، جہاں عبادت و رہبانیت تھی وہاں دنیا سے فرار اور انسانیت سے بے نیازی تھی۔

عالمِ عرب کا حال اس سے بھی زیادہ ناگفتہ بہ تھا۔

بت پرستی، شراب نوشی، جاہ و مال کی دوڑ، بے انتہا قبائلی عصبیت، اور عورتوں پر ظلم — یہی ان کی شناخت بن چکی تھی۔

چھوٹی چھوٹی باتوں پر سالہا سال جنگیں ہوتی تھیں۔

عورتوں کو وراثت کا حق نہ تھا، بلکہ انہیں باعزت انسان نہیں بلکہ سامانِ لذت سمجھا جاتا تھا۔

ایسا لگتا تھا کہ دنیا اخلاقی و روحانی موت کا شکار ہوچکی ہے۔

بعثتِ نبوی اور انقلابِ انسانی

ایسے تاریک دور میں رحمتِ عالم ﷺ تشریف لاتے ہیں۔

آپ ﷺ کی آمد سے انسانیت کو زندگی، ضمیر کو بیداری، اور روح کو روشنی ملی۔

آپ ﷺ نے اہلِ عرب کو جہالت و ظلمت کی پستی سے نکال کر ہدایت و معرفت کی بلندیوں تک پہنچا دیا۔

پہلے جن کے نزدیک "انصر اخاک ظالماً او مظلوماً" کا مطلب یہ تھا کہ اپنے قبیلے والے کی مدد کرو خواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم،

انہی لوگوں کو آپ ﷺ نے سکھایا کہ:

ظالم کی مدد یہ نہیں کہ اس کے ظلم میں ساتھ دیا جائے بلکہ یہ ہے کہ اسے ظلم سے روکا جائے۔

یوں عدل، رحمت اور مساوات کا ایک نیا دور شروع ہوا۔

اسلام نے انسان کو رب کی بندگی، مخلوق کی خدمت، اور نفس کی اصلاح کا سبق دیا۔

دنیا نے پہلی بار دیکھا کہ دین محض عبادت نہیں بلکہ زندگی کا مکمل نظام ہے، جو روحانی بھی ہے، اخلاقی بھی، سماجی بھی اور سیاسی بھی۔

اسلامی عروج اور انسانیت کی نجات

اسلامی انقلاب کا سب سے بڑا کارنامہ یہ تھا کہ اس نے انسان کو انسان سے جوڑ دیا۔

اس نے غلاموں کو آزادی دی، عورتوں کو عزت دی، امیروں کو تقویٰ کا درس دیا، اور حکمرانوں کو انصاف کا پابند بنایا۔

حکومتِ راشدہ نے دنیا کو یہ دکھایا کہ اقتدار کا اصل مقصد خدمتِ خلق ہے نہ کہ ذاتی عیش۔

پھر وہ وقت آیا جب صحابۂ کرامؓ کے قافلے دنیا کے گوشے گوشے تک پہنچ گئے۔

انہوں نے تلوار سے نہیں بلکہ عدل، کردار، علم اور اخلاق سے دل جیتے۔

دنیا میں ایک نیا توازن پیدا ہوا —

جہاں پہلے ظلم و استبداد کا راج تھا، وہاں اب عدل و قسط کی حکومت قائم ہوئی۔

جہاں جاہ و طبقاتی فرق سے انسانیت تقسیم تھی، وہاں سب برابر ٹھہرے۔

تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ مسلمان جہاں بھی گئے، وہاں کے انسانوں کو امن، علم، انصاف اور وقارِ انسانی ملا۔

اسلام نے دنیا کو خدا پر ایمان، انسان سے محبت، اور علم سے روشنی دی۔

مسلمانوں کے زوال کا آغاز

مگر جب یہی امت روح کے بجائے جسم کی غلام بن گئی،

ایمان کے بجائے دولت، علم کے بجائے جاہ و منصب کی پرستار بن گئی،

تو اس کا زوال شروع ہوگیا۔

اسلام جو کبھی دنیا کا مرکزِ ہدایت تھا، رفتہ رفتہ مغرب کی اندھی تقلید کا شکار ہوگیا۔

حکومتیں قائم رہیں مگر روحِ ایمانی ختم ہوگئی۔

امت کی وحدت پارہ پارہ ہوگئی، اور خود مسلم دنیا مغربی طاقتوں کی سیاسی و فکری غلام بن گئی۔

مولانا ندویؒ فرماتے ہیں:

"دنیا کا سب سے بڑا خسارہ یہ نہیں کہ مسلمانوں کی سلطنتیں ختم ہوئیں، بلکہ یہ ہے کہ انسانیت ایمان و اخلاق کے سائے سے محروم ہوگئی۔"

موجودہ دور اور عالمِ عرب کا امتحان

آج افسوس ہے کہ وہی عالمِ عرب جو کبھی وحی کا مرکز تھا، آج مغربی تہذیب کے اثر میں گم ہے۔

آج دولت و وسائل بے حد و حساب ہیں، مگر وہ اسلامی دعوت، تعلیم اور خدمتِ انسانیت کے بجائے عیش و آرائش میں صرف ہو رہے ہیں۔

مسجدوں کے دروازے سیاست کے دباؤ سے بند ہوتے ہیں،

اور اسلامی علامتوں کے بجائے مغربی نام و نشان فخر کا باعث سمجھے جاتے ہیں۔

یہ المیہ صرف عرب کا نہیں، بلکہ پوری امت کا ہے۔

ہم نے اپنی فکری خودمختاری کھو دی، اپنی روحانی غیرت مٹا دی،

اور اپنے ایمان کی حرارت کو دنیوی سہولتوں میں دفن کر دیا۔

ضرورتِ احیائے امت

اب وقت آچکا ہے کہ مسلمان ایک بار پھر اپنے اصل فریضے کو پہچانیں۔

دنیا کی قیادت دولت سے نہیں، بلکہ کردار، علم اور ایمان سے حاصل ہوتی ہے۔

امت کو چاہیے کہ وہ پھر سے اپنے اندر وہی جذبہ پیدا کرے جو صحابہؓ و تابعین کے دور میں تھا —

جہاں زندگی کا مقصد اللہ کی رضا تھی،

جہاں حکومت خدمت تھی،

جہاں علم عبادت تھا،

جہاں ایثار فخر تھا۔

ہمیں چاہیے کہ ہم مغربی غلامی سے نکل کر

قرآن و سنت کی روشنی میں خود اپنے راستے طے کریں،

اپنے وسائل کو ایمان، تعلیم، تحقیق اور عدل کے قیام کے لیے وقف کریں۔

غرضااگر مسلمان پھر سے اپنی اصل کی طرف لوٹ آئیں —

ایمان کو حرارت، علم کو مقصد، اور عمل کو عبادت بنا لیں —

تو دنیا ایک بار پھر اسلام کے نور سے منور ہوگی۔

وہی انقلاب جو کبھی غارِ حراء سے اٹھا تھا،

دوبارہ سے ظلمتوں کو مٹا سکتا ہے۔

دنیا کو آج پھر اسی قیادت کی ضرورت ہے جو عدل سے بھرپور، علم سے منور، اور ایمان سے مزین ہو۔

یہی وہ قیادت ہے جو انسانیت کو غلامی سے آزادی،

جہالت سے روشنی، اور

مادّیت سے روحانیت کی طرف لوٹا سکتی ہے۔

📖 یہی مولانا ابوالحسن علی ندویؒ کی صدا ہے —

کہ دنیا کا اصل خسارہ مسلمانوں کے زوال سے نہیں بلکہ اسلام کے اخلاقی و روحانی اصولوں کے زوال سے ہے۔

اور جب امتِ مسلمہ دوبارہ اپنی اصل پر لوٹ آئے گی،

تو دنیا ایک بار پھر عدل، امن اور انسانیت کی خوشبو سے مہک اٹھے گی۔