اذان شعائرِ اسلام میں سے ہے، اذان دینا بہت ہی شرف و فضیلت والا کام ہے اور باعث اجر و ثواب ہے جسکی وضاحت کئی احادیث میں آئی ہے ؛ انہی فضائل کی وجہ سے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین یہ تمنّا کرتے تھے کہ کاش اللہ کے رسول ﷺ نے انہیں اور انکے اہل ِ خاندان کو اذان دینے پر مامور کیا ہوتا ،تاکہ وہ بھی ان بشارت آمیز ارشادات کے مستحق قرار پاتے۔
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ آج لوگ مؤذن کے مقام و مرتبہ کو نہیں پہچان رہے ،مؤذن کو حقیر سمجھا جا رہا ہے بعض جگہ تو ایسا ہوتا ہے کہ مؤذنوں سے بالکل کم تر قسم کے کام لیے جاتے ہیں ،ان سے حقارت آمیز گفتگو کی جاتی ہے ، کوئی بھی عام آدمی آکر ان پر غصّہ نکالتا ہے، کسی بھی وقت ان کو یہ کہہ کر مسجد سے نکال دیا جاتا ہے کہ آپ ہماری مسجد کے لائق نہیں ہیں، اور انکی تنخواہیں بھی بالکل کم سے کم مقرر کی جاتی ہیں ؛
 بڑے ہی افسوس کی بات ہے کہ آج کے دور میں مؤذن کی یہ حیثیت بنا دی جا چکی ہے ،جبکہ سرکارِ دو عالم ﷺ نے فرمایا " المؤذن اطول الناس اعناقاً یوم القیامۃ"(رواہ مسلم: باب فضل الاذان و ھرب الشیطان عند سماعہ) یعنی روزِ قیامت مؤذنوں کی بڑی ہی شان و شوکت ہوگی اور وہ دوسرے لوگوں کے مقابلے میں نمایاں ہوں گے ۔ ایک اور حدیث میں ارشاد ہے" لا یسمع مدیٰ صوت المؤذن جنّ ولا انس ولا شیئ الّا شھد لہٗ یوم القیامۃ" (رواہ البخاری: باب رفع الصوت بالنداء)
ایک اور جگہ ارشاد ہے " من اذّن سبع سنین محتسباً ، کتب لہٗ براءۃ من النار" ( رواہ الترمذی: باب ما جاء فی فضل الاذان ) صرف یہی نہیں بلکہ کئی احادیث اس بارے میں موجود ہیں ۔
جب مؤذن کے بارے میں رسول اللہ ﷺ کے یہ مبارک ارشادات سامنے ہوں تو ہر مسلمان کو اس کے مقام و مرتبہ کا اعتراف کرنا چاہیے۔ یہ احادیث ہمیں بتاتی ہیں کہ مؤذن محض ایک ملازم نہیں بلکہ شعائرِ اسلام کا خدمت گزار اور دین کا ایک اہم نمائندہ ہے۔ اس لیے اس کی عزت، تکریم اور حقوق کی ادائیگی ہم سب کی ذمہ داری ہے؛ جس طرح ہم اپنی استطاعت کے مطابق یہ کوشش کرتے ہیں کہ ہمارے علاقے کی مسجد میں آنے والے نمازیوں کو ہر طرح کی سہولت دستیاب ہو انہیں کسی قسم کی تکلیف نہ ہو اس کے لیے گرمیوں میں اے سی ،کولر اور سردیوں میں گرم پانی وغیرہ کا انتظام کرتے ہیں تو ان سب کے ساتھ ساتھ ہمیں یہ بھی سوچنا چاہیے کہ جو شخص ہمیں ہر طرح کے موسم اور حالات میں پانچوں نمازوں کے لئے بر وقت بلاتا ہے ہم اس کے ساتھ عزت و احترام کا معاملہ کریں، اس کی دل آزاری سے بچیں، اس کی خدمات کی قدر کریں اور اسے حقارت کی نگاہ سے نہ دیکھیں ،اسی طرح اس کی جائز ضروریات اور حقوق کا خیال رکھیں، مناسب معاوضہ فراہم کرنے کی کوشش کریں اور اس کے ساتھ حسنِ اخلاق اور نرمی سے پیش آئیں۔
یہ بڑی ہی بے انصافی ہوگی کہ مساجد کی عمارتوں پر فراخ دلی سے خرچ کیا جائے، مگر اذان دینے والے مؤذن کی بنیادی ضروریات بھی پوری نہ کی جائیں؟ ہمیں اس سوال پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے، کیونکہ مؤذن کی عزت، تکریم اور حقوق کا تحفظ درحقیقت شعائرِ اسلام کی عزت و تکریم ہے۔
آئیے عہد کریں کہ ہم مؤذن کی عزت و تکریم، قدر شناسی اور حقوق کی ادائیگی میں کوئی کوتاہی نہیں کریں گے، کیونکہ یہی تعلیماتِ اسلام اور محبتِ رسول ﷺ کا تقاضا ہے۔