ایمان کی حفاظت میں خواتین کا کردار کیسا ہو ؟
06 جون، 2026
اصلاحِ قوم اگر منظور ہو آپکو
تو بچّوں سے پہلے ماؤں کو تعلیم دیجیے
اللہ تبارک و تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں میں سب سے قیمتی دولت" ایمان" ہے ۔
یٰایّھا الذین آمنوا قوا انفسکم و اہلیکم ناراً۔۔۔الخ (سورۃ التحریم :٦) اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم ہر وقت اپنے ایمان کی حفاظت کریں اور اپنے گھر والوں کے ایمان کی بھی فکر کریں، انہیں بھی جہنم کی آگ سے بچانے کی کوشش کریں ۔
آج کے اس پر فتن دور میں آۓ دن مسلمان دین سے دور ہوتے جارہے ہیں ، نئے نئے فتنے جنم لے رہے ہیں ، اسلام دشمن طاقتیں مسلمانوں کو انکے دینِ حنیف سے بیزار کرنے کی کوشش میں لگی ہوئی ہیں، کئی مسلمانوں کا ایماں خطرہ میں ہے اور کئی ایسے بھی ہیں جنکا ایمان سلب ہو چکا ہے اور انہیں خبر بھی نہیں ۔
ایسے موقع پر علماء اسلام و بزرگانِ دین تو بہت کام کر رہے ہیں ، نسل ِ نو کے ایمان کی فکر میں لگے ہوئے ہیں ، لیکن یہاں خواتین کا کیا کردار ہونا چاہیے ؟ وہ کیا کرسکتی ہیں ؟
ایک بات یاد رکھیں! حضرت ابراہیم علیہ السلام کا واقعہ بی بی ہاجرہ کے تذکرہ کے بغیر نا مکمل ہے ، حضرت موسیٰ علیہ السلام کا واقعہ ان کی والدہ محترمہ اور بی بی آسیہ کے تذکرہ کے بغیر نا مکمل ہے ، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا واقعہ ان کی والدہ صدیقہ و طاہرہ حضرت مریم علیہا السلام کے تذکرہ کے بغیر نا مکمل ہے ۔
یہ تو چند مثالیں ہیں آپ تاریخ اٹھا کر دیکھیں آپکو خواتین ِ اسلام کی شجاعت و جرأت مندی اور بلند حوصلگی کی سیکڑوں مثالیں مل جائیں گی ، آپ تاریخ اٹھا کر دیکھیں آپکو پتہ چلے گا کتنی خواتین ِ اسلام ایسی تھیں جن کی اچھی تعلیم و تربیت ، تقویٰ و طہارت اور بلند حوصلوں نے انسانیت کو کئی عظیم رہنما عطا کیے۔
ظلم کا مقابلہ اکیلے مردوں نے کبھی نہیں کیا ، جب کبھی عورتوں نے ساتھ دیا ، اپنے ذمہ داری کو سمجھا، بہادری دکھائی ، اپنے مردوں کے حوصلے بڑھائے ، بچّوں کی صحیح تربیت کی، اپنے علم کو بڑھایا ، قرآن مجید کو سمجھا اور اس پر عمل کیاتب ظلم کا ماحول بدل گیا، انصاف کا ماحول بن گیا ،امن پھیل گیا ،؛اور جب کبھی عورتوں نے مردوں کو تنہا چھوڑ دیا ، عورتوں کو مسلمانوں کے حالات کی فکر نہیں رہی ، ان کے حوصلے پست ہو گئے ، ان کی دلچسپیاں محدود ہو گئیں تب اکیلے مرد کبھی مقابلوں کی کوششوں میں کامیاب نہیں ہوۓ ۔
خواتین کو چاہیے کہ وہ ازواج مطہرات اور صحابیات کی سیرت کو پڑھیں ، انکو اپنا آئیڈیل بنائیں ،انکے اوصاف اپنے اندر لانے کی کوشش کریں ،اور ان ہی کی طرح آج کی خواتین کی زندگی میں ایمان بڑھنا چاہیے ، علم و عمل بڑھنا چاہیے ، تقویٰ و طہارت بڑھنا چاہیے ، قرآن مجید کو پڑھنے اور سمجھنے کا شوق بڑھنا چاہیے اور اپنے بچّوں کی شاندار تربیت ہونی چاہیے ۔
یاد رکھیں! ایک مدرسہ وہ ہوتا ہے جہاں بچّے کو اس کے ماں باپ داخل کراتے ہیں اور ایک مدرسہ وہ ہوتا ہے جہاں بچّے کو خود اللہ ربّ العزت داخل کرتے ہیں، اور وہ مدرسہ ہے " ماں کی گود" ، اس لحاظ سے بچّے کی سب سے پہلی استاد اسکی ماں ہوتی ہے ، ماں کی صالحیت کے اثرات بچّوں میں ظاہر ہوتے ہیں۔
اس لیے خواتین ِ اسلام اپنی اولاد کی صحیح تربیت کریں خاص طور پر لڑکیوں کی اچھی تربیت کریں کیونکہ آج کی بیٹی کل کی ماں ہے ، اس لیے اپنی ذمہ داری کو بخوبی نبھائیں ؛ نبی کریم ﷺ کا ارشاد گرامی ہے " کلّکم راع و کلّکم مسئول عن رعیّتہ"،
خواتین اسلام! آپ سے بھی روزِ قیامت آپکی ذمہ داری کے بارے میں پوچھا جائے گا ، اس لیے سب سے پہلے تو اپنی اصلاح کر کے اپنے عقائد درست کرکے اپنے ایمان کی حفاظت کریں اور آنے والی نسلوں کے بھی ایمان کی فکر کریں ، اور اسکے لئے ضروری ہے کہ دین کا صحیح علم حاصل کریں ، قرآن کو ترجمہ کے ساتھ پڑھیں ، اپنی صحبت ٹھیک کریں ، کسی مدرسہ یا مکتب سے یا کم از کم کسی باعمل عالمہ سے رابطہ رکھیں اور ان سے پوچھ کر دینی کتابوں کا مطالعہ کریں اور اپنے گھروں میں نیک ماحول بناۓ رکھیں۔