صدیوں مجھے گلشن کی فضا یاد کرے گی!
06 جون، 2026
علم و دانش کی دنیا، صحافت کے ایوانوں اور دینی حلقوں پر 5 جون 2026ء کی شب ایک ایسا غم ناک لمحہ طاری ہوا جس نے اہلِ علم و قلم کو سوگوار کر دیا۔ آن لائن ذرائع ابلاغ اور مختلف معتبر پلیٹ فارمز کے ذریعے یہ دل خراش خبر موصول ہوئی کہ جامعہ اشرفیہ مبارک پور کے نامور استاذ، ممتاز محقق، کہنہ مشق صحافی، ماہنامہ اشرفیہ کے مدیرِ اعلیٰ اور اہلِ سنت کے جلیل القدر عالمِ دین حضرت علامہ و مولانا مبارک حسین صاحب قبلہ مصباحی اس دارِ فانی سے کوچ فرما کر اپنے ربِ کریم کے حضور حاضر ہو گئے۔ انا للہ و انا الیہ راجعون
حضرت علامہ مبارک حسین مصباحی علم و فضل، وقار و متانت اور فکر و تحقیق کا ایک درخشاں باب تھے۔ آپ حضور تاج الشریعہ حضرت کے مجاز و خلیفہ، عزیزِ ملت حضرت کے داماد اور جامعہ اشرفیہ کے ان ممتاز اساتذہ میں شمار ہوتے تھے جنہوں نے اپنی تدریسی، تصنیفی، صحافتی اور تنظیمی خدمات کے ذریعے ایک پوری نسل کی علمی و فکری تربیت فرمائی۔ آپ کی شخصیت سنجیدہ فکر، عمیق مطالعہ، بلند کردار اور خلوصِ عمل کا حسین امتزاج تھی۔ اطلاعات کے مطابق آپ گزشتہ کچھ عرصے سے علالت کے باعث زیرِ علاج تھے۔ جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب طبیعت میں اچانک تشویش ناک بگاڑ پیدا ہوا۔ معالجین نے بھرپور کوششیں کیں، مگر مشیتِ ایزدی کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ چنانچہ رات تقریباً بارہ بجے آپ نے داعیِ اجل کو لبیک کہا اور اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔ بوقتِ وصال آپ کی عمر تقریباً اٹھاون برس تھی۔
آپ کے وصال کی خبر جنگل کی آگ کی طرح پورے ملک میں پھیل گئی۔ مبارک پور سے لے کر ملک کے مختلف شہروں تک علما، طلبہ، اہلِ قلم، صحافیوں اور عقیدت مندوں کے دل رنج و الم سے بھر گئے۔ جامعہ اشرفیہ کے علمی ماحول پر سوگواری کی کیفیت طاری ہو گئی، مساجد، مدارس اور دینی مراکز میں مرحوم کے لیے دعاؤں کا سلسلہ شروع ہو گیا، جبکہ آپ کے ہزاروں شاگرد اور متوسلین سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع کے ذریعے اپنے غم اور تعزیتی جذبات کا اظہار کرتے رہے۔
حضرت علامہ مبارک حسین مصباحی نے اپنے پس ماندگان میں صرف اہلِ خانہ ہی نہیں بلکہ ہزاروں شاگرد، بے شمار قارئین، علمی نقوش اور فکری یادگاریں بھی چھوڑی ہیں۔ آپ کی تحریریں، تحقیقی خدمات، صحافتی بصیرت اور تدریسی فیوض آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ رہیں گے۔ بلاشبہ ایسی شخصیات جسمانی طور پر دنیا سے رخصت ہو جاتی ہیں، مگر ان کا علمی سرمایہ، ان کی خدمات اور ان کی یادیں مدتوں زندہ رہتی ہیں۔ آج زبانِ حال یہی کہہ رہی ہے:
صدیوں مجھے گلشن کی فضا یاد کرے گی
اللہ تعالیٰ حضرت علامہ مبارک حسین مصباحی کی کامل مغفرت فرمائے، ان کی قبر کو نور سے بھر دے، ان کے درجات کو بلند سے بلند تر فرمائے، ان کی دینی، علمی اور صحافتی خدمات کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے اور تمام پسماندگان، متعلقین، شاگردوں اور عقیدت مندوں کو صبرِ جمیل نصیب فرمائے۔ آمین بجاہ سید المرسلین ﷺ
علمی و صحافتی خدمات
حضرت علامہ مولانا مبارک حسین مصباحی کی پوری زندگی علم و قلم، تدریس و تربیت اور دعوت و صحافت کے روشن ابواب سے عبارت تھی۔ آپ ان خوش نصیب اہلِ علم میں شمار ہوتے تھے جنہوں نے اپنی صلاحیتوں، علمی بصیرت اور فکری پختگی کو ذاتی شہرت یا دنیاوی منفعت کے بجائے دینِ اسلام، علمِ شریعت اور ملتِ اسلامیہ کی خدمت کے لیے وقف کر دیا۔ آپ کی ذات ایک ایسے شجرِ سایہ دار کی مانند تھی جس کی چھاؤں میں ہزاروں تشنگانِ علم نے علمی آسودگی حاصل کی اور جس کے ثمرات سے ایک وسیع علمی و فکری حلقہ مستفید ہوتا رہا۔
تدریسی زندگی:
حضرت علامہ مبارک حسین مصباحی نے اپنی حیاتِ مستعار کے تیس سے زائد قیمتی سال جامعہ اشرفیہ مبارک پور کی علمی فضاؤں کو معطر کرنے میں صرف کیے۔ آپ کا شمار جامعہ کے ان منتخب اور محبوب اساتذۂ کرام میں ہوتا تھا جنہوں نے محض کتابیں نہیں پڑھائیں بلکہ نسلوں کی فکری تعمیر، علمی تربیت اور اخلاقی رہنمائی کا فریضہ بھی انجام دیا۔ فقہ، حدیث، عربی ادب اور صحافت جیسے اہم علوم و فنون آپ کے خصوصی مضامین تھے، جن میں آپ کو گہری مہارت اور غیر معمولی بصیرت حاصل تھی۔ آپ کا اندازِ تدریس نہایت دل نشیں، سادہ اور مؤثر تھا۔ پیچیدہ علمی مباحث کو سہل اور عام فہم انداز میں بیان کرنا آپ کا خاص امتیاز تھا۔ درس گاہ میں آپ کی گفتگو محض الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ تحقیق، استدلال اور فکری بالیدگی کا حسین امتزاج ہوتی تھی۔ طلبہ نہ صرف آپ کے علمی مقام کے معترف تھے بلکہ آپ کی شفقت، خلوص اور حسنِ اخلاق کے بھی گرویدہ تھے۔ یہی وجہ ہے کہ جامعہ اشرفیہ کے سینکڑوں بلکہ ہزاروں فارغین آج بھی آپ کو اپنے علمی سفر کا محسن، مربی اور رہنما تصور کرتے ہیں۔
آپ کے فیض یافتہ شاگرد آج ہندوستان کے مختلف صوبوں سے لے کر دنیا کے متعدد ممالک تک مساجد، مدارس، جامعات، تحقیقی مراکز اور دینی و صحافتی اداروں میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ یہ سب درحقیقت اس علمی چراغ کے روشن کیے ہوئے وہ چراغ ہیں جن کی روشنی آج بھی دور دور تک پھیل رہی ہے۔ ایک استاذ کا حقیقی سرمایہ اس کے شاگرد ہوتے ہیں، اور اس اعتبار سے حضرت علامہ مبارک حسین مصباحی بے حد مالا مال تھے۔
صحافتی خدمات
اگر تدریس آپ کی شخصیت کا ایک روشن پہلو تھا تو صحافت اس کا دوسرا تابناک عنوان تھی۔ اردو صحافت کے میدان میں آپ کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ آپ کی شناخت خصوصیت کے ساتھ ماہنامہ‘‘اشرفیہ مبارک پور’’کے مدیرِ اعلیٰ کی حیثیت سے قائم ہوئی۔ پندرہ برس سے زائد عرصے تک آپ نے اس تاریخی اور مؤقر رسالے کی ادارت کی ذمہ داری نہایت حسن و خوبی کے ساتھ نبھائی اور اسے علمی، تحقیقی اور فکری اعتبار سے نئی بلندیوں تک پہنچایا۔ آپ کے دورِ ادارت میں ماہنامہ اشرفیہ محض ایک رسالہ نہیں رہا بلکہ علمی رہنمائی، فکری اصلاح اور ملی شعور کا ایک مؤثر ترجمان بن گیا۔ اس کے صفحات پر شائع ہونے والے تحقیقی مضامین، علمی مقالات اور عصری موضوعات پر مبنی تحریریں اہلِ علم کے لیے معتبر حوالہ تصور کی جاتی تھیں۔ آپ نے ملی مسائل کی وضاحت، معاشرتی اصلاح کی تحریک اور اہلِ سنت کے معتدل و مدلل موقف کی ترجمانی میں قابلِ قدر خدمات انجام دیں۔
خصوصی طور پر آپ کے اداریے‘‘نقشِ قلم’’ علمی و فکری حلقوں میں غیر معمولی مقبولیت رکھتے تھے۔ اہلِ علم و دانش ہر شمارے میں ان اداریوں کے منتظر رہتے، کیونکہ ان میں حالاتِ حاضرہ کا گہرا تجزیہ، مسائل کا متوازن مطالعہ اور مستقبل کے لیے فکری رہنمائی موجود ہوتی تھی۔ آپ کا قلم سنجیدگی، اعتدال، وقار اور تحقیق کا آئینہ دار تھا۔ آپ نے ہمیشہ صحافت کو محض خبر رسانی کا ذریعہ نہیں بلکہ اصلاحِ معاشرہ اور بیداریِ امت کا مؤثر وسیلہ سمجھا۔ حضرت علامہ مبارک حسین مصباحی کی صحافت کے تین بنیادی اصول تھے: تحقیق و تصدیق، زبان کی شائستگی اور مسلکی اعتدال۔ آپ خبر کی صحت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرتے تھے، زبان کی پاکیزگی کو صحافت کی روح سمجھتے تھے اور اختلافی موضوعات میں بھی اعتدال و توازن کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑتے تھے۔ یہی اوصاف آپ کو اپنے معاصر صحافیوں میں ممتاز مقام عطا کرتے تھے۔
اردو صحافت کے فروغ اور نئی نسل کی تربیت کے لیے بھی آپ کی خدمات ناقابلِ فراموش ہیں۔ نوجوان قلم کاروں اور صحافیوں کی رہنمائی کے لیے آپ نے جامعہ اشرفیہ میں شعبہء صحافت کے قیام اور اس کی ترقی میں کلیدی کردار ادا کیا۔ آپ کی سرپرستی میں متعدد نوجوان صحافیوں نے صحافت کے اصول و آداب سیکھے اور بعد ازاں مختلف قومی و ملی اداروں میں نمایاں خدمات انجام دیں۔ بلاشبہ حضرت علامہ مبارک حسین مصباحی کا شمار ان نادر شخصیات میں ہوتا ہے جنہوں نے درس گاہ اور صحافت گاہ دونوں میدانوں میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ آپ کا علمی سرمایہ، صحافتی بصیرت، تربیتی خدمات اور فکری نقوش آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ رہیں گے، اور جب بھی جامعہ اشرفیہ کی علمی و صحافتی تاریخ رقم کی جائے گی، آپ کا نام عزت و احترام کے ساتھ سنہرے حروف میں لکھا جائے گا۔
بیعت و خلافت
حضرت علامہ مولانا مبارک حسین مصباحی کی شخصیت جہاں علم و تحقیق، تدریس و صحافت کے میدانوں میں نمایاں تھی، وہیں آپ کی روحانی وابستگی اور اصلاحی خدمات بھی اہلِ سنت کے حلقوں میں بڑی قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھی جاتی تھیں۔ آپ کو مسلکِ اہلِ سنت کے عظیم روحانی پیشوا، فقیہِ ملت اور مرجعِ اہلِ سنت حضرت تاج الشریعہ سے شرفِ بیعت و خلافت حاصل تھا۔ یہ نسبت آپ کے لیے محض ایک اعزاز نہیں بلکہ ایک عظیم امانت تھی، جس کی پاسداری آپ نے پوری دیانت، اخلاص اور ذمہ داری کے ساتھ فرمائی۔ خلیفہء حضور تاج الشریعہ کی حیثیت سے آپ نے سنی بریلوی مکتبِ فکر کی علمی، فکری اور روحانی روایات کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا۔ آپ ہمیشہ اعتدال، حکمت اور بصیرت کے ساتھ مسلکِ اہلِ سنت کی ترجمانی کرتے رہے۔ آپ کی مجالس میں علم و معرفت کا نور، اکابرینِ اہلِ سنت کی تعلیمات کی خوشبو اور اصلاحِ باطن کا جذبہ نمایاں طور پر محسوس کیا جاتا تھا۔ آپ نے اپنے کردار، گفتار اور تحریر کے ذریعے محبتِ رسول ﷺ، ادبِ اولیاء اور وابستگیِ اہلِ سنت کے پیغام کو عام کرنے کی بھرپور کوشش کی۔
مزید برآں آپ کو حضور عزیزِ ملت سے دامادی کی نسبت بھی حاصل تھی۔ اس طرح آپ ایک ایسے علمی و روحانی خانوادے سے وابستہ ہوئے جس نے برصغیر میں دینی تعلیم، اصلاحِ امت اور اشاعتِ مسلکِ اہلِ سنت کے میدان میں نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔ گویا آپ کو دو عظیم علمی و روحانی سلسلوں کی نسبت اور فیضان حاصل تھا، جس کے اثرات آپ کی پوری زندگی، افکار اور خدمات میں نمایاں طور پر دکھائی دیتے ہیں۔
آپ کی شخصیت ان خوش نصیب اہلِ علم میں شمار ہوتی تھی جنہوں نے علمِ ظاہر کے ساتھ روحانیت اور تزکیہ نفس کی دولت بھی حاصل کی۔ یہی وجہ تھی کہ آپ کے حلقہ ارادت و تعلق میں شامل افراد آپ کو صرف ایک عالم یا استاذ ہی نہیں بلکہ ایک مخلص مربی، خیر خواہ اور روحانی راہنما کی حیثیت سے بھی یاد کرتے ہیں۔
تصنیفی و قلمی خدمات
حضرت علامہ مبارک حسین مصباحی بنیادی طور پر تدریس، تربیت، صحافت اور ادارتی ذمہ داریوں میں غیر معمولی طور پر مصروف رہتے تھے، تاہم ان تمام مصروفیات کے باوجود آپ نے قلم و قرطاس کے ساتھ اپنا رشتہ کبھی کمزور نہیں ہونے دیا۔ آپ ان اہلِ قلم میں سے تھے جو شہرت کے لیے نہیں بلکہ افادۂ عام اور خدمتِ دین کے جذبے کے تحت لکھتے ہیں۔ اگرچہ آپ نے مستقل تصنیف کے میدان میں نسبتاً کم وقت صرف کیا، لیکن آپ کی علمی و تحقیقی خدمات مختلف شکلوں میں محفوظ ہیں۔ آپ نے متعدد اہم دینی، علمی اور تحقیقی کتابوں پر وقیع مقدمات تحریر کیے جو اپنے علمی استدلال، زبان کی شائستگی اور فکری گہرائی کے باعث اہلِ علم میں قدر کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ آپ نے کئی علمی مجموعوں کی ترتیب و تدوین میں حصہ لیا اور مختلف موضوعات پر درجنوں تحقیقی، اصلاحی اور فکری مقالات سپردِ قلم کیے۔
آپ کی تحریروں کا نمایاں وصف یہ تھا کہ ان میں علم کی پختگی، فکر کی سنجیدگی اور اسلوب کی شگفتگی ایک ساتھ جمع ہو جاتی تھی۔ آپ مشکل علمی مباحث کو بھی نہایت سادہ، مدلل اور عام فہم انداز میں پیش کرنے کا ملکہ رکھتے تھے۔ اسی وجہ سے آپ کی تحریریں خواص کے ساتھ عوام میں بھی یکساں مقبول تھیں۔ خصوصی طور پر "صحافت اور ہماری ذمہ داریاں" کے عنوان سے آپ کے خطابات اور مقالات کا مجموعہ اردو صحافت سے وابستہ نوجوانوں کے لیے ایک اہم رہنما دستاویز کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس میں آپ نے صحافت کے اخلاقی اصولوں، خبر کی امانت داری، تحقیق و تصدیق کی ضرورت، زبان و بیان کی نزاکتوں اور صحافیوں کی ملی و سماجی ذمہ داریوں پر نہایت بصیرت افروز گفتگو فرمائی ہے۔ آج بھی صحافت کے میدان میں قدم رکھنے والے بہت سے نوجوان اس مجموعے سے رہنمائی حاصل کرتے ہیں۔
بلاشبہ حضرت علامہ مبارک حسین مصباحی کا قلم علم، اعتدال اور اخلاص کا ترجمان تھا۔ آپ نے اپنے افکار، تحریروں اور علمی نقوش کے ذریعے جو فکری سرمایہ امت کو عطا کیا، وہ آنے والے زمانوں میں بھی اہلِ علم و تحقیق کے لیے باعثِ استفادہ اور ذریعہ رہنمائی بنا رہے گا۔
شخصیت کے چند درخشاں پہلو
حضرت علامہ مولانا مبارک حسین مصباحی اُن ہمہ جہت شخصیات میں سے تھے جن کی زندگی کا ہر گوشہ علم، عمل، اخلاص اور خدمتِ دین سے روشن تھا۔ آپ بیک وقت ایک بلند پایہ عالمِ دین، کامیاب مدرس، صاحبِ طرز صحافی، مؤثر خطیب اور باصلاحیت منتظم تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایسی متوازن اور پُرکشش شخصیت عطا فرمائی تھی جس میں علم کی سنجیدگی، فکر کی گہرائی، کردار کی پاکیزگی اور اخلاق کی دل آویزی یکجا ہو گئی تھی۔ آپ کی طبیعت میں عاجزی، انکساری، بردباری اور خندہ پیشانی اس درجہ رچی بسی ہوئی تھی کہ جو شخص ایک بار آپ کی مجلس میں بیٹھتا، وہ آپ کی سادگی اور حسنِ اخلاق سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہتا۔ علمی عظمت اور سماجی وقار کے باوجود آپ نے کبھی تکلف، خود نمائی یا برتری کے احساس کو اپنے قریب نہیں آنے دیا۔ آپ کا طرزِ گفتگو نرم، لہجہ شائستہ اور اندازِ ملاقات انتہائی محبت بھرا ہوتا تھا۔
طلبہ کے لیے آپ محض ایک استاذ نہیں بلکہ ایک شفیق مربی اور خیر خواہ سرپرست تھے۔ آپ اپنے شاگردوں کی علمی ترقی کے ساتھ ساتھ ان کی اخلاقی تربیت اور عملی زندگی کی رہنمائی کا بھی خصوصی اہتمام فرماتے تھے۔ بے شمار طلبہ آج بھی آپ کی نصیحتوں، دعاؤں اور شفقتوں کو اپنی زندگی کا قیمتی سرمایہ تصور کرتے ہیں۔ اسی طرح اپنے رفقائے کار اور اساتذۂ کرام کے درمیان آپ ایک مخلص دوست، قابلِ اعتماد ساتھی اور مشورہ دینے والی شخصیت کے طور پر جانے جاتے تھے۔ عوام الناس کے ساتھ آپ کا تعلق بھی نہایت محبت، خیر خواہی اور ہمدردی پر مبنی تھا۔ آپ ہمیشہ لوگوں کے مسائل کو توجہ سے سنتے، ان کی رہنمائی فرماتے اور حتی المقدور ان کی مشکلات کے حل کی کوشش کرتے۔ یہی وجہ تھی کہ مختلف طبقاتِ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد آپ سے قلبی وابستگی محسوس کرتے تھے۔
مسلکی اور علمی مباحث میں بھی آپ کا طرزِ عمل قابلِ تقلید تھا۔ اگرچہ آپ اپنے عقائد و نظریات پر مکمل استقامت رکھتے تھے، لیکن اختلافی موضوعات میں بھی آپ نے ہمیشہ شائستگی، اعتدال اور علمی وقار کو ملحوظ رکھا۔ آپ کی تحریروں اور تقاریر میں جارحیت یا اشتعال انگیزی کے بجائے استدلال، تحقیق اور مثبت دعوت کا رنگ غالب رہتا تھا۔ آپ کا یہ جملہ درحقیقت آپ کی پوری فکری زندگی کا خلاصہ معلوم ہوتا ہے:‘‘ قلم تلوار سے زیادہ طاقتور ہے، مگر اسے زخم دینے کے لیے نہیں بلکہ مرہم رکھنے کے لیے اٹھانا چاہیے۔’’
یہی وجہ تھی کہ آپ کے قلم سے نکلنے والے الفاظ دلوں کو جوڑنے، ذہنوں کو روشن کرنے اور معاشرے میں مثبت شعور پیدا کرنے کا ذریعہ بنتے رہے۔
اہلِ علم کی نظر میں
حضرت علامہ مبارک حسین مصباحی کی رحلت پر پورے علمی اور دینی حلقے سوگوار ہیں۔ جامعہ اشرفیہ کے ذمہ داران، اساتذۂ کرام، طلبہ اور وابستگانِ ادارہ سبھی اس عظیم خسارے کو شدت سے محسوس کر رہے ہیں۔ جامعہ اشرفیہ کے پرنسپل نے اپنے تعزیتی بیان میں گہرے رنج و الم کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ:‘‘مولانا مبارک حسین صاحب کی رحلت جامعہ اشرفیہ کے لیے ایک ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔ وہ محض ایک استاذ یا منتظم نہیں بلکہ ادارے کے مضبوط ستونوں میں سے ایک تھے۔ ان کی علمی بصیرت، انتظامی صلاحیت اور مخلصانہ خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ ان کے وصال سے پیدا ہونے والا خلا مدتوں محسوس کیا جاتا رہے گا۔’’ یہ الفاظ درحقیقت اُن جذبات کی ترجمانی ہیں جو آج جامعہ اشرفیہ کے ہر استاد، ہر طالبِ علم اور ہر وابستہ فرد کے دل میں موجزن ہیں۔
نمازِ جنازہ اور تدفین
مرحوم کے اہلِ خانہ کی جانب سے موصولہ اطلاعات کے مطابق حضرت علامہ مبارک حسین مصباحی کی نمازِ جنازہ ۵ جون بعد نمازِ جمعہ تقریباً ڈھائی بجے جامعہ اشرفیہ مبارک پور کے وسیع میدان میں ادا کی گی۔ نمازِ جنازہ میں ملک بھر سے علما، مشائخ، مفتیانِ کرام، دانشوران، سیاسی و سماجی شخصیات اور ہزاروں عقیدت مندوں کی شرکت متوقع ہے۔ بعد ازاں آپ کو مبارک پور کے احاطہ اشرفیہ قبرستان میں سپردِ خاک کیا گیا، جہاں آپ اپنے اکابرین اور اسلاف کے جوار میں آسودۂ خاک ہیں۔ انتظامیہ کی جانب سے زائرین اور شرکائے جنازہ کی سہولت کے لیے خصوصی انتظامات کیے گئے تھے تاکہ اس عظیم اجتماع کو خوش اسلوبی کے ساتھ مکمل کیا جا سکے۔
تعزیتی پیغامات کا تسلسل
حضرت علامہ مبارک حسین مصباحی کے وصال کی خبر منظرِ عام پر آتے ہی ملک بھر کے علمی، دینی اور روحانی مراکز سے تعزیتی پیغامات کا ایک طویل سلسلہ شروع ہو گیا۔ مختلف خانقاہوں، دینی اداروں، علمی مراکز اور ملی تنظیموں نے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے مرحوم کی خدمات کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا ہے۔ بریلی شریف، کچھوچھہ شریف، مارہرہ مطہرہ اور دیگر معروف روحانی مراکز کے مشائخ و علما نے اپنے تعزیتی پیغامات میں مرحوم کی علمی، صحافتی اور دینی خدمات کو سراہتے ہوئے اسے ملتِ اسلامیہ کا عظیم نقصان قرار دیا ہے۔ اسی طرح مختلف مدارس، جامعات اور علمی اداروں کے ذمہ داران نے بھی اپنے تاثرات میں مرحوم کی خدمات کو ناقابلِ فراموش قرار دیا ہے۔
سوشل میڈیا اور مختلف ذرائع ابلاغ پر ہزاروں شاگرد، عقیدت مند، اہلِ قلم اور دانشور حضرات ان کے لیے دعائے مغفرت کر رہے ہیں اور ان کی یادوں کو خراجِ عقیدت پیش کر رہے ہیں۔
ایک عہد کا خاتمہ
حضرت علامہ مبارک حسین مصباحی کا وصال محض ایک فرد کی جدائی نہیں بلکہ علم، تحقیق، صحافت اور تربیت کے ایک روشن باب کے اختتام کا اعلان ہے۔ آپ نے اپنی پوری زندگی اخلاص، للّٰہیت، استقامت اور خدمتِ دین کے جذبے کے ساتھ گزاری۔ آپ نے جس خاموشی، سنجیدگی اور وقار کے ساتھ علم و قلم کی خدمت کی، وہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک روشن مثال اور مشعلِ راہ ہے۔ آج جامعہ اشرفیہ کا صحن، درسگاہوں کی نشستیں، ماہنامہ اشرفیہ کا دفتر، علمی مجالس کی محفلیں اور آپ کے شاگردوں کے دل سب ایک ایسی شخصیت کی جدائی پر سوگوار ہیں جس نے اپنی پوری زندگی دوسروں کو روشنی بانٹنے میں صرف کر دی۔
بلاشبہ بعض شخصیات اپنی زندگی میں ادارہ بن جاتی ہیں، اور جب وہ دنیا سے رخصت ہوتی ہیں تو محض ایک فرد نہیں بلکہ ایک پورا عہد رخصت ہو جاتا ہے۔ حضرت علامہ مبارک حسین مصباحی بھی انہی نادر شخصیات میں سے تھے جن کی یادیں، خدمات اور علمی نقوش مدتوں اہلِ علم کے دلوں میں زندہ رہیں گے۔ اللہ رب العزت اپنے فضلِ خاص سے مرحوم کی کامل مغفرت فرمائے، ان کی قبر کو نور و سرور کا گہوارہ بنائے، جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، ان کی دینی، علمی اور صحافتی خدمات کو شرفِ قبولیت بخشے اور تمام پسماندگان، شاگردوں، متعلقین اور عقیدت مندوں کو صبرِ جمیل اور اجرِ عظیم عطا فرمائے۔ آمین بجاہ سید المرسلین ﷺ
نوٹ: یہ تحریر اُن معلومات، تاثرات اور مشاہدات کی روشنی میں لکھی گئی ہے جو مجھے مختلف ذرائع، بالخصوص فارغینِ اشرفیہ، محبینِ اشرفیہ اور دیگر اہلِ علم سے حاصل ہوئے۔ میں گزشتہ کئی برسوں سے ماہنامہ اشرفیہ کا باقاعدہ مطالعہ کرتا رہا ہوں اور اس کے علمی و فکری مضامین میرے لیے ہمیشہ مشعلِ راہ رہے ہیں۔ اس تحریر میں باقاعدہ حوالہ جات اور مصادر کا اہتمام نہیں کیا گیا، کیونکہ یہ کسی مخصوص کتاب یا ماخذ سے نقل نہیں، بلکہ میرے ذاتی فہم، مطالعے، احساسات اور تاثرات کا اظہار ہے۔ اگر کہیں کوئی لغزش، کمی یا علمی خطا ہو تو اربابِ علم و دانش سے مؤدبانہ گزارش ہے کہ میری اصلاح فرمائیں؛ میں اسے اپنی خوش نصیبی اور علمی رہنمائی سمجھوں گا۔
تحریر: محمد فداء المصطفیٰ قادری
رابطہ نمبر: 9037099731
پی جی ریسرچ اسکالر: دارالہدیٰ اسلامک یونیورسٹی کیرلا