خوفِ خدا مومن کے دل کی وہ کیفیت ہے جو اسے ہر گناہ سے بچاتی اور ہر نیکی کی طرف مائل کرتی ہے۔ جب انسان اپنے رب کی عظمت، قدرت اور علمِ کامل کو پہچان لیتا ہے تو اس کے دل میں ایک نورانی ہیبت پیدا ہوتی ہے جسے خشیت کہتے ہیں۔ یہی خشیت ایمان کی جان ہے، نیکی کا سرچشمہ ہے اور گناہ کی روک تھام کا سب سے مضبوط ذریعہ ہے۔ جس دل میں خوفِ خدا موجود ہو، وہ انسان کے کردار، گفتار اور اعمال میں پاکیزگی پیدا کر دیتا ہے۔ ایسی شخصیت کبھی ظلم نہیں کرتی، کسی کا حق نہیں کھاتی، اور اللہ کے بندوں کے ساتھ نرمی، انصاف اور خیرخواہی سے پیش آتی ہے۔


    خوفِ خدا انسان کو باطن سے مضبوط بناتا ہے۔ وہ اکیلے میں بھی گناہ سے بچتا ہے، کیونکہ اسے معلوم ہوتا ہے کہ میرا رب مجھے دیکھ رہا ہے۔ یہی کیفیت انسان کو اخلاص عطا کرتی ہے، عبادت میں دم بھر دیتی ہے، اور نیکیوں میں پختگی پیدا کرتی ہے۔ اکابرینِ امت کی زندگیاں اسی نورِ خشیت سے روشن تھیں۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ، حضرت امام احمد بن حنبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور دیگر اولیاء کے دل خوفِ خدا سے اس قدر نرم تھے کہ چھوٹی سی لغزش بھی انہیں لرزا دیتی تھی۔ وہ ہر قدم پر اللہ کی رضا کو دیکھتے اور اسی کے خوف سے اپنی زندگی کو سنوارتے تھے۔


٭اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:اِنَّمَا یَخْشَى اللّٰهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمٰٓؤُاؕ

ترجمہ کنزالایمان:اللہ سے اس کے بندوں میں سے وہی ڈرتے ہیں جو علم والے ہیں۔٭

   یعنی جو جتنا زیادہ اللہ کو پہچانتا ہے، وہ اتنا ہی اس سے ڈرتا ہے۔ شیطان انسان کو بے خوفی اور غفلت کے ذریعے گناہوں پر آمادہ کرتا ہے، مگر خوفِ خدا وہ قفل ہے جو شیطان کے راستوں کو بند کر دیتا ہے۔ اسی لیے قرآن کہتا ہے کہ جب متقی لوگوں کو شیطان چھوتا ہے تو وہ فوراً اللہ کو یاد کرتے ہیں اور سیدھا راستہ دیکھ لیتے ہیں۔


    خوفِ خدا کوئی منفی خوف نہیں، بلکہ یہ وہ نور ہے جو دل میں امید بھی پیدا کرتا ہے اور محبت بھی۔ مومن کے دل میں خوف اور امید دونوں موجود ہوتے ہیں۔وہ اللہ کی رحمت سے مایوس نہیں ہوتا اور نہ ہی اس کی پکڑ سے بے پرواہ ہوتا ہے۔ یہی توازن انسان کی زندگی کو خوبصورت بناتا ہے اور اس کے اعمال میں روح بھر دیتا ہے۔


      آخرکار، خوفِ خدا ہی وہ نعمت ہے جو دل کو زندہ کرتی ہے، نیکی کو آسان بناتی ہے، اور گناہوں سے حفاظت کرتی ہے۔ جس کے دل میں خوفِ خدا ہو، وہ دنیا اور آخرت دونوں میں کامیاب ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں حقیقی خشیت عطا فرمائے، ہمارے دلوں کو پاک کرے اور ہمیں اپنی رضا کے راستوں پر قائم رکھے۔

آمین یارب العالمین۔💕


تحریر: ٭ہانیہ فاطمہ قادری٭

پیش کش: قادریہ اکیڈمی للبنات