مدینة الرسول کے فضائل الحمدللہ رب العالمین والصلاۃ والسلام علیٰ سید المرسلین وعلی آلہ وصحبہ اجمعین
 اما بعد 

از : عبداللّٰہ ابنِ وسیم سدی باپا 
اللہ تعالیٰ نے اس کائنات میں بعض کو بعض پر فضیلت اور فوقیت دی ہے انسانوں کو دوسری تمام مخلوقات پر برتری عطا کی وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِي آدَمَ انسانوں میں بھی انبیا کا مقام بہت اونچا بنایا یہ فضیلت صرف انسانوں تک ہی محدود نہیں بلکہ نوع انسان سے متجاوز ہو کر امکنہ و مقامات تک پہنچتی ہیں چنانچہ اللہ تعالیٰ نے امکنہ و مقامات میں بھی بعض کو بعض پر فوقیت اور برتری عطا کی انھی گنتی کے چند مقامات میں سے ایک ہے مدینۃ الرسول صلی اللہ علیہ و سلم جس کی فضیلت آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے مختلف اقوال سے عیاں ہے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے مدینے سے محبت اس کے متعلق آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے ارشادات آپ صلی اللہ علیہ و سلم کا اس کے لیے برکت کی دعا کرنا وہاں کے باشندوں سے آپ صلی اللہ علیہ و سلم کا تعلق وہاں پر نماز پڑھنے کی فضیلت وہاں کے باشندوں کی فضیلت اس شہر کے کثیر تعداد میں نام ان ناموں کی وجہ اور بہت کچھ پڑھ کر اپنے دل و دماغ روشن اور ایمان تازہ کیجیے

(مدینے کی فضیلت کی بنیادی وجہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت)مختصراً یہ کہ جب مکہ میں کفار کی سازشیں بڑھ گئیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اور صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کو طرح طرح کی تکلیفیں اور اذیتیں دینے لگے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کو دین پر رہنا اس کے تقاضوں کو پورا کرنا اور اس کی اشاعت میں دشواری ہونے لگی تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہجرت کی اجازت دی یہ بات بھی ذہن میں رہے کہ جاۓ ہجرت کا انتخاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ازخود نہیں کیا بلکہ مدینہ کا انتخاب اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے تھا اس سے بخوبی اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ اس بلد جمال کی عظمت و فضیلت کیا ہوگی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے خواب کے ذریعے ہجرت کی جگہ دکھلائی گئی متفق علیہ روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے خواب میں دیکھا کہ میں مکہ سے ایسی سرزمین کی طرف ہجرت کر رہا ہوں جہاں کھجور کے درخت ہیں میرا خیال تھا کہ وہ یمامہ یا ھَجر ہے لیکن وہ تو مدینہ یعنی یثرب نکلا خواب کے چند مدت بعد ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہجرت کی اجازت ملی ہجرت کی جگہ کا نام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آمد سے پہلے یثرب تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری کے بعد یثرب کو مدینہ میں تبدیل کیا گیا بدلنے کی وجہ یہ تھی کہ یثرب تثریب سے مشتق ہے تثریب کے معنی توبیخ اور ملامت کرنے کے آتے ہیں یا ثَرب سے مشتق ہے جس کے معنی فساد کے آتے ہیں اور یہ دونوں معنی کے اعتبار سے غیرمناسب الفاظ ہیں جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم برائی سے کوسوں دور اور اچھائی کو اور اچھے ناموں کو پسند کرنے والے تھے اس لیے اس نام کو برقرار نہیں رکھا گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کے بعد مدینہ اسلام کا مرکز بن گیا

(کثرات اسماء کے اعتبار سے مدینے کی فضیلت) کہا جاتا ہے کسی بھی زمین کے ایک سے زیادہ نام اس کے باعظمت اور محترم ہونے پر دلالت کرتے ہیں مدینہ منورہ کو یہ فضیلت حاصل رہی ہے کہ اس کے سو سے زائد نام علماء نے بیان کیے ہیں چند مشہور اسماء درج ذیل ہیں ۱ یثرب واذ قالت طائفۃ منهم یا اھل یثرب لا مقام لكم فارجعوا اوپر گزر چکا ہے معنی مناسب نہ رہنے کی وجہ سے اس نام کو برقرار نہیں رکھا گیا سوال پیدا ہو سکتا ہے کہ قرآن مجید میں اس کا تذکرہ کیوں آیا ہے قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے منافقین کے قول کو حکایتاً بیان فرمایا ہے ۲ طیبہ اور طابہ حدیث میں اس کا ذکر ملتا ہے طیبہ اور طابہ کہنے کی وجہ بھی علماء نے مختلف بیان کی ہے جس میں سے ایک یہ بھی کہ مدینے میں زندگی گزارنا خوشگوار معلوم ہوتا ہے اس لیے لیے اس کو طیبہ اور طابہ کہا گیا واللہ اعلم روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینے کو طیبہ اور طابہ کہنا بذات خود نہیں تھا بلکہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے حکم تھا مدینے کے اور بہت سے نام ہیں دارالھجرۃ، دار الایمان، دارالسلام، ذات النخل وغیرہ وغیرہ جس کی تفصیل فضائل المدینة المنورہ میں موجود ہے

(رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا سے مدینے میں برکات کا ظہور) آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینے آنے کے بعد کثرت سے ہر چیز میں اللہ سے برکت کا سوال کرتے دعا کے نتیجے میں کثرت سے برکات کا ظہور ہوتا آپ صلی اللہ علیہ وسلم دعا کیا کرتے اللہم بارک لنا فی مدینتنا او کما قال علیہ الصلاۃ السلام اللہم ارزقنا من ثمرات الارض وبارک لنا فی مدناوصاعنا اہلِ مدینہ کو اسلام کی عظیم دولت سے مالامال ہونے کے بعد معلوم ہو گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی برکات کتنی وسیع اور لامحدود ہیں جب بھی موسم کا نیا پھل دیکھتے تو سب سے پہلا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کرتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے برکت کی دعا کراتے اس سے بھی اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ اس سرزمین کی کیا فضیلت ہوگی جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی برکات کا ظہور ہو رہا ہو

(رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینے سے محبت اور مدینے میں رہنے کی تاکید وغیرہ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر سے لوٹتے اور مدینے کی سرحد دیکھتے تیزی سے چلتے آپ صلی اللہ علیہ وسلم دعا کیا کرتے اللہم حبب الینا المدینة کحبنا مکۃ أو اشد رواہ البخاری اسی طرح مدینے میں رہنے کی تاکید کیا کرتے فرمایا کرتے جو شخص مدینے میں وفات پانے کی استطاعت رکھتا ہو تو اسے چاہیے کہ وہ مدینے ہی میں وفات پائے اس لیے کہ جس کا انتقال مدینے میں ہوگا تو میں قیامت کے دن اس کے لیے گواہی دوں گا یا اس کے لیے سفارش کروں گا اسے طبرانی نے روایت کیا ہے اس حدیث میں مدینے سے الگ نہ ہونے کی تاکید ہے یعنی آدمی اپنی استطاعت بھر مدینے میں ہی رہنے کی کوشش کرے مدینے کو نہ چھوڑے مدینہ میں ہی موت آنا نہ آنا یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے اس سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس زمین کی کیا فضیلت ہے جس میں رہنے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی گواہی یا سفارشی ہوگی اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سفارش و گواہی ان اشخاص کے لیے بھی ہوگی جو بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں سے مدینے کی تنگی اور تکالیف پر صبر کرے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے امت میں سے جو بھی مدینے کی تنگی اور تکالیف پر ڈٹا رہے یعنی صبر کرے تو میں قیامت کے دن اس کے حق میں سفارشی یا گواہی دینے والا ہوں اسی طرح مدینہ گندگی اور برے لوگوں کو باہر پھینکتا رہتا ہے حدیث میں مدینے کی مثال گندگی کو دور کرنے اور برے لوگوں کی جلاوطنی میں لوہے کی دھوکنی سے دی گئی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مدینے کی مثال دھوکنی کی سی ہے، وہ گندگی کو ایک اور روایت میں برے لوگوں کو دور کرتا ہے جیسے کہ دھوکنی لوہے کی گندگی کو دور کرتی ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی مدینے کو حرم قرار دیا ہے یعنی لڑنا، درخت کاٹنا، شکار کرنا، درختوں کو کاٹنا وغیرہ حرام ہے

(مسجد نبوی اور اس میں نماز پڑھنے کی فضیلت) مسجد نبوی کی فضیلت اس طور پر کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم الانبیاء بنا کر مبعوث کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی اور رسول نہیں آئے گا اسی طرح انبیاء کی مساجد میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد آخری ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد کے بعد کسی نبی کی مسجد تعمیر نہیں ہوگی متفق علیہ روایت میں جس کے راوی حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس حدیث میں نماز پڑھنے کی فضیلت کا بھی تذکرہ ہے کہ میری اس مسجد میں ایک نماز پڑھنا دوسری مسجدوں میں ایک ہزار نمازوں سے بہتر ہے سوائے مسجد حرام کے میں آخری نبی ہوں اور میری مسجد آخری مسجد ہے

(مدینہ دجال اور طاعون کی بیماری سے محفوظ شہر)مدینے کے فضائل میں سے یہ بھی ہے کہ مدینے میں دجال اور طاعون کی بیماری نہیں آ سکے گی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مدینے میں مسیح اور طاعون کی بیماری نہیں آ سکے گی مسیح سے مراد دجال ہے اور بھی بہت سے فضائل ہیں اس بلد جمال کے مثلاً آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان کہ لوگ علم کی تلاش میں سفر کریں گے مگر مدینے کے عالم سے بڑھ کر کسی کو نہیں پائیں گے اور بھی اس کے بے شمار فضائل ہیں جن کا احاطہ کرنا مشکل ہے۔

(انصار کے فضائل)
انصار کے لیے یہی بات کافی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ان کی تعریف فرمائی:
وَالسَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُم بِإِحْسَانٍ رَّضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ وَأَعَدَّ لَهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي تَحْتَهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا ذَٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لَوْ سَلَكَ النَّاسُ وَادِيًا أَوْ شِعْبًا وَسَلَكَتِ الْأَنْصَارُ وَادِيًا أَوْ شِعْبًا لَسَلَكْتُ وَادِيَ الْأَنْصَارِ أَوْ شِعْبَ الْأَنْصَارِ أوْ کَمَا قَالَ عَلَیْهِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَامُ

وعن البراء رضي الله عنه قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول:
«الأنصارُ لا يُحِبُّهُم إلا مؤمن، ولا يُبغِضُهُم إلا منافق، فمن أحبَّهُم أحبَّهُ الله، ومن أبغضَهُم أبغضَهُ الله».
متفق عليه.
ترجمہ:
حضرت براء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا:
انصار سے محبت نہیں رکھتا مگر مومن، اور ان سے بغض نہیں رکھتا مگر منافق پس جو ان سے محبت کرے اللہ اس سے محبت کرتا ہے، اور جو ان سے بغض رکھے اللہ اس سے بغض رکھتا ہے 
صحیح البخاری (فتح الباری)رقم ۳۷۸۳ ومسلم کتاب الایمان

وعن أنس رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال:
«آيةُ الإيمانِ حُبُّ الأنصار، وآيةُ النفاقِ بُغضُ الأنصار».
متفق عليه.
ترجمہ:
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
“انصار سے محبت ایمان کی نشانی ہے، اور انصار سے بغض نفاق کی نشانی ہے۔ متفق علیہ 
صحیح البخاری (فتح الباری) ۳۷۸۴ ومسلم کتاب الایمان

عن زيد بن أرقم رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:
«اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ، وَلِأَبْنَاءِ الْأَنْصَارِ، وَلِأَبْنَاءِ أَبْنَاءِ الْأَنْصَارِ»
رواه مسلم 
ترجمہ 
حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“اے اللہ! انصار کی مغفرت فرما، انصار کی اولاد کی مغفرت فرما، اور ان کی اولاد کی اولاد کی مغفرت فرما
یہ مختصراً مدینہ کے تعلق سے فضائل تھے 
وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين.