نفسیات بتاتی ہے کہ انسانی دماغ مثبت تجربات کے مقابلے میں منفی تجربات کو زیادہ شدت  سے  محسوس کرتا ہے ۔ اس رجحان کو منفی رُجحان  کہا جاتا ہے ۔
اگر دس لوگ آپ کی تعریف کریں اور ایک آپ کو برا که دے تو انسان کا دماغ دس تعریف کو بھول کر ایک منفی تنقید پر اٹک جاتا ہے، دن بھر اچھا گزرا ہو لیکن ایک تلخ واقعہ یادداشت پر چھا جاتا ہے ۔ نعمتوں کی کثرت ہو اور کہیں ایک کمی آ جائے تو اس کی توجہ اکثر اسی کمی پر مرکوز ہو جاتی ہے ۔
قرآن نے اس لیے انسان کو ناشکرا اور جلد بھول جانے والا قرار دیا ہے یعنی نعمت سامنے ہوتے ہوئے بھی ناشکری کرنا ۔
اسلام انسان کو منفی خیال میں قید رہنے کے بجائے شکر کی طرف بلاتا ہے کیوں کہ شکر صرف عبادت نہیں بلکہ ذہنی توازن بن جاتی ہے۔