*موت العالمِ موت العالم*

*حضرت علامہ مولانا مبارک حسین مصباحی رحمہ اللہ کے وصال پر تعزیتی تاثرات*
مؤرخہ 18 ذی الحجہ 1447ھ مطابق 5 جون 2026ء کی صبح جب دوران سفر یہ اندوہناک خبر موصول ہوئی کہ اہلِ سنت کے جلیل القدر عالم، ممتاز صحافی، باوقار ادیب اور الجامعۃ الاشرفیہ مبارک پور کے مایۂ ناز استاذ *حضرت علامہ مولانا مبارک حسین مصباحی رحمہ اللہ* اس دارِ فانی کو الوداع کہ کر دار البقاء کی جانب تشریف لے گئے ہیں، تو دل پر غم کا ایک پہاڑ ٹوٹ پڑا، بے اختیار زبان سے نکلا، إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔

بلاشبہ علماء کا وصال امت کا عظیم خسارہ ہوتا ہے، ایک عالم کی موت دراصل ایک عالم کے ختم ہو جانے کا نام ہے، *حضرت مولانا مبارک حسین مصباحی رحمہ اللہ صرف ایک مدرس یا مدیر نہیں تھے بلکہ وہ علم، ادب، صحافت، سنجیدگی، اعتدال اور فکری بصیرت کا حسین امتزاج تھے،آپ نے تدریس کے میدان میں ہزاروں طلبہ کی علمی تربیت فرمائی اور صحافت کے محاذ پر ماہنامہ اشرفیہ کو ایسی بلندیوں تک پہنچایا کہ وہ اہلِ سنت کے معتبر علمی و فکری ترجمان کے طور پر پہچانا جانے لگا۔* آپ کی تحریروں میں فکر کی پختگی، اندازِ بیان میں شائستگی اور حق گوئی میں بے باکی نمایاں تھی، آپ نے اپنے اداریوں اور تصانیف کے ذریعے ملت کو فکری انتشار کے اسباب سے آگاہ کیا، باطل نظریات کا علمی تعاقب کیا اور اہلِ حق کے موقف کو مضبوط دلائل کے ساتھ پیش کیا، یہی وجہ ہے کہ آپ کی علمی و صحافتی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔
اللہ تعالیٰ نے مجھے بھی یہ سعادت عطا فرمائی کہ *میں حضرت رحمہ اللہ کی نمازِ جنازہ میں شریک ہوا، یہ میرے لیے ایک عظیم شرف اور ناقابلِ فراموش سعادت ہے* جنازہ میں شریک ہو کر شدت کے ساتھ یہ احساس ہوا کہ آج اہلِ سنت ایک ایسی علمی شخصیت سے محروم ہو گئی ہے جس کی کمی مدتوں محسوس کی جائے گی، علماء، طلبہ، عقیدت مندوں اور اہلِ علم کے چہروں پر غم و اندوہ کے آثار نمایاں تھے اور ہر آنکھ اشکبار دکھائی دے رہی تھی،حضرت مولانا مبارک حسین مصباحی رحمہ اللہ کی وفات یقیناً اہلِ سنت کے علمی، فکری اور صحافتی حلقوں کے لیے ایک بڑا سانحہ ہے، لیکن ان کی علمی یادگاریں، تحریریں، شاگرد اور دینی خدمات ہمیشہ ان کے زندہ نقوش بن کر باقی رہیں گی۔
اللہ رب العزت جل جلالہ سے دعا ہے کہ حضرت کی کامل مغفرت فرمائے، ان کی قبر کو جنت کے باغوں میں سے ایک باغ بنائے، جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ان کے اہلِ خانہ، تلامذہ، متعلقین اور تمام سوگواران کو صبرِ جمیل نصیب فرمائے۔آمین بجاہ سید المرسلین ﷺ۔
*شریکِ غم:محمد مزمل فیضی مصباحی*

            *✍️متعلم الجامعۃ الاشرفیہ✍️*