آج نہیں تو کبھی نہیں
انسان کی زندگی بہت مختصر اور قیمتی ہے۔ جو وقت گزر جاتا ہے، وہ کبھی واپس نہیں آتا۔ کامیاب لوگ وہ ہوتے ہیں جو آج کے کام کو کل پر نہیں ٹالتے بلکہ وقت کی قدر کرتے ہوئے فوراً نیک عمل اور اصلاحِ نفس کی طرف قدم بڑھاتے ہیں۔ "آج نہیں تو کبھی نہیں" دراصل عمل، عزم اور وقت کی اہمیت کا پیغام ہے۔
اسلام انسان کو سستی، کاہلی اور ٹال مٹول سے بچنے کی تعلیم دیتا ہے۔ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
"فَإِذَا فَرَغْتَ فَانصَبْ وَإِلَىٰ رَبِّكَ فَارْغَبْ" (سورۃ الشرح: 7-8)
ترجمہ: "پھر جب تم ایک کام سے فارغ ہو جاؤ تو دوسرے کام میں لگ جاؤ، اور اپنے رب ہی کی طرف متوجہ رہو۔"
یہ آیت ہمیں مسلسل محنت، جدوجہد اور وقت کے صحیح استعمال کی تعلیم دیتی ہے۔ ایک مومن ہر لمحہ اپنی زندگی کو بہتر بنانے کی کوشش کرتا ہے۔
اللہ تعالیٰ قرآنِ مجید میں زمانے کی قسم کھاتے ہوئے فرماتا ہے:
"وَالْعَصْرِ إِنَّ الْإِنسَانَ لَفِي خُسْرٍ" (سورۃ العصر: 1-2)
ترجمہ: "زمانے کی قسم! بے شک انسان خسارے میں ہے۔"
اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ وقت ضائع کرنا دراصل نقصان کا سودا ہے۔ جو شخص نیک اعمال اور بھلائی کے کاموں کو مؤخر کرتا رہتا ہے، وہ اپنی زندگی کے قیمتی مواقع کھو دیتا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"پانچ چیزوں کو پانچ چیزوں سے پہلے غنیمت جانو: اپنی جوانی کو بڑھاپے سے پہلے، صحت کو بیماری سے پہلے، مالداری کو محتاجی سے پہلے، فراغت کو مصروفیت سے پہلے اور زندگی کو موت سے پہلے۔" (مستدرک حاکم)
یہ حدیث ہمیں یاد دلاتی ہے کہ زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں، اس لیے نیکی، توبہ، علم حاصل کرنے اور دوسروں کی خدمت جیسے کاموں کو کل پر نہیں چھوڑنا چاہیے۔
اسلامی تاریخ میں ہمیں بے شمار مثالیں ملتی ہیں کہ صحابۂ کرامؓ نیکی کے کاموں میں جلدی کرتے تھے۔ جب بھی اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا حکم آتا تو وہ فوراً اس پر عمل کرتے تھے۔ یہی جذبہ انہیں دنیا و آخرت میں کامیاب بناتا تھا۔
آج کے دور میں بہت سے لوگ نماز، تلاوتِ قرآن، تعلیم، توبہ یا اچھے کاموں کو یہ سوچ کر مؤخر کر دیتے ہیں کہ بعد میں کر لیں گے، لیکن زندگی کا کوئی یقین نہیں۔ ایک سچا مسلمان ہر اچھے کام کے لیے یہی سوچتا ہے: "آج نہیں تو کبھی نہیں۔"
مختصراً، "آج نہیں تو کبھی نہیں" وقت کی قدر، عمل کی اہمیت اور نیکی میں سبقت کا درس دیتا ہے۔ قرآن و حدیث ہمیں سکھاتے ہیں کہ زندگی کے قیمتی لمحات کو ضائع نہ کریں بلکہ ہر نیک کام کو بروقت انجام دیں۔ جو شخص آج کو سنوار لیتا ہے، اس کا کل بھی روشن ہو جاتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں وقت کی قدر کرنے، نیک اعمال میں جلدی کرنے اور اپنی زندگی کو مفید بنانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔