*١٨ ذی الحجہ* ایک ایسا دن جب آسمان بھی گریہ کناں دکھائی دیا؛ جب زمین بھی شدتِ کرب سے تھرا اٹھی؛ جب سمندر کی موجیں بھی درد غم کی تاب نہ لاکر سکوت اختیار کر گئیں؛ اور جب گویا کائنات کی ہراشیاءِ بے جان و بے زبان اس مقدس ہستی کی پاکیزگی و طہارت اور حقانیت کی گواہی دینے لگی ایک ایسا درد ناک لمحہ جب دنیا کی آنکھوں کے سامنے لاکھوں مربع میل کا حکمراں انتہائی کسم پرسی کے عالم میں اتحادِ امت کا علم بلند کرتے ہوۓ تلاوت قرآن کی حلاوت میں مگن ہو کر جام شہادت نوش کر گیا؛ جی ہاں ہم ذکرِ خیر کر رہے ہیں اس مبارک و مقدس ہستی کا جنہیں دنیا *ذو النورین* کے لقب سے یاد کرتی ہے ؛ خلیفۂ ثالث دامادِ رسول جود و سخا کے پیکر ؛ عدل و انصاف کے محور ؛ مال و زر کو اسلام پر ہر آن نچھاور کرنے والے؛ عشرہ مبشرہ کے درخشاں فرد ؛ نرم دل ؛ خوش مزاج؛ خوب رو ؛ خوش خلق؛ ملنسار؛یتیموں کے غمخوار ؛ بیواؤں کے غم گسار؛ تہجد گزار ؛ فکر امت میں ہر آن بے قرار؛ یارِ رسول؛ فردوس میں اعلیٰ مقام کے حق دار ؛ مراد من؛ قلب من؛ امیدِ من؛ حضرت *عثمان غنی رضی اللہ عنہ*
آپ ابتداءِ اسلام ہی سے دامنِ اسلام سے وابستہ ہوۓ اور ساری زندگی دین اسلام کی سربلندی میں وقف کر دی؛ سردار تھے ؛ حلاوت ایمانی کے بعد دربارِ رسول کے غلام ہو گئے؛ ایمان کی پاداش میں اپنوں کی مصیبتوں کا سامنا کیا مخالفتیں برداشت کیں؛ گھر بار کو بالاۓ طاق رکھ کر ہجرت کیا اور ساری زندگی رسول اللہ ﷺ کے سچے جانشین بن کر زندگی کے ایام گزارے ؛ آپ ہر آن اسلام کی اعانت و مدد کے لیے تیار رہتے کتبِ احادیث و سیرت میں آپکے جود و سخا کے بے شمار واقعات درج ہیں ؛ رسول خدا نے آپکو بے شمار فضیلت اسی دنیا میں رہتے ہوۓ سنائیں ؛ ساتھ ہی آپ کو شہادت کی بشارت کا مژدہ بھی سنا کر اپکو صفہاۓ شہدا کا شیدائی بنا دیا تھا جس کا حقیقی ورق ۱۸ ذی الحجہ کو کھل کر آپکی شہادت کی صورت میں دنیا کے سامنے آیا
آپکی شہادت کا قصہ تاریخ کے ان المناک باب میں سے ایک ہے جسے پڑھتے وقت دل میں رِقت اتر آتی ہے ؛ انکھیں نم ہو جاتی ہیں اور لب خشکی کا شکار ہوجاتے ہیں ؛ محو حیرت اضطرار سی کیفیت میں اس منظر کو یاد کرتا ہوں تو غم سے رنجور ہو جاتا ہوں؛ کہ کس طرح اس نرم دل حلیم الطبع خلیفہ کو دامِ تز ویر میں پھنسانے کے لیے عجیب و غریب ہتھکنڈے اپناے گئے؛ کیسے کیسے مفروضات تراشے گئے ، اس مردِ پاکباز پر کیسی کیسی الزام تراشیاں کی گئیں؛ لیکن عالم یہ کہ خلیفہ وقت سب کچھ دیکھ رہے ہیں ؛ سمجھا رہے ہیں منع کر رہے ہیں؛ نظر انداز کر رہے ہیں؛ مگر انکے خون بہانے سے گریزاں ہیں؛ چاہتے تو ایک لمحے میں اس خس و خاشاک کو تہ تیغ کر ڈالتے؛ اور سبائیت کو صحرائے عرب میں عرینہ کے خبیثوں کے مثل نشان عبرت بنا دیتے؛ مگر پھر اس مظلوم کی مظلومیت پر آسمان روزِ محشر گواہ کیسے بن پاتا؛ سبائی تھے کہ ہر آن ایک طوفان برپا کئے رہتے؛ الزامات کا نیا باب ہر گزرتے دن کے ساتھ وا کیے رہتے ؛ایسا نہیں تھا کہ آپ تنہاء تھے دیکھیں تو ذرا؛ صحابہ کرام موجود ہیں؛ حسنین موجود ہیں؛ شیرِ خدا موجود ہیں؛ بیشمار مردِ میدان موجود ہیں ؛ ہر کوئی اجازت طلبی میں کوشاں؛ کہ حکم ہو اور فتنے کا سدِ باب کر روز کے قصہ کو تمام کر ڈالیں؛ مگر ہر آن حکم یہی کہ خون خرابہ نہ ہو؛ کسی کلمہ گو کا لہو نہ بہے ؛ اگر چہ خلیفہ کی جان ہی کیوں نہ چلی جاۓ ؛
ذرا سوچیں : کیا اس سے قبل کبھی آسمان نے بھی ایسا منظر دیکھا ہوگا ؛ کیا کبھی زمین نے بھی ایسی مثال سنی ہوگی؛ کیا تاریخ نے کبھی ایسا فرماں روا دیکھا ہوگا کہ جان لینے کے لیے دروازے پر قاتل کھڑے ہوں ؛ جاں نثار دفاع کے لیے بے تاب ہوں ؛ مگر خلیفۂ وقت خود امت کے اتحاد کے واسطے اپنی جان کی بازی لگانے کو تیار ہو ؛ در حقیقت حضرت عثمان رضی الله عنہ اس صبر کے واسطے رسول الله کے اس فرمان پر کھرا اترنے کی کوشش کر رہے تھے جس کی خبر آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پہلے ہی دے چکے تھے ؛ جس کی تعمیل میں وہ تلوار اٹھانےکو گوارا نہیں کرتے تھے، اور فرماتے تھے کہ ( قتال کی اجازت دینے کی صورت میں)مَیں رسول اللہ ﷺ کا وہ پہلانائب ہوں گا جو کسی مسلمان پر تلوار اٹھائے (البدایہ والنہایہ)
چنانچہ آپؓ نے کسی سے مدد طلب نہ کی اور جو لوگ دفاع کی اجازت مانگتے رہے، انہیں بھی منع فرماتے رہے۔ یہاں تک کہ 18 ذی الحجہ 35 ہجری کو وہ بدبخت باغی آپؓ کے گھر میں داخل ہو گئے۔ اس وقت آپؓ تلاوتِ قرآنِ مجید میں مشغول تھے۔ انہی لمحات میں انہوں نے مظلوم خلیفہ، دامادِ رسول ﷺ حضرت ذوالنورین کو شہید کر دیا۔ یوں حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ کی پیشین گوئی کو اپنی آنکھوں کے سامنے پورا ہوتے دیکھا اور صبر، رضا اور استقامت کا وہ باب رقم کر گئے جس کی مثال تاریخ میں بہت کم ملتی ہے