قرآن کا تصورِ صنفی انصاف: عورت کے وقار اور حقوق کا آفاقی منشور
دنیا میں خواتین کے حقوق اور صنفی مساوات پر آج جتنی بحث ہو رہی ہے، شاید پہلے کبھی نہ ہوئی ہو۔ مختلف معاشرے عورت کے مقام، آزادی اور حقوق کے حوالے سے نئے نئے نظریات پیش کر رہے ہیں۔ لیکن ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ چودہ سو سال قبل قرآنِ کریم نے عورت کے بارے میں جو متوازن، منصفانہ اور باوقار تصور پیش کیا، وہ آج بھی اپنی معنویت اور افادیت برقرار رکھے ہوئے ہے۔
اسلام سے پہلے دنیا کی بیشتر تہذیبوں میں عورت کو کم تر سمجھا جاتا تھا۔ عرب میں بیٹی کی پیدائش باعثِ عار سمجھی جاتی تھی اور بعض لوگ اپنی بیٹیوں کو زندہ دفن کر دیتے تھے۔ رومی اور ایرانی معاشروں میں بھی عورت بنیادی انسانی حقوق سے محروم تھی، جبکہ قدیم ہندوستان میں بیوہ عورت کی زندگی انتہائی کٹھن بنا دی جاتی تھی۔
ایسے تاریک ماحول میں قرآنِ کریم نے ایک انقلابی پیغام دیا۔ اس نے عورت کو محض کسی مرد کی ملکیت یا تابع وجود نہیں بلکہ ایک مستقل شخصیت اور مکمل انسان قرار دیا۔ قرآن نے واضح کیا کہ مرد اور عورت دونوں ایک ہی اصل سے پیدا کیے گئے ہیں اور دونوں انسانی عزت و تکریم میں برابر ہیں۔
قرآن کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ اس نے عورت کو صرف حقوق ہی نہیں دیے بلکہ اسے تاریخ کے بہترین کرداروں میں بھی شامل کیا۔ حضرت مریمؑ کو پاکیزگی اور روحانیت کی علامت بنایا گیا، حضرت آسیہؑ کو ظلم کے خلاف استقامت کا نمونہ قرار دیا گیا، مادرِ موسیٰؑ کو جرات اور توکل کی مثال کے طور پر پیش کیا گیا، جبکہ ملکہ سبا کے ذریعے سیاسی بصیرت اور دانشمندانہ قیادت کی تصویر دکھائی گئی۔ یہ تمام مثالیں ثابت کرتی ہیں کہ فضیلت، قیادت اور قربِ الٰہی کسی ایک صنف کی میراث نہیں۔
قرآن نے خواتین کو معاشی حقوق بھی عطا کیے۔ وراثت میں حصہ، جائیداد کی ملکیت اور اپنی کمائی پر مکمل اختیار ایسے حقوق ہیں جو دنیا کے بہت سے معاشروں میں صدیوں بعد تسلیم کیے گئے، جبکہ اسلام نے انہیں ابتدا ہی سے قانونی حیثیت دی۔ اسی طرح نکاح میں عورت کی رضامندی کو لازمی قرار دے کر اسے ازدواجی زندگی کے فیصلوں میں فعال کردار عطا کیا۔
تعلیم کے میدان میں بھی اسلام نے عورت اور مرد کے درمیان کوئی تفریق نہیں کی۔ رسول اللہ ﷺ نے خواتین کی تعلیم و تربیت کے لیے خصوصی مجالس منعقد فرمائیں۔ حضرت عائشہؓ کا علمی مقام اس حقیقت کا روشن ثبوت ہے کہ خواتین علم، تحقیق اور فکری رہنمائی میں نمایاں کردار ادا کر سکتی ہیں۔
قرآن کا تصورِ صنفی انصاف محض قانونی حقوق تک محدود نہیں۔ یہ ایک ایسا متوازن نظام پیش کرتا ہے جس میں مرد اور عورت ایک دوسرے کے حریف نہیں بلکہ معاون اور شریکِ سفر ہیں۔ قرآن انہیں ایک دوسرے کا "لباس" قرار دیتا ہے، جو محبت، تحفظ اور سکون کی علامت ہے۔
روحانی اعتبار سے بھی اسلام نے عورت کو مرد کے برابر مقام دیا۔ قرآن بار بار واضح کرتا ہے کہ ایمان، عبادت، تقویٰ اور نیک اعمال کا اجر مرد اور عورت دونوں کے لیے یکساں ہے۔ اللہ کے نزدیک عزت کا معیار جنس نہیں بلکہ تقویٰ اور کردار ہے۔
عصرِ حاضر میں جب دنیا صنفی انصاف کے مختلف ماڈلز تلاش کر رہی ہے، قرآن کا پیش کردہ تصور ایک متوازن اور پائیدار حل فراہم کرتا ہے۔ یہ نہ مرد کی بالادستی کا نظریہ ہے اور نہ عورت کی برتری کا؛ بلکہ عدل، احترام، ذمہ داری اور انسانی وقار پر مبنی ایک ایسا نظام ہے جو دونوں اصناف کے حقوق اور فرائض میں توازن پیدا کرتا ہے۔
مختصراً، قرآنِ کریم نے عورت کو عزت، شناخت، تحفظ، تعلیم، معاشی خودمختاری اور روحانی ترقی کے وہ مواقع فراہم کیے جو انسانی تاریخ میں ایک عظیم انقلاب کی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قرآنی صنفی انصاف آج بھی انسانیت کے لیے رہنمائی کا ایک روشن مینار ہے اور مستقبل میں بھی رہے گا۔
— ختم شد —