اپنی روشنی آپ بنو
اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا اور اسے عقل، شعور اور ہدایت کی نعمت عطا فرمائی۔ ایک مسلمان کا فرض ہے کہ وہ دوسروں کے سہارے اور رہنمائی کا منتظر رہنے کے بجائے خود علم، ایمان اور کردار کی روشنی حاصل کرے۔ "اپنی روشنی آپ بنو" کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنی زندگی کو قرآن و سنت کے مطابق سنوارے اور اپنے کردار سے دوسروں کے لیے مثال بن جائے۔
قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
"اللّٰهُ وَلِيُّ الَّذِينَ آمَنُوا يُخْرِجُهُم مِّنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ" (سورۃ البقرہ: 257)
ترجمہ: "اللہ ایمان والوں کا کارساز ہے، وہ انہیں اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لے جاتا ہے۔"
اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اصل روشنی ایمان، علم اور ہدایت کی روشنی ہے۔ جو شخص اللہ تعالیٰ سے تعلق مضبوط کرتا ہے، اس کی زندگی منور ہو جاتی ہے۔
اللہ تعالیٰ ایک اور مقام پر فرماتا ہے:
"قَدْ جَاءَكُم مِّنَ اللّٰهِ نُورٌ وَكِتَابٌ مُّبِينٌ" (سورۃ المائدہ: 15)
ترجمہ: "تمہارے پاس اللہ کی طرف سے ایک نور اور روشن کتاب آ چکی ہے۔"
یہ نور نبی کریم ﷺ کی تعلیمات اور قرآنِ کریم کی ہدایت ہے، جو انسان کو کامیابی کا راستہ دکھاتی ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو قرآن سیکھے اور سکھائے۔" (صحیح بخاری)
یہ حدیث اس بات کی ترغیب دیتی ہے کہ انسان خود علم حاصل کرے اور دوسروں تک بھی علم کی روشنی پہنچائے۔ یہی حقیقی کامیابی اور روشنی ہے۔
اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ انسان اپنے اعمال، اخلاق اور کردار سے دوسروں کے لیے مثال بنے۔ اگر معاشرے میں برائیاں ہوں تو مومن ان کا حصہ بننے کے بجائے اپنی اصلاح کرے اور نیکی کی شمع روشن کرے۔ ایک روشن چراغ سینکڑوں چراغوں کو روشن کر سکتا ہے، اسی طرح ایک اچھا انسان پورے معاشرے پر مثبت اثر ڈال سکتا ہے۔
طالب علم اپنی روشنی علم کے ذریعے، استاد تعلیم کے ذریعے، والدین اچھی تربیت کے ذریعے اور ہر مسلمان نیک اعمال کے ذریعے پھیلا سکتا ہے۔ جب انسان خود سچائی، دیانت داری، صبر، شکر اور تقویٰ اختیار کرتا ہے تو وہ دوسروں کے لیے بھی ہدایت کا ذریعہ بن جاتا ہے۔
مختصراً، "اپنی روشنی آپ بنو" کا پیغام یہ ہے کہ انسان اپنی زندگی کو قرآن و سنت کی تعلیمات کے مطابق ڈھالے، علم و عمل سے خود کو روشن کرے اور دوسروں کے لیے خیر و بھلائی کا ذریعہ بنے۔ جو شخص اپنے اندر ایمان اور کردار کی روشنی پیدا کر لیتا ہے، وہ نہ صرف اپنی زندگی سنوارتا ہے بلکہ معاشرے کو بھی منور کر دیتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں علم، ایمان اور نیک اعمال کی روشنی عطا فرمائے اور دوسروں کے لیے ہدایت کا ذریعہ بنائے۔ آمین۔
فوزیہ عرفان