زندگی ایک امتحان ہے
اللہ تعالیٰ نے انسان کو اس دنیا میں بے مقصد پیدا نہیں کیا بلکہ اسے ایک عظیم مقصد کے تحت دنیا میں بھیجا ہے۔ یہ دنیا آرام گاہ نہیں بلکہ امتحان گاہ ہے۔ انسان کی پوری زندگی آزمائشوں، ذمہ داریوں اور امتحانات سے عبارت ہے۔ اللہ تعالیٰ دیکھتا ہے کہ بندہ خوشی اور غم، آسانی اور تنگی، دولت اور غربت، صحت اور بیماری کے حالات میں کس طرح عمل کرتا ہے۔
قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
"الَّذِي خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيَاةَ لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا" (سورۃ الملک: 2)
ترجمہ: "جس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تاکہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے کون بہتر عمل کرتا ہے۔"
اس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ زندگی کا اصل مقصد اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور نیک اعمال کے ذریعے امتحان میں کامیاب ہونا ہے۔
اللہ تعالیٰ ایک اور مقام پر فرماتا ہے:
"وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْأَمْوَالِ وَالْأَنْفُسِ وَالثَّمَرَاتِ ۗ وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ" (سورۃ البقرہ: 155)
ترجمہ: "اور ہم ضرور تمہیں خوف، بھوک، مال، جانوں اور پھلوں کے نقصان سے آزمائیں گے، اور صبر کرنے والوں کو خوشخبری دے دو۔"
یہ آیت بتاتی ہے کہ مشکلات اور مصیبتیں دراصل امتحان کا حصہ ہیں۔ ایسے حالات میں صبر اور اللہ پر بھروسہ کرنے والے لوگ کامیاب قرار پاتے ہیں۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"الدنيا سجن المؤمن وجنة الكافر" (صحیح مسلم)
ترجمہ: "دنیا مومن کے لیے قید خانہ اور کافر کے لیے جنت ہے۔"
اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ مومن دنیا میں اللہ کے احکام کا پابند رہتا ہے اور اپنی خواہشات کو قابو میں رکھتا ہے، تاکہ آخرت میں کامیابی حاصل کر سکے۔
نبی کریم ﷺ اور صحابۂ کرامؓ کی زندگیاں بھی اس حقیقت کی بہترین مثال ہیں۔ انہوں نے شدید مشکلات، تکالیف اور آزمائشوں کا سامنا کیا، لیکن صبر، استقامت اور توکل کے ذریعے کامیابی حاصل کی۔ ان کا کردار ہمیں سکھاتا ہے کہ زندگی کے امتحانات سے گھبرانا نہیں چاہیے بلکہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ثابت قدم رہنا چاہیے۔
زندگی کا ہر لمحہ ایک امتحان ہے۔ علم، دولت، طاقت، صحت اور وقت سب اللہ تعالیٰ کی امانت ہیں۔ اگر انسان ان نعمتوں کو صحیح طریقے سے استعمال کرے تو وہ کامیاب ہو جاتا ہے، اور اگر ان کا غلط استعمال کرے تو ناکام ہو جاتا ہے۔
آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ زندگی واقعی ایک امتحان ہے۔ اس امتحان میں کامیابی کا راستہ ایمان، نیک اعمال، صبر، شکر اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں پوشیدہ ہے۔ جو شخص دنیا کی آزمائشوں میں ثابت قدم رہتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے دنیا و آخرت کی کامیابیوں سے نوازتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں زندگی کے ہر امتحان میں سرخرو ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
فوزیہ عرفان