اندھیرے کے بعد اجالا ضرور آتا ہے
اللہ تعالیٰ نے اس دنیا کا نظام ہی ایسا بنایا ہے کہ ہر رات کے بعد صبح آتی ہے، ہر مشکل کے بعد آسانی آتی ہے اور ہر اندھیرے کے بعد اجالا ضرور نمودار ہوتا ہے۔ ایک مسلمان کبھی مایوس نہیں ہوتا، کیونکہ اس کا ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر تنگی کے بعد کشادگی عطا فرماتا ہے۔ قرآن و حدیث میں بار بار صبر، امید اور اللہ پر بھروسے کی تعلیم دی گئی ہے۔
قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
"فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا، إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا" (سورۃ الشرح: 5-6)
ترجمہ: "بے شک ہر تنگی کے ساتھ آسانی ہے، یقیناً ہر تنگی کے ساتھ آسانی ہے۔"
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے دو مرتبہ آسانی کی بشارت دے کر بندوں کو تسلی دی ہے کہ مشکلات ہمیشہ باقی نہیں رہتیں بلکہ ان کے بعد راحت اور کامیابی آتی ہے۔
اسی طرح اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
"وَلَا تَيْأَسُوا مِنْ رَوْحِ اللّٰهِ" (سورۃ یوسف: 87)
ترجمہ: "اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو۔"
یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں، اللہ کی رحمت اور مدد سے امید نہیں چھوڑنی چاہیے۔
احادیثِ مبارکہ میں بھی صبر اور امید کی بڑی فضیلت بیان کی گئی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"عجباً لأمر المؤمن، إن أمره كله خير" (صحیح مسلم)
ترجمہ: "مومن کا معاملہ بھی عجیب ہے، اس کا ہر حال خیر ہی خیر ہے۔"
اگر اسے خوشی ملتی ہے تو شکر کرتا ہے اور اگر مصیبت آتی ہے تو صبر کرتا ہے، اور دونوں صورتوں میں اس کے لیے بھلائی ہوتی ہے۔
تاریخِ اسلام اس حقیقت کی روشن مثالوں سے بھری ہوئی ہے۔ نبی کریم ﷺ اور صحابۂ کرامؓ نے مکہ مکرمہ میں سخت تکالیف برداشت کیں، مگر صبر اور استقامت کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے انہیں عظیم کامیابیاں عطا فرمائیں۔ ہجرت، غزوات اور دیگر آزمائشوں کے بعد اسلام کا سورج پوری دنیا میں چمکا۔
آج بھی اگر انسان زندگی کے مسائل، ناکامیوں یا پریشانیوں کا سامنا کرے تو اسے صبر، دعا اور اللہ پر توکل اختیار کرنا چاہیے۔ مایوسی مسلمان کی شان نہیں۔ جو شخص اللہ پر بھروسہ کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے مشکلات کے دروازے بند اور آسانیوں کے دروازے کھول دیتا ہے۔
مختصراً، اندھیرے کے بعد اجالا آنا اللہ تعالیٰ کا اٹل قانون ہے۔ قرآن و حدیث ہمیں امید، صبر اور توکل کا درس دیتے ہیں۔ اس لیے ہمیں ہر حال میں اللہ کی رحمت سے امید رکھنی چاہیے اور یقین رکھنا چاہیے کہ مشکل وقت ہمیشہ نہیں رہتا، بلکہ اس کے بعد راحت، کامیابی اور خوشی ضرور آتی ہے۔
فوزیہ عرفان