خواب دیکھو، تعبیر کے لیے جاگو
اللہ تعالیٰ نے انسان کو بے شمار صلاحیتوں سے نوازا ہے۔ ہر انسان اپنی زندگی میں کامیابی، ترقی اور بھلائی کے خواب دیکھتا ہے۔ خواب دیکھنا فطری عمل ہے، لیکن اسلام صرف خواب دیکھنے کی تعلیم نہیں دیتا بلکہ ان خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کے لیے محنت، جدوجہد اور عمل کی بھی تلقین کرتا ہے۔ اسی لیے کہا جاتا ہے: "خواب دیکھو، تعبیر کے لیے جاگو"۔
قرآنِ کریم میں حضرت یوسفؑ کے خواب کا ذکر ملتا ہے۔ انہوں نے بچپن میں ایک عظیم خواب دیکھا کہ گیارہ ستارے، سورج اور چاند انہیں سجدہ کر رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے بعد میں اس خواب کو حقیقت بنا دیا۔ لیکن اس خواب کی تعبیر تک پہنچنے کے لیے حضرت یوسفؑ کو آزمائشوں، مشکلات، قید اور مسلسل صبر و استقامت سے گزرنا پڑا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صرف خواب کافی نہیں ہوتے بلکہ ان کی تعبیر کے لیے محنت اور ثابت قدمی ضروری ہے۔
اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے:
"وَأَنْ لَّيْسَ لِلْإِنسَانِ إِلَّا مَا سَعَىٰ" (سورۃ النجم: 39)
ترجمہ: "اور یہ کہ انسان کے لیے وہی کچھ ہے جس کی اس نے کوشش کی۔"
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ کامیابی محض خواہشات یا خوابوں سے حاصل نہیں ہوتی بلکہ کوشش اور محنت سے حاصل ہوتی ہے۔
نبی کریم ﷺ نے بھی عمل اور جدوجہد کی اہمیت کو بیان فرمایا۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
"طاقتور مومن اللہ کے نزدیک کمزور مومن سے بہتر اور زیادہ محبوب ہے، اگرچہ دونوں میں خیر ہے۔" (صحیح مسلم)
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ مومن کو فعال، محنتی اور باہمت ہونا چاہیے۔ جو شخص اپنے مقصد کے حصول کے لیے جدوجہد کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کی مدد فرماتا ہے۔
اسلام ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ خواب ایسے ہونے چاہییں جو دنیا و آخرت دونوں میں فائدہ پہنچانے والے ہوں۔ ایک مسلمان کا خواب صرف ذاتی کامیابی نہیں بلکہ اللہ کی رضا، علم کا حصول، معاشرے کی خدمت اور انسانیت کی بھلائی بھی ہونا چاہیے۔
آج کے نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ بڑے خواب دیکھیں، لیکن ان خوابوں کو محض خیالات تک محدود نہ رکھیں۔ وقت کی قدر کریں، محنت کریں، علم حاصل کریں، اللہ پر بھروسہ رکھیں اور مسلسل کوشش کرتے رہیں۔ یہی وہ راستہ ہے جو خوابوں کو حقیقت میں بدلتا ہے۔
آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ اسلام امید، عزم اور عمل کا دین ہے۔ خواب انسان کو منزل دکھاتے ہیں اور محنت اس منزل تک پہنچاتی ہے۔ لہٰذا ہمیں خواب بھی دیکھنے چاہییں اور ان کی تعبیر کے لیے جاگ کر محنت بھی کرنی چاہیے۔ یہی کامیابی کا اسلامی راستہ ہے۔
فوزیہ عرفان