جمعہ کا دن گویا نفحاتِ رحمت کا وہ مبارک کارواں ہے جو آسمانِ عنایت سے زمینِ انسانیت پر اترتا ہے۔ یہ دن اہلِ ایمان کے لیے عیدِ ہفتہ، ساعتِ قبولیت کا پیامبر اور انوارِ الٰہی کا مظہر ہے۔ اس روز ہر سمت سے رحمت کی نسیم چلتی ہے اور دلوں کے گلشن میں شوقِ عبادت کے گلِ رنگاں کھلنے لگتے ہیں۔
جمعہ کی سب سے دل آویز اور روح پرور عبادت کثرتِ درود شریف ہے۔ درود و سلام درحقیقت محبت کا وہ نذرانۂ عقیدت ہے جو بارگاہِ رسالت ﷺ میں پیش کیا جاتا ہے۔ جب کسی عاشقِ صادق کی زبان پر "اللّٰہم صلِّ علیٰ محمد" جاری ہوتا ہے تو گویا اس کے دل کے تار مدینۂ منورہ کی فضاؤں سے جڑ جاتے ہیں اور روح کو ایک عجیب سرورِ جاوداں نصیب ہوتا ہے۔
اہلِ دل فرماتے ہیں کہ جمعہ کے دن درود شریف پڑھنا ایسا ہے جیسے کسی باغ میں بہار کے موسم میں خوشبوؤں کے چراغ روشن کرنا۔ ہر درود کے ساتھ رحمت کے دروازے کھلتے ہیں، گناہوں کی گرد دھلتی ہے اور قلب کی ویران بستی میں سکون و طمانیت کے چشمے پھوٹنے لگتے ہیں۔ یہ وہ اکسیرِ محبت ہے جو دل کی سختی کو نرمی، اضطراب کو سکینت اور غفلت کو بیداری میں تبدیل کر دیتی ہے۔
جمعہ کے دن اگر کوئی مسلمان اپنے معمولات کے درمیان کچھ وقت نکال کر کثرت سے درود شریف پڑھ لے تو اس کا دل نور سے منور ہو جاتا ہے۔ زبان ذکر سے معطر، فکر شوق سے معمور اور روح محبتِ مصطفیٰ ﷺ کے جامِ شیریں سے سرشار ہو جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس دن اہلِ ایمان درود و سلام کے گل ہائے عقیدت بارگاہِ نبوی ﷺ میں پیش کرنے کو سعادتِ عظمیٰ سمجھتے ہیں۔
آئیے! اس مبارک دن کو دنیاوی مشاغل کی گرد میں گم نہ ہونے دیں بلکہ اپنے لبوں کو درود شریف کی زینت بخشیں، دل کو محبتِ رسول ﷺ سے روشن کریں اور روح کو انوارِ نبوت کے فیضان سے مالا مال کریں۔ شاید ایک درود ایسا ہو جو رحمتِ الٰہی کو متوجہ کر دے اور ہماری زندگی کے خزاں رسیدہ موسم کو بہارِ جاوداں میں بدل دے۔
صلّوا علی الحبیب ﷺ
اللّٰہم صلِّ علیٰ سیدنا محمدٍ و علیٰ آلِ سیدنا محمدٍ وبارک وسلم۔

محمد مصعب پالنپوری