الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَىٰ سَيِّدِ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ_____امابعد

أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
قَدْ كَانَتْ لَكُمْ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ فِي إِبْرَاهِيمَ وَالَّذِينَ مَعَهُ۔۔۔۔۔۔۔۔الخ
انسان دنیا میں جتنی محبت اپنے والدین، اولاد، بہنوں، بھائیوں، شوہر،بیوی اور رشتہ داروں سے کرتا ہے، اتنی محبت کسی اور چیز سے نہیں کرتا۔حتى کہ ضرورت پڑنے پر انکے لئے اپنی جان تک قربان کرنے کیلئے تیار رہتا ہے۔انسانی تاریخ میں ایسی انگنت مثالیں ملیں گی جس میں قریب ترین رشتہ داروں کے لئے لوگوں نے جانوں کی قربانیاں دی ہیں۔لیکن جو قربانی خاندان ابراہیم ؑ نے دی ہیں اسکی مثال انسانی تاریخ میں نہیں ملتی۔کیونکہ ابراہیمؑ اور انکے اہل خانہ کی قربانیاں خالص للٰہیت،توحید،ایمان اور اللہ کی بےپناہ محبت سے سرشار تھیں۔
حضرت ابراہیم ؑ کی حیات مبارکہ میں قربانیوں کی عظیم الشان مثالیں ہیں۔ابراہیم ؑ کی پوری زندگی ہی قربانی ہے۔اور قربانی ایسی نہیں جو زندگی کی تمام خواہشات و تمنائیں پوری کرلینے کے بعد دی گئی ہو،بلکہ آپ کی قربانیوں کے سلسلے اس گھر سے شروع ہوتے ہیں جو ان کا اپنا تھا جس والد کی انگلی پکڑ کر چلنا سیکھا تھا وہی حق سے ناآشنا تھا ۔اور آپ نے غوروفکر اور تدبر کی بنیاد پر اس خدائے واحد کو پالیا تھا،جو تمام کائنات کا واحد خالق ومالک ہے۔اس خدا آشنائی نے انکو حق کے لئے اپنے والد کے بالمقابل کھڑے ہونے کی جرأت پیدا کی۔یہ جہاد کوئی معمولی جہاد نہ تھا ۔دنیا پرستوں کی زبان میں یہ رشتہ داروں اور شہر کے لوگوں سے خواہ مخواہ کی دشمنی مول لینا تھااپنے والدین، عزیز واقارب اور اپنے ہی وطن کے لوگوں کی طرف سے خود پر ہونے والے ظلم کو سہنا ،اپنے وطن عزیز کو خیرباد کہنا،حضرت ہاجرہ ؑ اور ننھے اسماعیل کا ایک تنہا ،ویران اور بےآب و گیاہ علاقے میں چھوڑنا،تصور کریں اس تپتے ریگستانی صحرا میں جہاں دور دور تک زندگی کے آثار نظر نہ آتے ہوں، ایسی جگہ اپنے لخت جگر اور محبوب بیوی کے ساتھ سفر،اور اسکے بعد اسی لخت جگر کو خواب میں اپنے ہی ہاتھوں قربان کرتا دیکھ اسے اپنے حبیب کا حکم، اپنے معبود برحق کا فرمان جان کر اس خواب کو حقیقت کا رنگ دینے کے لئے خودکو،بیوی کو تیار کر لینا خالق حقیقی سے عشق کی انتہا کا ایک بے مثال اور بے نظیر واقعہ ہے۔
یہ حوصلہ و ہمت،یہ والہانہ جذبہء قربانی،صبر ثبات،یہ سب آپکی پیغمبرانہ صفات کی کھلی دلیل ہیں۔
ابراہیم ؑ نے احکام الٰہی کی پیروی کی خاطر اپنی سب سے عزیز ترین چیز اپنی اولاد کی قربانی انجام دینے کی وہ اعلیٰ ترین مثال قائم کی، جس کی انسانی تاریخ میں کوئی نظیر نہیں۔
حضرت ابراہیم ؑ کی پوری زندگی جستجو، جدوجہد، صبر،استقامت، تسلیم و رضا، اور بے چوں و چرا اطاعت کا عملی پیکر رہی۔
اللہ تعالٰی کو ابراہیمؑ کے خاندان کو تمام انسانیت کے لئے نظیر بنانا تھا ،اسی لئے وفا شعار بیوی کے ساتھ ساتھ فرماں بردار فرزند عطا فرمایا۔ آپؑ کی بیوی اور بیٹے نے ہر مرحلہ میں آپ کا ساتھ دیا بیٹے کی قربانی کے لئے ماں بھی تیار ہوگئی۔عام خواتین کی طرح کسی چیز کا واسطہ دے کر نہیں روکا ۔اللہ کی فرماں بردار بندی نے سوچا اللہ کا حکم ہے ،اسکی اطاعت لازمی ہے ۔
اور اللہ تعالٰی نے انکی ان بےغرض و بےلوث قربانیوں کو بہت زیادہ پسند فرمایا اور قیامت تک کے لئے یادگار بنادیا ۔اور اتنے خوبصورت انداز میں شرف قبولیت سے نوازا کہ اسے امت مسلمہ کی عبادت کا حصہ قرار دیا۔ 
حضرت ہاجرہ ؑ کی یادگار دوران حج صفا و مروہ کی سعی،اور حضرت ابراہیمؑ واسماعیلؑ کی یادگار ہر سال عید الأضحى کے موقع پر جانور کی قربانی۔
یہ اعزازات اللہ کی جانب سے حضرت ابراہیم علیہ السلام اور انکے گھر والوں کو یونہی نہیں مل گئے،بلکہ انھوں نے اپنی تمام زندگی معبود برحق کی خوشنودی اور احکام آوری کے لئے وقف کر رکھی تھی اور فرماں برداری کو اپنا شعار بنا لیا تھا۔
اب غور کریں
ایک طرف ابراہیم علیہ السلام کی حیات مبارکہ اور دوسری طرف ہم امت مسلمہ کا طرز عمل
آج ہم نے اللہ کے لئے قربانی کا مطلب یہ سمجھ لیا ہیکہ ہر سال حج کر آئیں،ولیمہ اور عقیقہ کی شاندار دعوت کرلیں ۔کچھ لوگوں نے تو اس میں اور حرام چیزیں شامل کر لی ہیں۔وہ قبروں پر چادر چڑھاتے ہیں،عرس و قوالی سے لطف اندوز ہوتے ہیں ،بزرگوں کے قبروں پر میلے منعقد کرتے ہیں اور گناہ بخشوا کر اور سال بھر کے لئے جنت کی ضمانت لے کر واپس آجاتے ہیں۔
جو لوگ ان بدعتوں سے محفوظ ہیں وہ کسی مدرسہ کو چندہ دے کر ،کوئی سبیل لگوا کر،کسی مسجد میں حافظ کا انتظام کرکے یا پھر اسی جیسا کچھ اور کرکے سمجھ لیتے ہیں انکو اللہ کے لئے جو کچھ قربانی کرنی تھی کرچکے،اسکے بعد ہمیں شکایت ہوتی ہے کہ اللہ کی مدد نہیں آتی۔ 
ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ مدد کا وعدہ بکرے کی قربانی کے ساتھ نہیں، بلکہ عادت اور خواہش کی قربانی کے ساتھ مشروط ہے
《لن ينال الله لحومها ولا دماءها ولكن يناله التقوى منكم》

کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ ہمارے لئے صبح سے شام تک دفتروں میں سر کھپانا، رات رات بھر سرکاری ڈیوٹی انجام دینا، اور اپنے کاروبار اور اپنے بزنس کی ترقی کے لئے ہر مصیبت خندہ پیشانی کے ساتھ برداشت کرنا، اور ہر تکلیف گوارا کرنا آسان ہے، لیکن صبح کے وقت اپنا بستر چھوڑ کر نماز کے لئے اٹھنا مشکل ہے!!!!!

کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ پان، سگریٹ، چائے میں کچھ تاخیر ہو جائے تو ہمیں اذیت ہونے لگتی ہے، ہماری پیشانی پر شکنیں پڑ جاتی ہیں، اور اگر کسی وقت کی نماز قضا ہو جائے، کسی کی حق تلفی ہو جائے، کوئی ناجائز کام ہم سے سرزد ہو جائے تو ہمیں احساس تک نہیں ہوتا؟
کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ اپنی ایک ادنیٰ خواہش اور قلبی تقاضے پر ہم جتنا روپیہ چاہتے ہیں صرف کر دیتےہیں  اپنے موڈ  کی تسکین کے لئے ہر قسم کی فضول خرچی کر گزرتے ہیں اور کسی صحیح مصرف اور ضرورت پر جس کا تعلق آخرت کے ثواب اور خدا کے وعدے پر ہو، چند آنے خرچ کرنے کے ہمیں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہم نے سارے گناہوں کی تلافی کر دی؟!

یہ چند حقائق ہیں، غور سے دیکھا جائے تو نظر آئے گا کہ ہماری ساری زندگی اس قسم کے نمونوں سے بھری ہوئی ہے۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم نے اپنی بری عادتوں کی اصلاح اور اپنی خواہشات کی بندش کی ضرورت کبھی محسوس نہیں کی، قربانی کی اس غلط روش پر چلتے رہے جس کا ذکر اوپر کیا گیا ہے۔
قربانی کی حقیقت یہ ہے کہ پہلے آدمی اپنے ارادے، اپنی خواہش، اپنی عادت اور اپنے مزاج کے گلے پر چھری پھیرے، اپنے دل کے کہنے پر نہیں بلکہ خدا اور رسول کے کہنے پر چلنے کا فیصلہ کرے، اور اس قسم کے ہر موڑ پر خدا کے ڈر اور آخرت میں جواب دہی کے خیال سے برائی سے اپنا ہاتھ روک لے، اور دل پر پتھر رکھ کر اس سے باز رہے، {وَأَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ وَنَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوَىٰ فَإِنَّ الْجَنَّةَ هِيَ الْمَأْوَى)
جو کوئی ناجائز آواز خواہ وہ کتنی میٹھی اور رسیلی ہو، محض اس لئے نہ سننے کا اللہ تعالیٰ نے اس سے منع فرمایا ہے، کسی غلط چیز سے خواہ وہ بار بار اس کے سامنے آئے، محض اس لئے نگاہیں پھیر لے کہ یہ حکم الٰہی کی خلاف ورزی ہے، جو دوستوں کی محفل سے اپنی ساری دلچسپی کے باوجود محض اس لئے اٹھ آئے کہ اس میں غیبت وعیب جوئی ہو رہی ہے، جو اپنے گھر والوں کے غلط اور ناجائز مطالبات ان سے اپنی محبت و تعلق کے باوجود محض اس لئے رد کر دے کہ اس میں احکام شریعت سے سرتابی اور معصیت کا ارتکاب ہے، اپنے والدین، اپنے بھائیوں اور اپنے قریب ترین عزیزوں کے خلاف ان کی مروت اور شرم کے باوجود صاف صاف گواہی دے کر اللہ تعالیٰ کا حکم یہی ہے۔
اس سے کم و بیش یہ ہے کہ جہاں وہ دن رات میں اپنی سیکڑوں خواہشات پوری کرتا ہے اور اپنے نفس کے تقاضوں کی تکمیل کے لئے ہر قسم کی قربانی پر آمادہ ہو جاتا ہے، وہاں کسی وقت اللہ تعالیٰ کے احکام بجا لانے، اس کے در رحمت پر دستک دینے، اور اس کی نظر کرم کو متوجہ کرنے پر بھی صرف کرے، اور اس کے لئے اپنے نفس اور مال اور اپنی خواہش و عادت کی بھی تھوڑی بہت قربانی پیش کرے۔
وہ کم از کم بڑے بڑے گناہوں سے بچے، غیبت، خیانت، جھوٹ، بدنظامی اور فرائض میں کوتاہی سے اپنے آپ کو بچانے کی کوشش کرے، اور اس راہ میں اگر اس کے اپنے اوقات اور اپنی عادات کی کچھ قربانی کرنی پڑ رہی ہو، تو اس سے بالکل دریغ نہ کرے۔
قربانی کی یہ صحیح تصویر ہے، جس پر خدا کی نصرت کا وعدہ ہے، اس قربانی میں کوئی تقسیم نہیں، یہ جانور کی قربانی سے لے کر اپنے نفس کی قربانی تک محیط ہے، بلکہ جانور کی قربانی دراصل اسی نفس کی قربانی کا عکس اور اس کی مثالی تصویر اور اس کا مادی پیکر ہے، اور جانور کی قربانی کا کیا ذکر، حضرت اسماعیل جیسی ہستی کی قربانی کا حکم اور اشارہ اسی لئے تھا کہ اس محبت کی قربانی ہو جو ایک چاہنے والے باپ کے دل میں اپنے محبوب فرزند کے لئے موجود ہوتی ہے۔
قربانی کی حقیقت اور اس کی روح (خواہ وہ وقت کی قربانی ہو یا مال کی، جان کی ہو یا خواہشات کی، محبت کی ہو یا عادت اور درحقیقت کی) یہ ہے کہ آدمی خدا کے ڈر کے سامنے، ماحول، سماج اور حکومت کے ڈر سے اور خدا و رسول کی محبت کے سامنے انسانوں کی محبت، دولت کی محبت اور دوسری تمام محبتوں سے دستبردار ہو جائے، اور اس کو اپنے تمام تعلقات، محبتوں، عادتوں اور خواہشوں پر ترجیح دے۔
حدیث میں آیا ہے کہ تم میں سے کسی کا ایمان اس وقت تک مکمل نہیں ہوگا، جب تک کہ میں اس کو اس کے مال، اہل و عیال اور اس کے نفس سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں۔
اور خود قرآن مجید کا صاف ارشاد ہے:  
{قُلْ إِن كَانَ آبَاؤُكُمْ وَأَبْنَاؤُكُمْ وَإِخْوَانُكُمْ وَأَزْوَاجُكُمْ وَعَشِيرَتُكُمْ وَأَمْوَالٌ اقْتَرَفْتُمُوهَا وَتِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَمَسَاكِنُ تَرْضَوْنَهَا أَحَبَّ إِلَيْكُم مِّنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَجِهَادٍ فِي سَبِيلِهِ فَتَرَبَّصُوا حَتَّىٰ يَأْتِيَ اللَّهُ بِأَمْرِهِ ۗ وَاللَّهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْفَاسِقِينَ} 
 کہہ دیجئے اگر باپ، دادا، تمھاری اولاد اور بھائی، تمھاری بیویاں اور تمھارے اعزہ، اور وہ مال جو تم نے کمایا ہے اور وہ تجارت جس کی کساد بازاری کا تم کو ڈر ہے اور وہ رہنے کی جگہیں جو تم کو محبوب ہیں، اگر اللہ اور اس کے رسول سے اور اس کے راستے میں جہاد اور کوشش کرنے سے زیادہ محبوب ہیں، تو انتظار کرو یہاں تک کہ اللہ اپنا حکم دے دے، بلاشک اللہ ہدایت نہیں کرتا فاسق لوگوں کو۔

قربانی کا یہی وہ راستہ ہے جس پر چل کر اللہ کے کچھ بندوں نے پوری انسانیت کی قسمت بدل دی تھی اور اپنی حقیقت سمجھ لی تھی، حضرت ابراہیم علیہ السلام اسکی زندہ جاوید مثال ہیں۔
اللہ تعالی ہمیں سنت ابراہیم کی پیروی کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور قربانی کا وہی جذبہ ہمارے اندر بھی پیدا کرے جو ابراہیم علیہ السلام کے اندر تھا