عید الاضحی کے پُربہار ایام اب آہستہ آہستہ دامنِ وقت سے رخصت ہو رہے ہیں۔ قورمے کی دیگیں ٹھنڈی پڑ چکی ہیں، بریانی کے آخری دانے بھی صفحۂ ہستی سے مفقود ہو چکے ہیں، اور فریج میں پڑے گوشت کے چند ٹکڑے بھی اپنی آئندہ منزل کے متعلق فکرمند دکھائی دیتے ہیں۔
ادھر طلبۂ مدارس کی ایک عظیم الشان ہجرت کا آغاز ہو چکا ہے۔ بستے، بستر، تھیلے، ٹفن اور بعض حضرات کے خفیہ ذخائرِ "نمکو و بسکٹ" ازسرِ نو ترتیب دیے جا رہے ہیں۔ والدین کی آنکھوں میں فرطِ مسرت اور طلبہ کے چہروں پر آثارِ ملال نمایاں ہیں۔ گویا ایک فریق جشنِ آزادی منا رہا ہے اور دوسرا فراقِ تعطیلات کا ماتم!
چند روز قبل یہی طلبہ صبح کے وقت ایسے خوابِ شیریں میں مستغرق رہتے تھے کہ اگر سورج خود دستک دیتا تو بھی جواب ملتا: "پانچ منٹ اور!" مگر اب فجر کے بعد گاڑیوں، بسوں اور ٹرینوں کے اوقات نامے ان کے مقدر کا حصہ بن چکے ہیں۔
کچھ احباب نے تعطیلات میں اس قدر تناولِ طعام فرمایا کہ ان کے وزن میں ایسا اضافہ ہوا ہے جیسے کسی مدرسے کے کتب خانے میں اچانک نئی کتابوں کا عطیہ آ گیا ہو۔ اب واپسی کے سفر میں بستر باندھنے سے زیادہ مشکل مرحلہ خود کو بستر سے الگ کرنا محسوس ہو رہا ہے۔
مدرسے کے در و دیوار بھی شاید اپنے مکینوں کے منتظر ہوں گے۔ حجرات گرد آلود خاموشی کے بعد دوبارہ آباد ہوں گے، چائے کے کپ پھر علمی مباحث کے گواہ بنیں گے، اور وہی مشہور جملہ: "بھائی! سبق کہاں تک ہوا؟" ایک بار پھر فضاؤں میں گونجنے لگے گا۔
الغرض عید کی رنگین محفلیں اختتام پذیر ہیں اور اب درس، تکرار، مطالعہ اور اساتذہ کی نگاہِ کرم کا موسم لوٹ رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ تمام طلبۂ کرام کے سفر کو مبارک فرمائے، اور انہیں اس آزمائشِ عظمیٰ یعنی قورمے سے جدائی اور سبق سے دوبارہ آشنائی میں کامیابی عطا فرمائے۔
"تعطیلات کی سلطنت ختم ہوئی، اب درسگاہ کی حکومت بحال ہونے جا رہی ہے!"
محمد مصعب پالنپوری