انسانی معاشرہ محبت، اخوت، ایثار اور حسنِ ظن کے خوشبودار گلستان سے آراستہ ہوتا ہے، لیکن جب دلوں میں حسد اور عصبیت کے کانٹے اُگنے لگتے ہیں تو یہی گلستان رفتہ رفتہ ویران ہونے لگتا ہے۔ حسد اور عصبیت وہ مہلک امراض ہیں جو دل کی صفائی، فکر کی وسعت اور معاشرے کی یکجہتی کو نگل جاتے ہیں۔
حسد دراصل وہ آتشِ نہاں ہے جو سب سے پہلے اپنے حامل ہی کو جلاتی ہے۔ حاسد دوسروں کی نعمتوں کو دیکھ کر مسرور ہونے کے بجائے کُڑھتا رہتا ہے۔ کسی کی ترقی، عزت، علم، مقبولیت یا خوش حالی اسے بے چین کر دیتی ہے۔ وہ دوسروں کے زوال میں اپنی راحت اور دوسروں کی محرومی میں اپنی تسکین تلاش کرتا ہے۔ گویا وہ ہر وقت ایک ایسی بھٹی میں جلتا رہتا ہے جس کی آگ کا ایندھن اس کے اپنے خیالات ہوتے ہیں۔
اسی طرح عصبیت بھی ایک خطرناک دلدل ہے۔ یہ انسان کو انصاف کے روشن شاہراہ سے ہٹا کر تعصب کے تاریک جنگل میں لے جاتی ہے۔ کبھی قومیت کے نام پر، کبھی زبان کے نام پر، کبھی خاندان، مسلک یا جماعت کے نام پر انسان حق کو چھوڑ کر محض اپنے گروہ کی حمایت کرنے لگتا ہے۔ پھر میزانِ عدل کی جگہ خواہشات کی حکمرانی شروع ہو جاتی ہے۔
حسد اور عصبیت جب یکجا ہو جائیں تو معاشرہ انتشار، نزاع اور باہمی بداعتمادی کا شکار ہو جاتا ہے۔ قابلیت کے بجائے تعلقات کو اہمیت دی جاتی ہے، انصاف کے بجائے جانب داری کو ترجیح ملتی ہے، اور خیر خواہی کے بجائے رقابت و دشمنی فروغ پاتی ہے۔ نتیجتاً دلوں کی الفت رخصت ہو جاتی ہے اور نفرتوں کی خزاں ہر سو پھیل جاتی ہے۔
اہلِ دانش نے بجا فرمایا ہے کہ حسد دوسرے کی نعمت دیکھ کر جلنے کا نام ہے، جبکہ عصبیت حق کو جانتے ہوئے بھی محض نسبت اور وابستگی کی بنا پر باطل کا ساتھ دینے کا نام ہے۔ یہی دو بیماریاں انسان کو اخلاقی پستی کی ایسی دلدل میں دھکیل دیتی ہیں جہاں سے نکلنا آسان نہیں رہتا۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ دلوں کو قناعت، تواضع، اخلاص اور وسعتِ نظر سے مزین کیا جائے۔ دوسروں کی کامیابی کو اپنی ناکامی نہ سمجھا جائے، بلکہ اس پر مبارک باد دی جائے۔ اسی طرح ہر معاملے میں حق و انصاف کو معیار بنایا جائے، خواہ وہ اپنے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔
حسد و عصبیت کی دلدل سے نجات کا راستہ محبت، انصاف اور تقویٰ کے سنگِ میلوں سے ہو کر گزرتا ہے۔ جو شخص اپنے دل کو ان رذائل سے پاک کر لیتا ہے، وہ نہ صرف اپنی باطنی دنیا کو روشن کر لیتا ہے بلکہ معاشرے میں بھی امن، اُلفت اور یگانگت کا پیامبر بن جاتا ہے۔ یہی وہ راہِ فلاح ہے جس پر چل کر فرد بھی کامیاب ہوتا ہے اور قوم بھی سربلند۔
محمد مصعب پالنپوری