حضرت سیدنا عبداللہ رحمتہ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں کہ ہمارے زمانے اور ہمارے علاقے میں ایک نہایت غمگین شخص تھا، جسے ”قَضِیبُ البَان“ کہا جاتا تھا۔ احترام اور رعب و دبدبہ کے باعث کوئی اس سے کلام کرنے کی جراءت نہیں کرتا تھا۔ وہ بہت زیادہ رویا کرتا تھا۔
ایک دن میں اس کے پاس گیا اور پوچھا: اے میرے محترم! اس ذات کی قسم جس نے آپ کو اپنی ذات کے سوا ہر چیز سے بے نیاز کر دیا ہے۔ آپ کے غم اور تنہائی کا سبب کیا ہے؟ اس نے مجھے دیکھا اور بہت زیادہ رویا پھر اس کا رنگ متغیر ہو گیا۔
کچھ اضطراب کے بعد اس پر غشی طاری ہو گئی۔ مجھے گمان ہوا کہ وہ انتقال کر گیا ہے۔ پھر اسے ہوش آ گیا، تو میں نے کچھ باتیں کر کے اسے مانوس کر لیا اور قسم دے کر اس کا حال دریافت کیا۔ چنانچہ اس نے روتے ہوئے اپنا واقعہ کچھ یوں بیان کیا:
میں اپنے شیخ کی خدمت کیا کرتا تھا۔ وہ بہت نیک شخص تھا اور لوگوں میں ولی مشہور تھا۔ میں نے 40 سال اس کی خدمت کی۔ وفات سے تین دن پہلے شیخ نے مجھ سے کہا: ”میرے بیٹے! میرا تجھ پر اور تیرا مجھ پر حق ہے۔ میری بات غور سے سن، میں جو وصیت کروں اس کا پورا کا کرنا تجھ پر لازم ہے۔“
میں نے کہا: محبت اور عزت سے وصیت پوری کروں گا۔ اس نے کہا: ”میری عمر کے تین دن باقی ہیں اور میرا خاتمہ کفر پر ہوگا۔ جب میں مر جاؤں، تو مجھے میرے کپڑوں سمیت رات کی تاریکی میں ایک تابوت میں رکھ کر شہر سے باہر فلاں جگہ لے جانا اور طلوع آفتاب تک وہیں ٹھہرنا۔ وہاں ایک قافلہ آئے گا، جن کے پاس ایک تابوت ہوگا۔ وہ اس کو میرے تابوت کے پہلو میں رکھ دیں گے اور میرا تابوت لے جائیں گے۔ تم وہ دوسرا تابوت لے کر واپس آ جانا۔ پھر اس تابوت کو کھول کر اس میں موجود شخص کو نکالنا اور عزت و احترام سے اس کی تجہیز و تکفین کرنا۔“
یہ سن کر میں بہت غمزدہ ہوا اور روتے ہوئے اس افسوس ناک معاملے کی وجہ دریافت کی۔ اس شیخ نے کہا: ”میرے بیٹے! یہ سب کچھ لوحِ محفوظ میں لکھا ہوا ہے۔ جو ہو چکا اور جو کچھ ہوگا، سب اللہ عزوجل کے حکم سے ہے۔“
((لَا یُسْـٴَـلُ عَمَّا یَفْعَلُ))
ترجمہ کنزالایمان: ”اس سے نہیں پوچھا جاتا جو وہ کرے۔“
جب تین دن گزر گئے، تو میرا شیخ مضطرب ہو گیا، رنگ متغیر ہو گیا اور اس کا چہرہ سیاہ ہو کر مشرق کی طرف گھوم گیا اور وہ اوندھے منہ گر کر مر گیا۔ میں بہت رویا اور مجھے ایسا غم لاحق ہوا، جسے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ پھر میں حسب وصیت اس کا تابوت لے کر اس مقام پر پہنچ گیا، جو اس نے بیان کیا تھا۔
صبح ہوئی تو کچھ لوگ وہاں گریہ وزاری کرتے ہوئے آئے۔ ان کے پاس ایک تابوت تھا۔ انہوں نے اپنا تابوت شیخ کے تابوت کے پاس رکھ دیا۔ پھر ایک شخص آگے بڑھا اور شیخ کا تابوت اٹھا کر جانے لگا۔ میں نے اسے پکڑ لیا اور کہا: ”جب تک مجھے اپنے متعلق نہ بتاؤ گے، میں تمہیں نہیں چھوڑوں گا۔“
اس نے بتایا: ”اس تابوت میں ایک عیسائی پادری کی لاش ہے۔ میں 40 سال تک اس کا خادم رہا ہوں۔ اس نے موت سے تین دن قبل مجھے بلا کر کہا: ”میرے بچے! میرا تجھ پر اور تیرا مجھ پر حق ہے۔ میں تین دن بعد مر جاؤں گا، تو مجھے ایک تابوت میں رکھ کر فلاں جگہ لے جانا۔ وہاں بھی ایک تابوت ہوگا۔ میرا تابوت وہاں رکھ دینا اور وہ تابوت گرجے میں لے جانا اور اس میں موجود لاش کو عیسائیوں کی طریقے پر دفن کر دینا۔“
جب تین دن گزر گئے، تو عیسائی پادری کا چہرہ خوشی سے کھل اٹھا۔ اس نے کلمہ شہادت پڑھا اور مسلمان ہو کر انتقال کر گیا۔ پھر میں نے ان کے حکم کے مطابق عمل کیا اور ان کا تابوت یہاں لے آیا۔ یہ سارا واقعہ ہے۔“
یہ کہہ کر وہ لوگ شیخ کا تابوت لے کر چلے گئے اور میں اس خوش نصیب کا تابوت لے کر گھر آ گیا، جسے اللہ تعالی نے موت سے پہلے ایمان کی دولت سے نواز دیا تھا۔ جب میں نے تابوت کھولا، تو اس میں ایک ایسے بزرگ تھے، جن پر انوار کی برسات ہو رہی تھی۔ ان کے سارے بال سفید نورانی تھے۔
میں نے کچھ نیک بندوں کے ساتھ مل کر تجہیز و تکفین کا انتظام کیا اور نمازِ جنازہ پڑھ کر انہیں دفن کر دیا۔ وہ دن گواہ ہے کہ میں جب بھی باہر نکلتا ہوں، تو میرے چہرے پر برے خاتمے کے خوف سے غم کے بادل چھا جاتے ہیں۔ اس لیے میں لوگوں سے دور اور غمگین رہتا ہوں۔
(فیضان ریاض الصلحین جلد: دوم، ص:315)
عزیز قارئین کرام! یہ واقیہ فقط پڑھنے کے لیے نہیں ہے؛ بلکہ ہمیں اس سے عبرت حاصل کرنی چاہیے کہ نہ معلوم ہمارا انجام کیا ہوگا؟ ہمارے شب و روز تو گناہوں میں گزرتے ہیں۔ نیک اعمال ہم کئے نہیں جاتے، احکامِ شریعت سے ہم نہ بلد ہیں۔ اور چاہتے ہیں کہ مرتے ہی جنت نصیب ہو جائے۔
خدارا! اپنی زندگی کے قیمتی اوقات کو غنیمت جانتے ہوئے آخرت کی تیاری کرنے میں لگ جائیں۔ ہر گھڑی رب تبارک و تعالیٰ اور حضور تاجدار ختم نبوت ﷺ کی رضا والے کاموں میں مشغول رہیں۔ اللہ کریم سے ایمان کی سلامتی اور ایمان پر خاتمے کی ہر وقت دعا کرتے رہیں۔
رب العالمین ہم سبھی کو اپنے حفظ و امان میں رکھے اور ہمیں ایمان و عافیت والی زندگی اور موت نصیب فرمائے۔ آمین اللہم آمین یارب العالمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم!