*مشت زنی نوجوان نسل کی تباہی کا خاموش زہر*

*خامہ بکف محمد عادل ارریاوی*
________________________________

آج کا نوجوان جن برائیوں میں سب سے زیادہ مبتلا ہوتا جا رہا ہے ان میں ایک خطرناک گناہ مشت زنی بھی ہے یہ ایسا فتنہ ہے جس نے جاہل اور پڑھے لکھے امیر اور غریب چھوٹے اور بڑے سب کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے دیکھنے میں یہ ایک چھوٹا اور چھپا ہوا عمل محسوس ہوتا ہے مگر حقیقت میں یہ انسان کی روحانیت صحت کردار اور مستقبل کو تباہ کر دینے والی عادت ہے۔ شیطان انسان کو پہلے تجسس میں ڈالتا ہے پھر آہستہ آہستہ اس گناہ کا عادی بنا دیتا ہے یہاں تک کہ انسان چاہ کر بھی اس سے نکل نہیں پاتا۔
مشت زنی ایک ایسی لت ہے کہ اگر کسی کو اس کی عادت پڑ جائے تو وہ دن بدن کمزور ہوتا چلا جاتا ہے۔ انسان کی سوچ گندی ہو جاتی ہے عبادت میں دل نہیں لگتا نمازیں بوجھ محسوس ہونے لگتی ہیں قرآن کی تلاوت سے دوری ہونے لگتی ہے اور دل سے نیکی کی رغبت ختم ہونے لگتی ہے گناہ کا سب سے بڑا نقصان یہی ہے کہ وہ انسان کے دل کو سیاہ کر دیتا ہے ابتدا میں انسان صرف تنہائی میں یہ کام کرتا ہے پھر آہستہ آہستہ فحش ویڈیوز گندے خیالات اور ناجائز چیزوں کی طرف کھنچتا چلا جاتا ہے۔ یوں شیطان اسے ایک گناہ سے دوسرے گناہ میں دھکیل دیتا ہے۔
یہ عادت جسمانی اعتبار سے بھی بے شمار نقصانات کا سبب بنتی ہے۔ انسان کمزوری سستی ذہنی دباؤ بےچینی چڑچڑاپن اور مایوسی کا شکار ہو جاتا ہے۔ چہرے کی رونق ختم ہونے لگتی ہے آنکھوں کے نیچے حلقے پڑ جاتے ہیں اور طبیعت میں ہر وقت بے سکونی رہتی ہے۔ بعض لوگ اس بری عادت کی وجہ سے شادی کے بعد اپنی شریکِ حیات کے حقوق ادا نہیں کر پاتے جس سے گھریلو زندگی متاثر ہوتی ہے میاں بیوی کے تعلقات خراب ہو جاتے ہیں اور بعض اوقات نوبت جھگڑوں علیحدگی اور طلاق تک پہنچ جاتی ہے۔
 اللہ ربّ العزت نے انسان کو پاکیزگی اور حیا کے ساتھ زندگی گزارنے کا حکم دیا ہے۔ اسلام انسان کو نگاہوں کی حفاظت پاکدامنی اور نفس پر قابو رکھنے کی تعلیم دیتا ہے۔ جو نوجوان اپنے نفس کو قابو میں رکھتا ہے اللّٰہ ربّ العزت اس کے دل کو سکون عطا فرماتا ہے اور اس کی زندگی میں برکت نازل فرماتا ہے۔ لیکن جو شخص خواہشات کے پیچھے چل پڑتا ہے وہ رفتہ رفتہ گناہوں کی دلدل میں پھنس جاتا ہے۔
 نوجوان سچی توبہ کریں اپنے آپ کو تنہائی کے گناہوں سے بچائیں موبائل اور انٹرنیٹ کا غلط استعمال چھوڑ دیں فحش مواد سے دور رہیں نمازوں کی پابندی کریں قرآن کریم کی تلاوت کریں اور نیک لوگوں کی صحبت اختیار کریں۔ کیونکہ اچھی صحبت انسان کو نیکی کی طرف لے جاتی ہے جبکہ بری صحبت گناہوں کی طرف دھکیل دیتی ہے۔
اگر کوئی شخص اس گناہ میں مبتلا ہو چکا ہے تو اسے مایوس نہیں ہونا چاہیے بلکہ فوراً اللہ تعالیٰ کے سامنے سچے دل سے توبہ کرنی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ بہت مہربان اور بخشنے والا ہے۔ جب بندہ سچی ندامت کے ساتھ اپنے رب کی طرف لوٹتا ہے تو اللہ اس کے گناہوں کو معاف فرما دیتا ہے۔ اپنے دل میں یہ عزم پیدا کریں کہ اب دوبارہ اس گناہ کی طرف نہیں جائیں گے کیونکہ دنیا کی چند لمحوں کی خواہش انسان کی دنیا اور آخرت دونوں کو تباہ کر سکتی ہے۔
خدارا اپنی جوانی کی حفاظت کریں، کیونکہ یہی جوانی قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سوال بن کر کھڑی ہوگی۔ دنیا کی وقتی لذتوں کے پیچھے اپنی صحت عزت عبادت اور آخرت کو برباد نہ کریں۔ اللہ ربّ العزت ہم سب کو ہر گناہ سے بچنے پاکیزہ زندگی گزارنے اور سچی توبہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یارب العالمین ۔