*حج بیت اللہ کا حقیقی پیغام* 

       محمد معصوم ارریاوی 
   متعلم دارالعلوم وقف دیوبند 
~================================~ 
   حج اللہ کے حکم اور حضرت ابراہیم و حضرت اسماعیل علیہما السلام کے ذریعے اس کی تعمیل اور مثالی فرمانبرداری اور ایثار و قربانی خدا شناسی و خدا ترسی توحید کے اقرار اور شرک سے بیزاری، عبدیت و فنائیت اور اخلاص و ایمان کی دیرینہ یادگار ہے، حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زندگی توحید کا بے مثال نمونہ ہے، انہوں نے خدائے وحدہ لا شریک کے لیے اپنے خاندان اور اہل وطن اور بادشاہ وقت سے لڑائی مول لی، اسی کی سزا میں آگ میں ڈالے گئے جب حکم الٰہی گلزار بن گئی پھر اللہ کے حکم سے اہل و عیال کے ساتھ ہجرت کی اور مکہ مکرمہ کی بے آب و گیاہ سرزمین میں انہیں خدا کے سہارے چھوڑ دیا اور پھر وعدہ الٰہی پر یقین کر کے خانۂ خدا کی تعمیر کی اور اس کے بعد اشارۂ غیبی پر اپنے چہیتے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو قربانی کے لیے پیش کر دیا حضرت ابراہیمؑ کی وہی یکتا و یگانہ توحید پرستی اور اس کے لیے ہر طرح کی ابتلا و امتحان کے لیے رضامندی اور ایثار و قربانی کے لیے بخوشی آمادگی اور اللہ کی اطاعت و عبادت کے لیے حنیفیت اور یکسوئی تھی جس کے سرے میں وہ مقام خلیلیت پر سرفراز کیے گئے اور حج و قربانی کی شکل میں ان کے اسوۂ حسنہ کو ہمیشہ کے لیے یادگار بنا دیا گیا اسی کے ساتھ قرآن کریم میں آپ کے تذکرے کو محفوظ کر دیا گیا۔
 
  قرآن مجید میں حضرت ابراہیم و آل ابراہیم کے غیر معمولی واقعات کو جس صداقت و بلاغت کے ساتھ پیش کیا گیا ہے وہ ہمیں دیگر تاریخی کتابوں سے بے نیاز کر دیتا ہے، اس میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے صدق و اخلاص عبدیت و انابت توکل و للٰہیت دعوت و عزیمت اور ایثار و قربانی اور اللہ کی طرف سے ان کی مقبولیت و محبوبیت انعام و اکرام حج کے ثمرات و برکات اور ان کے ذریعے ملت ابراہیمی اور امت مسلمہ کے قیام اور بعثت محمدیہ کی بشارت کے گوناگوں پہلو دعوت فکر و نظر دیتے ہیں۔ 

  حج سے متعلق کتاب و سنت کی تعلیمات سے جو مصالح و حکم اسرار و رموز اور اس کی جو غرض و غایت سامنے آتی ہے اور اس سے ہمیں جو سبق ملتا ہے وہ مختصراً یہ ہے کہ حضرت ابراہیمؑ کی طرح پورے صدق و اخلاص کے ساتھ اللہ کی وحدانیت کا قول و فعل سے اظہار ہو، اللہ تعالی کی صفات اور اس کے شعائر و آیات سے والہانہ و عاشقانہ تعلق پیدا کیا جائے، اور توحید کو پوری زندگی کا دستور العمل بنایا جائے، اور اس کے لیے ہر طرح کی قربانیوں کے لیے خوش دلی کے ساتھ آمادہ و تیار رہا جائے۔ 

   قرآن میں حج کے ذریعے منافع کے حصول کی بات کہی گئی ہے جس سے دینی منافع کے ساتھ دنیوی فوائد بھی مراد ہو سکتے ہیں کہ وہاں مسلمانان عالم اپنے آپسی برادرانہ محبت و عقیدت کو تازہ کرتے ہیں ایک دوسرے کے دکھ سکھ سے واقف ہوتے ہیں، اور ان کے ہر طرح کے تعلقات مضبوط ہوتے ہیں، اور اس طرح وہ دنیا و آخرت کی برکات سے متمتع ہوتے ہیں بہرحال یہ سب چیزیں تو ضمنی حیثیت رکھتی ہیں اصل چیز توحید کی تجدید ایمان و یقین میں اضافہ اور اللہ تعالیٰ سے مخلصانہ و والہانہ تعلق اور رسول ﷺ کی سیرت و سنت کی اتباع کے لیے ذوق و شوق اور عزم و ارادے میں تقویت حاصل کرنا اور قلب و روح کے لیے نئی زندگی کا سامان کرنا ہے۔