آج 20 رمضان المبارک ہے تاریخ اسلام کا ایک اہم ترین دن جس میں مکہ مکرمہ کو کفار سے آزاد کرایا گیا یہ وہ دن ہے جس میں عہد کی تکمیل ہوئی اور ایک نیا دور شروع ہوا وہ سر زمین جو کبھی اسلام اور مسلمانوں کے لئے تنگ تھی وہ جگہ جہاں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو ستایا گیا اصحاب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیفیں دی گئی آج ہی کے دن وہ سر زمین مسلمانوں کا استقبال کر رہی تھی ظلم کے اندھیرے مٹ رہے تھے اور باطل کے بت ٹوٹ رہے تھے توحید و رسالت کی روشنی پورے مکہ میں پھیل گئی تھی یہ صرف مکہ کی فتح نہیں تھی بلکہ اسلام کی حقانیت کا اعلان تھا اخلاق کی فتح تھی عظیم لوگوں کی کامیابی تھی ۔
آٹھ ہجری کی وہ روشن صبح جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دس ہزار جان نثاران صحابہ کرام کے ساتھ مکہ مکرمہ کی سر زمین کی طرف بڑھ رہے تھے غور کرو یہی وہ مکہ تھا جہاں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نکال دیا گیا تھا اسکی گلی کوچوں میں آپ کو بہت ستایا گیا اور نعوذ باللہ اسی سر زمین میں آپ کے قتل کا منصوبہ بنایا گیا آپ پر پتھر برسائے گئے دھول مٹی ڈالی گئی اور وطن سے ہجرت پر مجبور کیا گیا لیکن اب سب کچھ بدل چکا تھا مدینہ میں ایک ریاست تھی ایک طاقت تھی ایک عظیم فوج تھی فدایان محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک بڑا لشکر تھا اور یہ لشکر اب مکہ کی طرف آہستہ آہستہ بڑھ رہا تھا اور مکہ کی فتح اب قریب سے قریب تر تھی ۔۔
تاریخ نے ایک اس دن ایسے منظر کو محفوظ کیا جو فاتحین کے یہاں شاز و نادر ہی ملتا ہو جب آپ مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے تو سر مبارک عاجزی سے جھکا ہوا تھا نا ہی تکبر تھا نا انتقام کی آگ تھی اور نا ہی غرور تھا اور نا ہی طاقت کا رعب و دبدبہ دکھایا حالانکہ آپ چاہتے تو ان سے بدلہ لے سکتے تھے جنہوں نے آپ پر ظلم پر کیا تکلیفیں دی تھیں اذیت پہنچائی تھی مگر آپ تو سراپا رحمت تھے آپ کو رحمت للعالمین بنا کر بھیجا گیا تھا ۔
جب اہل مکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑے تھے تو ان کے دل خوف سے لرز رہے تھے وہ جانتے تھے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت تکلیفیں دی تھیں۔ اس وقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ جملہ فرمایا جو تاریخ میں آج بھی معافی کا سب سے بڑا اعلان ہے وہ لفظ تھے کہ کیا تھے ہر شخص کا دل پگھل گیا "لا تثريب عليكم اليوم، اذهبوا فأنتم الطلقاء" "آج تم پر کوئی گرفت نہیں، جاؤ تم سب آزاد ہو" رحمت للعالمین کی محبت نے انہیں معاف کر دیا ظلم کرنے والوں کو معافی دے دی یہی وہ اخلاق تھا جس نے دلوں کو تبدیل کرکے رکھ دیا جہاں سختی تھی اب وہاں نرمی آگئی ۔
پھر کعبۃ اللہ میں رکھے بتوں کو توڑا گیا ہر بت کے گرنے کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا اسکی حقانیت کا اعلان ہو رہا تھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان پر یہ آیت جاری تھی "جاء الحق وزهق الباطل إن الباطل كان زهوقا" "حق آ گیا اور باطل مٹ گیا اور باطل مٹنے کی ہی چیز ہے" ۔ بت گر رہے تھے شرک کا اندھیرا چھٹ رہا تھا اور اسلام کی روشنی پوری آب و تاب کے ساتھ پوری دنیا میں پھیلنے کے لئے بے تاب ہو رہی تھی ۔
مکہ فتح ہو گیا اخلاق حسنہ نے کامیابی حاصل کی صبر و استقامت نے فتح کا اعلان کیا معافی کے اعلان نے اسلام کی حقانیت لوگوں پر واضح ہو گئی وہ لوگ جو اسلام کو اپنے لئے خطرہ محسوس کرتے تھے اب انہیں احساس ہو چلا تھا کہ یہ تو سراپا رحمت ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم چاہتے تو ہر ظلم کا بدلہ لے سکتے تھے لیکن آپ تو سراپا رحمت ہیں سو آپ نے سب کو معاف کیا اور عفو و درگزر سے کام لیا ۔
اب یہاں سے اسلام کا ایک روشن باب شروع ہوتا ہے اب اسلام کی دعوت و تبلیغ کا کام ملکوں ملکوں پھیلنا شروع ہو گیا حج کے لیے آنے والوں کو اسلام کی دعوت دی گئی اور حق کو واضح کیا گیا یہاں تک کہ اسلام کی روشنی پوری دنیا میں پھیل گئی ۔


حمزہ اجمل جونپوری