*ہم نے ایسا کیا کیا کہ ہماری شادیاں ایمان مکمل کرنے کے بجائے تماشہ گاہیں بن گئیں؟*

وہ نکاح جسے سنتِ رسول ﷺ نے عبادت قرار دیا تھا، ہم نے اسے دکھاوے، بے حیائی اور اسراف کی پروڈکشن بنا کر رکھ دیا، دل چاہتا ہے کہ پوچھوں آخر ہم کس دین کے پیروکار ہیں؟ وہ جو ہمیں حیا سکھاتا ہے، یا وہ جو ہمیں اسٹیج، لائٹس، ماڈلنگ اور فحاشی پر اکساتا ہے؟

دلہن کا لباس ایسا کہ پردہ چیخ چیخ کر کہے مجھے دفن کردیا گیا، جسم آرائش کے نام پر نمائش بنا دیا جاتا ہے اور پھر حیرت یہ کہ اسی دلہن کو نا محرم کا کیمرہ سب سے پہلے دیکھتا ہے، وہ فوٹوگرافر جو گھر کے مردوں سے بھی پہلے دلہن کے چہرے کو زوم(Zoom) کر کے دیکھ لیتا ہے، کوئی باپ پوچھتا نہیں، کوئی بھائی غیرت سے نہیں تڑپتا، اور شوہر تو ہدایتکار بنا کھڑا ہوتا ہے، بھائی دلہن کی سولو پکچرز زیادہ لینی ہیں،

واہ رے غیرت، کیا خوب ترقی کی

اب عزت کی حفاظت کی بجائے عزت کی مارکیٹنگ ہونے لگی ہے۔

بیوٹی پارلر جہاں لڑکی دلہن بنتی نہیں، بلکہ برانڈ بنا کر بیچا جاتا ہے شادی سے مہینہ پہلے لڑکیاں گویا فوجی کیمپ میں بھرتی ہوجاتی ہیں پارلر کے انسٹرکٹرز کیے جاتے ہیں اور ڈرل شروع ابرو کے نقالی نقشے، فاؤنڈیشن کی پلستر کاری آنکھوں میں مصنوعی ہیرے، گالوں پر مہنگے سرخے آخر میں دلہن کو ایسے پیک کر دیا جاتا ہے جیسے گھر نہیں، پیکجنگ کمپنی سے ڈیلیور ہونے والی ڈول، اور پھر ہزاروں روپے دے کر بھی یہی دعا بس فوٹو اچھا آسکے، شوہر کا دل نہیں سوشل میڈیا کا دل جیتنا ہے انسان یہ بھی بھول جاتا ہے کہ اللہ کے ہاں قبولیت میک اپ سے نہیں، حیا سے ملتی ہے۔

گھر کے مرد ذرہ سنبھل جاؤ; باپ تم پردے کے وارث ہو پھر اپنی بیٹی کی نمائش دیکھ کر خاموش کیسے؟

بھائی تم غیرت کے نام ہو لیکن بارات میں موبائل کی فلیش آن کیے ناچ رہے ہو؟ اور شوہر تم محافظ ہو مگر دلہن کی تصویریں بنوا کر اسے سوشل میڈیا کا اشتہار بنا رہے ہو؟ کس منہ سے کہو گے یہ میری عزت ہے؟ جب عزت خود تمہاری اجازت سے اسٹیج لائٹ میں ننگی کھڑی ہوتی ہے؟

او بیٹیوں: کیا تمہیں زیب دیتا ہے کہ سج سنور کر یوں نکلو کہ فرشتے شرمائیں؟

کس نے بتایا نکاح کی رات مقابلہٴ حسن ہوتا ہے؟

بیوٹی پارلر کے بل، فوٹو شوٹس، میک اپ کٹس یہ سب ایمان کا حصہ نہیں

یہ صرف دکھاوا ہے، دھوکا ہے اور ریا ہے، اور جہنم میں لی جانے والے کام ہیں۔

ہم دعا کرتے ہیں یا اللہ شادی میں برکت دے، لیکن شادی کے آغاز میں ہی ایسی محفلیں سجاتے ہیں، جنہیں دیکھ کر شیطان بھی خوشی سے تالیاں بجا دے، ہم چاہتے ہیں گھر آباد ہوں، لیکن تقریب شروع ہی اللہ کی نافرمانی سے کرتے ہیں، ہم چاہتے ہیں بیٹے، بیٹیاں خوش رہیں، لیکن ان کے نکاح کو فحاشی کی تقریب بنا دیتے ہیں، پھر رونا پڑے تو کہتے ہیں: قسمت خراب تھی، لیکن اس وقت شرم و حیا کی چادر کو اتار کر پھینک دیا جاتا ہے جب کہ قسمت کے بدلنے کا وقت ہوتا ہے، جب اللہ کو راضی کرنے کا وقت ہوتا ہے، اس وقت عیاشی پھر بعد میں رونا ڈوب مرو کہیں جاکر شرم و حیا کو تار تار کرنے والوں کبھی اتر کے دیکھو زمین کی حقیقی سطح کس قدر لڑکیاں چند سال گزارنے کے بعد پھر عیاشی کا اڈّا بنی ہوئیں ہیں، قسمت نہیں طرزِ زندگی خراب تھا۔

پھر نتیجہ کچھ یوں ہوا کہ سوسائٹی میں طلاقیں بڑھ رہی ہیں مگر عقلمند اسے ٹیکنالوجی کا نقصان کہتے ہیں، حقیقت یہ ہے کہ ہم نے شادی کو مقدس نہیں رکھا،

ہم نے نکاح کو ایونٹ اور زندگی کو شو(Show) کا اڈّا بنا دیا ہے۔

اصل مقصد اور اسلام کا مضبوط پیغام یہ تھا اور ہے: شادیوں کو آسان کرو، پردے کو زندہ کرو، فضول رسمیں مار دو، ورنہ رسمیں تمہارے گھروں کو مار دیں گی، ہمیں پھر وہی قرآن و سنت کا راستہ اختیار کرنا ہوگا، جس پر اہل بیت و صحابہ رضی اللہ عنھم چلے، وہ جہاں حیا تاج تھی، غیرت سپاہی تھی، اور نکاح نور تھا، پوری کائنات میں سب سے زیادہ امیر انسان سبب وجود کائنات پیغمبر خدا ﷺ تھے، لیکن آپ کی حیات طیبہ میں میں کہیں نہیں پڑھا کہ آپنے اتنی شادیاں کرائیں، اور اپنی بچیوں کی کیں لیکن تواریخ کے اوراق گواہ ہیں کوئی یہ بھی نہیں بتا سکتا کہ کھانے کی بھی بے قدری ہوئی ہو پھر آپ کن لوگوں کے مشن پر جینے والے ہو پیغمبر اسلام کا تو سسٹم نہیں تھا غور کرنا ہوگا۔

یا اللہ: ہمیں دکھاوے کی آگ سے بچا،

اپنے دین کی طرف واپس کھینچ لے،

ایسی شادیاں نصیب فرما جو تیری رحمت لے کر اتریں، نہ تیرے غضب کا سامان،آمین یا رب العالمین بجاہ النبی الکریم ﷺ۔


*✍️متعلم الجامعۃ الاشرفیہ✍️*