تنہاںٔی سے آگے :زندگی،انسان اور تعلق کی معنویت
03 جون، 2026
از قلم صباحت فردوس
بقول شیخ سعدی بنی آدم اعضائے یک دیگرند (انسان ایک دوسرے کے اعضاء کی مانند ہے)۔ جس طرح جسم انسانی کے اعضاء باہمی تعاون سے اندرونی و بیرونی نظام بحال اور متوازن رکھ سکتے ہیں،بالکل اسی طرح اگر اس کے متضاد ہوں اور کوئی ایک عضو بھی اپنا تعاون روک کر ذمے داریوں سے دستبردار ہوجائے تو ایک صحت مند و تندرست انسان کا تصور قطعاً نہیں کیا جاسکتا۔ مختلف مفکرین اور فلسفیوں نے بھی انسان اور معاشرہ کو دو مختلف اکائیوں میں منقسم نہ کرکے یکساں قرار دیا ہے۔ ارسطو کے مطابق:”انسان ایک سماجی حیوان ہے۔”
نکتۂ بلیغ یہ واضح ہوتا ہے کہ معاشرہ انسان سے اور انسان معاشرے سے قائم و دائم ہے۔ انسانی تاریخ کے موجودہ شواہد ہمیں بتاتے ہیں کہ آدمی ہمیشہ ہی سے گروہ اور قبائل میں رہتا آیا ہے۔ یہ اس کی فطرت ہے کہ سماج سے کٹ کر زندگی نہیں گزار سکتا۔ سوشل ہونا اس کی فطری جبلت میں شامل ہے۔ باوصف اس کے دور جدید میں نوجوان نسل تنہا پسندی کی جانب زیادہ مائل ہورہی ہے۔ایک طرح سے خود کو تنہا پسند کہلوانا بھی فیشن بن چکا ہے۔
حال ہی میں آںٔی _سی _تھری انسٹی ٹیوٹ اور سی_آںٔی_ایس_ای کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ : "بھارت کے ہائ سکول طلبہ میں سے تقریباً 20% کم یا غیر متحرک محسوس کرتے ہیں ،خاص طور پر لڑکیاں جو مسلسل اداسی اور تنہائ کا سامنا کرتی ہے-
مزید سی ایس ڈی ایس کی ایک رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ : "بھارتی نوجوانوں میں 12% افراد اکثر افسردگی محسوس کرتے ہیں اور 8% افراد تنہائ-" تنہا پسندی کی بہت سی ممکنہ وجوہات ہوسکتی ہیں جیسے
حد سے زیادہ شرمیلا پن (Excessive Shyness)
اُکھڑ مزاجی (Hot Tempered Nature)
تنہائی سے متعلقہ مطمئن رویہ (Peaceful Deposition In Solitude)
ہر 10 میں سے 2 یا 3 افراد آپ کو ایسے ضرور نظر آئیں گے جو درج بالا وجوہات میں سے کسی ایک کا شکار ہیں۔ تنہائی پسند افراد کے پاس اپنے اس رویہ کے درست ہونے کی بے شمار توجیہات موجود ہیں۔ سوشل میڈیا پر نظر دوڑائیں!جا بجا تنہا رہنے کے حق میں قیمتی اقوال زرین کی لمبی لسٹ نظر آئے گی، جیسے:
خود شناسی میں اضافہ (Self awareness)
تخلیقی صلاحیت بہتر ہونا(Enhanced Creativity)
ذہنی سکون ملنا (Mental Peace)
فیصلے خود کرنے کی صلاحیت بڑھنا(Independent Decission Making)
زندگی اور کام کو بہتر منظم کرنا (Better organization and planning)
اپنی ذات کا لطف اٹھانا ( Enjoying One’s Own company)
فکری و علمی ترقی (Intellectual Growths)
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا خود کو سمجھنا غلط ہے؟ انسان میں تخلیقی صلاحیتیں پیدا ہونا، شورو غل سے دور رہنا ،فیصلہ سازی اور زندگی کو اپنے مطابق بہتر طریق پر جینا غلط ہے؟ اپنی ذات میں مست و مگن رہ کر لطف اندوز ہونا غلط ہے؟ اور کیا فکری و علمی ترقی کرنا غلط ہے؟؟؟ نہیں بالکل بھی نہیں!
جب انسان خود شناسی کے سفر پر نکلتا ہے تو قاعدے کے مطابق وہ دو طرح کی رائےقائم کرتا ہے۔چونکہ مسلسل اکیلے رہنا والا شخص سوچتا زیادہ ہے اس لیے وہ یا تو زیادہ سوچ سمجھ کر مثبت رائے قائم کرے گا اور احساس تفاخر میں مبتلا ہوگا یا پھر منفی نہج پر سوچ کر کمتری میں گھر جائے گا۔ خود کو سمجھنا بری بات نہیں ہے مگر معاشرے سے کٹ کر تنہا رہنے والا شخص یہی دو کام کرے گا۔
دوسرا نکتہ یہ ہے کہ تخلیقی صلاحیت بیدار کرنے کے لیے معاشرے سے قطعہ تعلقی ضروری نہیں ہے۔ صرف کتابیں پڑھ لینے اور تنہا رہ لینے سے آپ کے فن مصوری یا تحریروں کو تقویت نہیں پہنچے گی۔ جب انسان تنہائی کے خول سے نکل کر اوروں کے درد جاننے کی کوشش کرے گا،معاشرہ کا ذہن پڑھے گا،دوسروں کی خوشیوں میں، غموں میں شریک ہوگا،اپنے دل میں دوسروں کے لیے جگہ بنائے گا،انسانیت کے غم دل میں لے کر پھرے گا،یہی سارے عوامل اس کے فن کو ایک شہ پارہ بنائیں گے۔ یاد رکھیں فن کار تنہا رہ کر کبھی کمال فن تک نہیں پہنچ سکتا۔ مشاہدات اور تجربات ہی کسی بھی تخلیق کو اعلیٰ شاہکار بناتے ہیں۔
سوشل میڈیا تنہا رہنے کا ایک فائدہ یہ بتاتا ہے کہ خلوت پسندی ذہنی سکون عطا کرتی ہے۔ کیا واقعی ایسا ہے یا پھر یہ حقیقت کا صرف ایک رخ ہے؟ ذہنی سکون حاصل ہونا بلاشبہ ایک نعمت غیر مترقبہ ہے۔ شور و غل، فتنہ و فساد اور لڑائی جھگڑوں سے دور رہ کر انسان اپنی زندگی بھر پور انداز میں جی سکتا ہے،اسے شاندار بناسکتا ہے مگر کیا اللہ تعالی نے صرف آپ کو اپنی زندگی سنوارنے کے لیے اس زمین پر بھیجا ہے؟ ہم فتنہ و فساد،اور لڑائی جھگڑے روک کر صلح بھی تو کروا سکتے ہیں۔ کنارہ کشی اختیار کرنا کیا واحد حل ہے؟ جس حد تک ممکن ہو ہم اپنے معاشرے کے لیے مفید بن سکتے ہیں۔ ہاں اگر معاشرتی امن اماں قائم رکھنا آپ کے بس میں نہیں تو اپنی راہ ضرور لیں مگر گوشہ نشینی انسانی فلاح و بہبود کے حق میں ٹھیک نہیں!
انسان کو ہر پل سکون درکار بھی نہیں ہوتا۔ زندگی کی رنگینیاں ہی دراصل آپ کے ذہن کو متحرک رکھتی ہے۔ تسلسل کے ساتھ سب سے دوری بنائے رکھنا ذہن کو منجمد کردیتا ہے۔ مختلف لوگوں سے مختلف سبق آپ نہیں سیکھ سکتے۔ پھر یہ بھی ہے کہ سکون تو جہدِ مسلسل اور بے سکونی کے بعد حاصل ہونے والی شئے ہے۔ ہمیشہ حاصل ہونے والا سکون،سکون نہیں بلکہ علامت ہے اس بات کی کہ آپ کی زندگی جمود کا شکار ہوچکی ہے،اس میں بدلاؤ آنا چاہیے! مثال سے سمجھتے ہیں! بارش کا اصل مزہ کب آتا ہے؟ جب گرمی کی شدت زیادہ ہو اور تپتی دھوپ میں اچانک رم جھم شروع ہوجائے! لیکن یہی بارش اگر لگاتار روزانہ برسنے لگی تو؟ یقیناً نہ صرف آپ اکتاہٹ محسوس کریں گے بلکہ جو چیز ایک وقت پہلے دل لبھا رہی تھی وہ کراہیت کی وجہ بن جائے گی۔
فیصلہ سازی کے معاملے میں بھی سارے فیصلے بغیر مشورہ کے خود ہی لے لینا کسی بھی لحاظ سے دانش مندانہ فعل نہیں۔ بااعتماد لوگوں سے مشورہ ضرور لینا چاہیے۔ حدیث نبویﷺ ہے، مومن وہ ہے جو مشورہ کرے اور مشورہ طلب کرے،اور جو اپنی راۓ پر اکتفا کرے وہ فریب میں پڑ سکتا ہے۔
اس دنیا میں ہم صرف اپنی زندگی بہتر بنانے نہیں آئے۔ ہمارے جینے کا مقصد دوسروں کو زیادہ سے زیادہ بھلائی پہنچانا ہونا چاہیے۔ اس سے بڑی خود غرضی اور کیا ہوگی کہ انسان ایک دائرہ میں محدود رہ کر صرف اپنے مفاد کا سوچے! صرف خود کے لیے جئے! لوگوں کی زندگیوں میں زہر گھولتے غموں کا تریاق کیا ہے؟ ان کی پریشانیاں کیا ہے؟ اسے کسی چیزکی سن گن نہ ہو! بس میں اپنی زندگی بہتر بنالوں،میرا سب بہتر ہوجاۓ!
ہاں یہ سچ ہے کہ ہر کوئی مدر ٹیریسا نہیں بن سکتا مگر جہاں تک ہم اپنی خوشبو پھیلا سکے پھیلاتے رہنا چاہیے۔ مرتے وقت ساتھ آپ پروگریس رپورٹ نہیں لے جائیں گے کہ دیکھیے اللہ تعالی میں نے تنہا رہ کر کتنی ترقی کی!یہ دنیا بھلے ہی آپ کی کامیابیاں بھول جاۓمگر اچھائی،سچائی اور حسن ظن کے چھوڑے گۓنقوش ہمیشہ آپ کو دلوں میں امر رکھیں گے!
اور یہ نکتہ تو ابھی تک ہمارے لیے ناقابل فہم ہے کہ انسان اپنی ذات کو انجواۓ کیسے کرسکتا ہے؟ انسان کی اندرونی ذات کو تنہا رہ کر انجواۓ کرنا ناممکن ہے! ہمارا اندر (inner) درحقیقت باہر کی بدولت ہے! جب باہر کی خبر نہ ہو تو اندرونی طور پر لطف انداوز کیسے ہوا جاسکتا ہے۔ زندگی کے سارے رنگ ہمارے ارد گرد پھیلے لوگوں سے ہی تو ہیں۔ فکری و علمی ترقی حاصل کرنے کے لیے ضرورت صرف مناسب اوقات متعین کرنے کی ہے۔ اس کے لیے پس پردہ چلے جانے کا کوئی کورس نہیں لینا ہوتا۔ اللہ تعالی بھی ہم سے یہ نہیں چاہتے کہ رات دن معاشرتی زندگی چھوڑ کر ذکر و فکر میں مستغرق رہیں۔امید ہے قارئین بخوبی سمجھ چکے ہوگے کہ معاشرے سے تعلق ختم کرنا درست نہیں۔
اب سب سے اہم سوال یہ ہے کہ لوگوں سے سوشل کتنا رہیں؟ یا کس قسم کے لوگوں کے ساتھ رہیں؟ آئیےسمجھتے ہیں!
ہر شئے اپنی حدود و قیود میں اچھی لگتی ہے۔ سب سے اہم بات تو یہ ہے کہ آپ نے 24 گھنٹے لوگوں کے ساتھ نہیں بیتانے! وقت متعین ہونا چاہیے، یوں کہ آپ کی اپنی ذات کے لیے بھی باقی رہے۔ منفی لوگوں سے برائےمہربانی فاصلہ بنائے رکھیں۔ منفی لوگ وہ ہوتے ہیں جن کی باتیں آپ کے قلب و ذہن کو بوجھل کردیتی ہے اور ذہن گنگ یا سب کچھ برا محسوس کرنے لگتا ہے۔ جب ان سے سامنا ہوتو منفی وائبس آتی ہیں۔ایسے انسانوں سے ملنے پر ڈر محسوس ہوتا ہے کہ پچھلی دفعہ کہی جانے والی منفی باتوں کا اثر زائل کرنے اتنے دن لگے تھے پتا نہیں اب کتنے لگیں! جو لوگ آپ کو زندگی کا ہمیشہ تاریک پہلو دکھائیں، منفیت پھیلانے کی طاقت رکھتے ہیں۔ اس لیے تعلقات بناتے وقت اس بات کا خاص خیال رکھنا چاہیے۔
ساتھ ہی اپنی ذات کو مثبت بنانے کا کام جاری رکھیں۔ ہماری زندگی میں ویسے ہی لوگ آتے ہیں جیسے ہم خود ہوتے ہیں! اگر آپ صاف دل اور کھرے انسان ہیں تو یقین رکھیے اللہ آپ کو برے لوگوں کے ہاتھوں کھلونا نہیں بننے دے گا۔
ایک اہم امر یہ بھی ہے کہ سوشل ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ کا ریڈیو ہمیشہ شروع رہے۔ اس عمل سے کہیں یہ نہ ہو کہ آپ تنہا ہونا نہ بھی چاہیں تو لوگ آپ کو کردیں! کوئی بھی انسان مسلسل چلتی زبان پسند نہیں کرتا۔ اس لیے زبان و کلام میں میانہ روی اختیار کریں۔ہم سب اندر سے اکیلے ہیں،بالکل تنہا ! سارے جتن صرف زندگی کو خوبصورت بنانے کے لیے ہیں! تنہا افراد خود کے ساتھ رہ کر وقت گزارنے کے لیے عام طور پر کوئی نہ کوئی سرگرمی میں مصروف رہتے ہیں۔یہ بھی تنہائی سے بچنے کی ہی ایک کوشش ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دنیا میں صرف ایک ذات ہے جو ہر پل ہر لمحہ آپ کی شہ رگ سے بھی زیادہ قریب رہتی ہے۔ یہ رنگ،یہ قمقمے،یہ روشنیاں،یہ لوگ سب چار دن کی چاندنی ہے اور ان سے امیدیں وابستہ رکھنا خود کے پیر پر کلہاڑی مارنے کی مانند ہے۔ ضروری نہیں ہے کہ زندگی میں آنے والا ہر شخص مخلص ہوگا۔ برے لوگ ہمیں یہ سکھانے کے لیے زندگی میں بھیجے جاتے ہے کہ آپ نے ان جیسا نہیں بننا! اللہ تعالی ازل سے ابد تک آپ کے ساتھ ہے۔ ہر امید اس سے باندھیں۔ اصل کہانی آپ اور آپ کے رب کی ہے! لوگوں سے تعلقات اس کی رضا کے لیے رکھنا ہے۔ بلندی کا مقام انسان صرف عبادتوں و ریاضتوں سے ہی حاصل نہیں کرتا کبھی کبھی اپنے خول سے نکل کر دوسروں کے لیے رحمت خداوندی بن جانا،انھیں اپنے لفظوں کا سہارا دینا،کسی کی مدد کردینا،وہ جن کا کوئی نہ ہو پرسان حال بن جانا بھی اللہ کی نظر میں آپ کو ایک عظیم المرتبت انسان بنا سکتا ہے!
اپنی جوانی میں بھلے ہی آپ بڑے آرام سے سماج سے کٹ کر زندگی گزارسکتے ہیں، مگر ہر انسان کی زندگی میں ایک وقت آتا ہے! جسے کہتے ہیں The Age Of Retirement۔ اس عمر میں بچے بڑے ایک جیسی ذہانی کیفیت اپنا لیتے ہیں۔ بہت تنہائی محسوس ہوتی ہے! ساری زندگی اکڑ میں گزارنے والے، اکثر اس عمر میں لوگوں سے ملتے جلتے ہیں، لیکن پھر لوگ بھی بے اعتنائی برتتے ہیں۔ اسی لیے ایک میٹا انالیس کے مطابق دنیا میں 26% بزرگ افراد تنہائی میں گھرے ہوئے ہیں۔ اس معاشرے کو آپ کی ضرورت ہے! آپ کے اچھے اعمال کی، اچھے اخلاق کی، حمدردانہ رویہ کی، امیدوں کی، تسلیوں کی! روز محشر کہیں پوچھ نہ لیا جائے کہ تمھیں دنیا میں بھیجنے کا مقصد کیا یہی تھا کہ خود کے لیے جیتے اور بے نام و نشان خود کے لیے ہی مر بھی جاتے؟ انسان اس دنیا میں تنہا آتا ہے اور تنہا چلا بھی جاتا ہے اگر بیچ کا دورانیہ بھی تنہا گزار دیا تو آپ نے کھویا کیا اور پایا کیا؟ تنہائی کے اس پار ایک مکمل دنیا ہے! کبھی آزادی حاصل کرکے دیکھیں اپنے
قفس سے!