عیدالاضحیٰ _ ایثار، محبت اور انسانیت کا پیغام

نائلہ ریحان، مہتم دارِ ارقم چمن ولی، بارہ بنکی

عیدالاضحیٰ مسلمانوں کے لیے محض ایک تہوار نہیں بلکہ جذبۂ قربانی، اطاعتِ الٰہی اور ایثار و محبت کا عظیم پیغام ہے۔ یہ دن ہمیں حضرت ابراہیم علیہ السلام، حضرت اسماعیل علیہ السلام اور حضرت ہاجرہ علیہا السلام کی بے مثال قربانیوں کی یاد دلاتا ہے، جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے اپنی ہر خواہش کو قربان کردیا۔ اسی جذبے کو زندہ رکھنے کے لیے ہر سال مسلمان سنتِ ابراہیمی ادا کرتے ہیں۔
آج کے مادّی دور میں جبکہ انسان اپنی ذات، خواہشات اور مفادات میں گم ہوتا جارہا ہے، عیدالاضحیٰ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ اصل کامیابی اپنی انا، خود غرضی اور نفسانی خواہشات کو اللہ کی رضا کے لیے قربان کردینے میں ہے۔ قربانی صرف جانور ذبح کرنے کا نام نہیں بلکہ دل کے اندر موجود تکبر، حسد، بغض اور لالچ کو ختم کرنے کا پیغام بھی ہے۔
یہ عید ہمیں غریبوں، یتیموں اور ضرورت مندوں کا احساس دلانے کے لیے بھی آتی ہے۔ قربانی کے گوشت میں ان لوگوں کا حصہ رکھنا جو پورا سال گوشت خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے، دراصل اسلام کی خوبصورت تعلیمات کا عملی مظہر ہے۔ اگر ہمارے آس پاس کوئی بھوکا، پریشان یا محروم رہ جائے تو ہماری خوشیاں ادھوری ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ عید کی مسرتوں میں سب کو شریک کیا جائے۔
خواتین اس موقع پر گھروں کی رونق اور نظام کی اصل نگہبان ہوتی ہیں۔ ان کی محنت، سلیقہ اور خوش اخلاقی ہی عید کے ماحول کو خوشگوار بناتی ہے۔ انہیں چاہیے کہ قربانی کے ایام میں صبر، محبت اور خندہ پیشانی کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں انجام دیں اور نئی نسل کو بھی ایثار، صفائی، تعاون اور خدمتِ خلق کا درس دیں۔ بچوں کی تربیت میں ماؤں کا کردار سب سے اہم ہوتا ہے، اس لیے اگر ماں قربانی کی حقیقی روح کو سمجھ کر اپنی اولاد کو سکھائے تو ایک بہترین معاشرہ وجود میں آسکتا ہے۔
عیدالاضحیٰ ہمیں اتحاد، بھائی چارہ اور باہمی محبت کا درس بھی دیتی ہے۔ آج امتِ مسلمہ جن حالات سے گزر رہی ہے، ان میں سب سے زیادہ ضرورت اسی بات کی ہے کہ ہم اختلافات اور نفرتوں کو ختم کرکے محبت، رواداری اور خیر خواہی کو فروغ دیں۔ یہی عید کا اصل پیغام اور اسلام کی حقیقی روح ہے۔
آئیے اس عید پر ہم یہ عہد کریں کہ صرف جانور ہی نہیں بلکہ اپنی بری عادتوں، منفی سوچوں اور خود غرض رویوں کو بھی قربان کریں گے، اور اپنے معاشرے کو محبت، ہمدردی اور اخلاص کا گہوارہ بنانے کی کوشش کریں گے۔ اللہ تعالیٰ ہماری قربانیوں کو قبول فرمائے اور ہمیں اس کی حقیقی روح اپنانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔۔