بحمد اللہ گذشتہ کل دو الگ الگ جگہوں میں دعوتِ ولیمہ میں شرکت کا موقع ملا، لائقِ ذکر اور مقصدِ ذکر پہلی جگہ ہے، دیولہ ننگلی کے ایک مشہور قاری ہیں، قاری محمد زکریا سلیمانی صاحب، آپ شعبۂ تحفیظ کے ادارہ (مدرسہ دارالعلوم مصطفائیہ) کے ذمہ دار ہیں، آپ کا ادارہ گاؤں دیولہ ننگلی ہی میں واقع ہے، آپ خود نہایت نیک فطرت، متدین، محنتی، جفاکش اور مزاج شناس شخص ہیں، محنت کے لفظ سے یاد آیا گذشتہ روز ہی بیٹھے ہوئے کسی نے قاری صاحب سے فرمایا کہ جی تھک گئے ہوں گے، فوراً جواب دیا کہ "میں تھکتا ہی نہیں ہوں، کیوں کہ تھکتا وہ آدمی ہے جو اس (دنیا) پر نظر رکھتا ہے اور اس کی لئے ہی کام کرتا ہے, الحمدللہ میں نے کبھی اس پر نظر ہی نہیں رکھی، اور میں الحمدللہ 64/برس کا ہو گیا ہوں ابھی تک بڑھاپا محسوس بھی نہیں ہوتا اور مجھے تو ایسا لگتا ہے کہ میں ایسا ہی رہوں گا بوڑھا ہی نہیں ہوں گا یعنی بڑھاپے کے امراض میں ابتلاء مراد ہے"

آپ کے بڑے بیٹے مولوی محمد اسعد مظاہری کی گذشتہ پرسوں ١٢/ ذی الحجہ بہ روز ہفتہ رخصتی ہوئی اور گذشتہ کل دعوتِ ولیمہ، آۓ روز اس بات کا مشاہدہ ہوتا رہتا ہے کہ آج کل کی نکاح شادیاں محض طریقۂ مسنون کے خلاف نہیں بل کہ کراہت اور حرمت سے بھی کہیں آگے نکل چکی ہیں، صرف مولیٰ کی نافرمانی ہی نہیں بل کہ کتنے ہی غریبوں کے دل کا درد کتنے چہروں کی تھکان اور کتنی آنکھوں کے آنسوؤں کا سبب بھی، عوام سے شکوہ تو بے جا ہے، شکایت اس طبقہ سے ہے جو علمِ دین کی نسبت سے متہم ہے اور دڈھلّے سے نکاح شادیوں کی جملہ رسومات میں مصروف ہے، اس طبقے کی بڑی تعداد کو تو اس کا احساس تک بھی نہیں، ایک مختصر طبقہ کو احساس ہے تو ان کے بہ قول ان کے اہلِ خانہ انہیں اس نا مبارک عمل پر اصرار کرتے کراتے ہیں(مگر وہ طبقہ اس وقت یہ نبوی فرمان "لا طاعۃ لمخلوق فی معصیۃ الخالق" کو نظر انداز کر دیتا ہے) غرض ایک بڑی تعداد انہیں افراد کی ہے جو جہیز جیسی ناسور اور مُہلِک مرض کے مریض ہیں، بھات اور مانڈھے جیسی رسومات کے بے خوف وخطر عادی بن چکے ہیں، یہ سبھی افراد اس جرم میں شریک بھی ہیں اور معاشرہ کی اس سنگین حالت کے ذمہ دار بھی "نکاح کی رسومات بہ طورِ خاص جہیز اور اس کے مضر اثرات" یہ ایک مستقل موضوع ہے جس پر مستقل بڑے دفاتر تصنیف کیے جا سکتے ہیں۔
بات موضوع سے تھوڑی ہٹ گئ اور طویل بھی ہو گئ،‌ اس وقت پیشِ نظر مولوی محمد اسعد کا نکاح اور رخصتی ہے جو ان چند نکاح اور شادیوں میں سے ہے جنہیں انگلی پر گنا جا سکتا ہے، اس نکاح کی نہ تو کوئی منگنی تھی اور نہ کوئی سگائی، نہ اس کا مانڈھا تھا نہ کوئی تصوّرِ بارات، نہ کوئی بھات تھا نہ کوئی جہیز، حیرت تو یہ ہے کہ رسمی ٹینٹ بھی نہیں تھا، بڑے لمبے چوڑے احاطے میں قدرتی درختوں کی چھاؤں نے اچھی ٹھنڈک کی ہوئی تھی، نہ بیجا اسراف تھا اور نہ کسی ضروری چیز کی کمی، ضرورت کی ہر چیز میسر تھی، خلاصہ یہ کہ لڑکی والوں کا کوئی غیر شرعی خرچ نہیں تھا، جس کی کمیت ہمارے معاشرہ میں 5/ سے 10/ لاکھ تو بہت نارمل ہے، آپ سمجھ سکتے ہیں کہ اس رقم میں کیا کچھ نہیں ہو سکتا؟ جہاں ایک طرف یہ رقم غریب والدین کے لیے سمِ قاتل ہے تو وہیں معاشرہ کے دیگر غرباء کے لئے باعثِ عار بھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان بجا ہے کہ "سب سے بابرکت نکاح وہ ہے جس میں خرچ کم سے کم ہو" بے حد مبارکبادی کے مستحق ہیں قاری محمد زکریا سلیمانی اور ان کے لائق وفائق فرزند مولوی محمد اسعد سلمہ۔

سچی بات یہ ہے کہ جب تک بندہ احکامِ خداوندی اور سنتِ رسول کی پیروی کرتا ہے تو خداۓ ذوالجلال کی طرف سے بھی اس کے لئے مدد ونصرت کے دروازے کھول دئے جاتے ہیں، وہ کم پیسوں میں سکون وطمانینت حاصل کر لیتا ہے مگر جب بندہ خدا ورسول کے احکام وسنن سے روگردانی کرتا ہے تو ابلیس اس پر ڈیرا ڈال لیتا ہے اور سکون وراحت اس کی زندگی سے مثل عنقاء پرندے کے غائب ہو جاتے ہیں، سنت سے دوری میں تاریکی مضمر ہے، آیت میں ذکرِ الہی سے اطمینانِ قلب کی بات کہی گئ ہے، کسی نہ کسی درجے میں یہ بھی اسی سے متعلق ہے کہ دینی ودنیوی معاملات میں اللہ تعالیٰ ورسول اللہ کی اطاعت سے بھی قلبی سکون تو میسر آتا ہی ہے، گھر میں خیر وبرکات کی فضائیں اور ہوائیں چل جاتی ہیں، مولوی محمد اسعد کے والدِ محترم نے چلتی گفتگو کے دوران کئ واقعے سناۓ کہ "میرے بیٹے نے گھریلو ایک دو چیزوں کی خواہش ظاہر کی تو میں نے انہیں بہ خوشی پورا کیا کہ اگر ہم اپنی اولاد کی جائز خواہشات کی تکمیل نہیں کر سکتے تو ہم کیسے والدین ہیں؟" یہ ایک معمولی بات ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک اہم نکتہ ہے، کیوں کہ جو لوگ اولاد کی ناجائز خواہشات کی تکمیل کرتے ہیں انہیں مباحات سے محروم رکھ دیا جاتا ہے، جائز توفیقات سے انہیں دور کر دیا جاتا ہے، خدا حفاظت فرمائے آمین۔

خلاصہ یہ کہ نکاح شادی کی رسومات بہ طورِ خاص جہیز نے معاشرہ کو تباہ اور اجاڑ کر رکھ دیا ہے، ہمارے ایک ساتھی جہیز کی وجوہِ حرمت میں رشوت کا بہترین دخول کرتے ہیں، مگر اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ اس دورِ تنزلی میں بھی چند ایسے نئے جوان اور مدارسِ اسلامیہ کے فاضل سامنے آ رہے ہیں جنہوں نے اپنی شادی بیاہ کو سنت سے قریب سے قریب تر کرنے کے لیے جہیز جیسے ناسور اور دیگر مہلک امراض پر قدغن لگایا ہے، وہ سبھی احباب مبارکبادی اور شکریہ کے مستحق ہیں، وہ سب تاریخ کی نمایاں فہرست میں رقم ہوں گے ان شاءاللہ تعالی
اللہ تعالیٰ اس غیر شرعی اور مہلک مرض سے ہم سبھی کو محفوظ رکھے, نکاح کو سنتِ نبوی کے موافق کرنے کی توفیق میسر فرمائے آمین یا رب العالمین۔

دعا گو: عبد اللہ یوسف
14/ ذوالحجہ 1447ھ۔
بہ روز پیر