🥹*دارِ فناء سے دارِ بقاء کی جانب تشریف لے جانے والے کی صدا۔*🥹

اے میرے پیارے دنیا والے اسلامی بھائیوں سنو آج میری زبان تو بند ہے، لیکن میرا ہر ذرہ پکار پکار کر تمہیں ایک حقیقت سنا رہا ہے، آج میں اس پل پر کھڑا ہوں جہاں دنیا کی رنگینیاں، چکا چوند کر دینے والی روشنیاں اور تمہاری یہ پرشور محفلیں سب ایک دھندلا سا خواب بن کر تحلیل ہو رہی ہیں،ذرا سوچو میں اس کمرے میں ہوں جہاں اب میرے اپنوں کی بھیڑ ہے، کوئی رو رہا ہے، کوئی میری آنکھیں بند کر رہا ہے، کوئی وصیت سنبھال رہا ہے، لیکن اس ہجوم میں بھی میں کتنا اکیلا ہوں، میرا وہ جسم جسے میں نے سالوں عطر لگا کر، مہنگے لباس پہنا کر سنوارا تھا، آج اسے مٹی میں اتارنے کی جلدی مچی ہے، وہ لوگ جو کل تک میرے دم بھرتے تھے، آج میری سانسیں رکتے ہی میرے وجود سے ہچکچانے لگے ہیں، اب مجھے سمجھ آیا ہے کہ میں جس کو اتنا عزیز رکھتا تھا، وہ تو محض ایک کرایہ دار تھا جو آج گھر خالی کر کے جا رہا ہے۔
*وقت کی بے رحمی اور ندامت*
کاش کاش میں ان لمحوں کو واپس بلا سکتا جو میں نے غفلت میں گزارے، مجھے یاد آ رہا ہے وہ وقت جب میں نے دولت کی ہوس میں اپنے رب کو بھلا دیا تھا، وہ نمازیں جو میں نے کام کے بہانے قضا کر دیں، وہ سجدے جو میں نے جلدی میں سرکائے تھے، آج وہ ساری دنیا، وہ بینک بیلنس، وہ شان و شوکت، وہ عہدے سب ایک بے کار ریت کے ذروں کی طرح میرے ہاتھوں سے پھسل رہے ہیں، اے میرے دوستو میں تمہیں دیکھ رہا ہوں، تم اب بھی اسی دوڑ میں لگے ہو جس میں، میں عمر بھر بھاگتا رہا، کیا تمہیں نظر نہیں آ رہا؟ سامنے وہی اندھیری کھائی ہے جس میں مجھے اترنا ہے۔
میری روح جب حلقوم تک پہنچتی ہے، تو مجھے اپنے گناہوں کا وہ بوجھ پہاڑ جیسا محسوس ہوتا ہے، کاش کوئی مجھے ایک لمحہ دے دے صرف ایک لمحہ کہ میں اپنے رب کے سامنے سجدہ ریز ہو سکوں، اپنے مظلوموں سے معافی مانگ سکوں، لیکن نہیں وقت کا پہیہ اب پیچھے نہیں گھوم سکتا *اے میرے بچوں اے میرے ہم نشینو* اگر مجھ سے محبت کرتے ہو، تو میرے لیے وہ روایتی آنسو مت بہانا جو تھوڑی دیر میں خشک ہو جائیں گے، اگر رونا ہے تو میرے ان گناہوں پر روؤ جو میں نے تنہائی میں کیے تھے، میری اس پہلی رات کے لیے دعا کرو جب میں مٹی کے نیچے اکیلا ہوں گا، مجھے اس مٹی کے ٹھنڈے بستر پر مت چھوڑ دینا، اپنی دعاؤں کے چراغ لے کر آنا۔
دیکھو، فرشتوں کی وہ ہیبت ناک آمد میرا دل پھٹا جا رہا ہے، کاش میں نے زندگی میں تھوڑی سی نیکی کر لی ہوتی، میں جا رہا ہوں، اس دارِ فناء سے، اس دھوکے کے گھر سے، ایک ایسے جہان کی طرف جس کا کوئی نقشہ میرے پاس نہیں، سوائے میرے اعمال کے،اے دنیا تیرا حسنِ ظاہری ایک بڑا فریب تھا، تو نے مجھے ہنسایا، مگر آخر میں رلا کر چھوڑ دیا، تم جو اب بھی زندہ ہو، میری یہ آخری وصیت یاد رکھنا جب تم مجھے لحد میں اتارو گے، تو مٹی ڈالنے سے پہلے ایک بار ضرور سوچنا کہ کل تمہاری باری ہے، آج میں ہوں، کل تم ہو گے، آج میں محتاج ہوں تمہاری دعا کا، کل تم محتاج ہو گے کسی اور کی دعا کے،موت کوئی اختتام نہیں، بلکہ ایک ایسی حقیقت سے سامنا ہے جس سے ہم زندگی بھر آنکھیں چراتے رہے، یہ تحریر محض الفاظ نہیں، ایک مسافر کی وہ چیخ ہے جو وہ قبر کے دہانے پر کھڑا ہو کر ہر زندہ انسان کے ضمیر کو سنا رہا ہے۔
مزید لکھنے سے قاصر ہوں آنسوں نہیں رک رہے ہیں ان شاءاللہ عزوجل آپ لوگ اسی کو دل کی آنکھوں سے پڑھو،یقینا آپ بھی بغیر روئے نہ رہ سکو گے۔🥹

                   *✍️متعلم الجامعۃ الاشرفیہ✍️*