زندگی بھی عجیب مزاحیہ مصنف ہے۔ جب لگتا ہے کہ اب سب کچھ سمجھ آگیا ہے، وہ فوراً ایک نیا دوراہا سامنے لا کر کہتی ہے: "لو بھئی، اب یہ فیصلہ کرو!"
بچپن میں دوراہا بہت سادہ ہوتا تھا۔ ایک راستہ ہوم ورک کی طرف جاتا تھا اور دوسرا کھیل کے میدان کی طرف۔ ہم نے اکثر میدان والا راستہ چنا، لیکن اگلے دن استاد صاحب نے ثابت کر دیا کہ اصل دوراہا تو اب شروع ہوا ہے۔
جوانی آئی تو دوراہے بھی ماڈرن ہو گئے۔ اب سوال یہ ہوتا ہے کہ امتحان کی تیاری کی جائے یا صرف پانچ منٹ کے لیے موبائل کھولا جائے۔ اور وہ پانچ منٹ اتنی تیزی سے دو گھنٹے بنتے ہیں کہ گھڑی بھی حیران رہ جاتی ہے۔
ایک شاعر نے شاید ایسے ہی کسی موقع پر کہا ہوگا:
؎ راہ میں دوراہے بہت آئے مگر یہ حال رہا
جس طرف دوست گئے ہم بھی اُدھر چلتے گئے
کبھی زندگی ہمیں ایسے دوراہے پر بھی کھڑا کر دیتی ہے جہاں ایک راستہ محنت کی طرف جاتا ہے اور دوسرا بھی محنت کی طرف۔ انسان کافی دیر تک نقشہ دیکھتا رہتا ہے کہ شاید کوئی تیسرا راستہ "آرام" کے نام سے بھی ہو، مگر افسوس کہ وہ اکثر بند ملتا ہے۔
ایسے موقع پر دل کہتا ہے:
؎ منزل کی فکر چھوڑ، ذرا راستہ تو دیکھ
ہر موڑ پر کھڑی ہے کوئی نئی کہانی
ویسے اگر غور کیا جائے تو زندگی کے زیادہ تر مسئلے دوراہوں سے نہیں، ہمارے فیصلوں سے پیدا ہوتے ہیں۔ ہم پہلے فیصلہ کرتے ہیں، پھر پچھتاتے ہیں، پھر کہتے ہیں: "مجھے تو پہلے ہی اندازہ تھا!" حالانکہ اندازہ اگر واقعی ہوتا تو پچھتانا کیوں پڑتا؟
اسی لیے میرا خیال ہے کہ زندگی کے دوراہوں سے گھبرانا نہیں چاہیے۔ ایک راستہ کامیابی سکھاتا ہے اور دوسرا عقل۔ فائدہ دونوں میں ہے، بس نقصان صرف اس میں ہے کہ انسان کھڑا ہی رہے اور فیصلہ نہ کرے۔
آخرکار زندگی یہی کہتی ہے:
؎ چلنے والوں کے نصیبوں میں ہیں منزل کے سراغ
سوچنے والے تو ہر موڑ پہ رُک جاتے ہیں
اس لیے جب اگلی بار زندگی کسی دوراہے پر لا کھڑا کرے تو مسکرائیے، سوچئے، دعا کیجیے اور قدم بڑھا دیجیے۔ کیونکہ بعض اوقات غلط موڑ بھی بہت اچھا قصہ بن جاتا ہے۔ 😄