بقلم محمد شاہد رحمانی
۱۵؍ ذوالحجہ ۱۴۴۷ھ
یکم جون ۲۰۲۶ء
تم نے دین کو نہیں، اپنے آقاؤں کو معیارِ حق بنا لیا ہے۔ تمہارے نزدیک دلیل کی کوئی حیثیت نہیں، تمہاری آنکھوں پر عقیدت کا ایسا پردہ پڑ چکا ہے کہ تم حق کو بھی اپنے بڑوں کے دروازے پر اجازت لینے بھیجتے ہو۔ اگر وہ قبول کر لیں تو حق، ورنہ باطل!
تم نے خوشامد کے وہ سارے فن سیکھ لیے جن سے خودداری کا جنازہ نکل جاتا ہے۔ تم نے اپنے ضمیر کو گروی رکھ دیا، اپنی فکر کو بیچ دیا اور اپنی زبان کو ایسی زنجیروں میں جکڑ دیا کہ اب تم سچ جانتے ہوئے بھی سچ بولنے کی جرأت نہیں رکھتے۔
تمہارے آقا خطا کریں تو تم تاویلوں کے انبار لگا دیتے ہو، وہ ٹھوکر کھائیں تو تم اسے حکمت کا نام دے دیتے ہو، وہ امت کو تقسیم کریں تو تم اسے مصلحت کہہ کر تالیاں بجاتے ہو۔ تم نے شخصیتوں کے گرد ایسا حصار کھڑا کر دیا ہے کہ وہاں حق کی آواز پہنچتے پہنچتے دم توڑ دیتی ہے۔
تم دعویٰ تو امت کی خیر خواہی کا کرتے ہو، مگر تمہارے طرزِ عمل سے امت کے سینے میں نئے زخم لگتے ہیں۔ تم اتحاد کے نعرے لگاتے ہو اور اختلاف کے بیج بوتے ہو۔ تم اخلاص کی بات کرتے ہو اور ہر قدم پر اپنی جماعت، اپنے حلقے اور اپنے قائد کی بڑائی کے جھنڈے گاڑتے ہو۔
خدا کے لیے سوچو! تم امت بنا رہے ہو یا عقیدت مندوں کا ایک ہجوم؟ تم دین کی خدمت کر رہے ہو یا شخصیتوں کی سلطنت کو مضبوط بنا رہے ہو؟ تم لوگوں کو اللہ سے جوڑ رہے ہو یا اپنے آقاؤں کے در کا محتاج بنا رہے ہو؟
یاد رکھو! تاریخ کا مطالعہ کرو، تمہیں ہر دور میں ایک ہی داستان سنائی دے گی۔ جب شخصیتوں کے قصیدے اصولوں سے بلند ہو گئے، جب وابستگیاں حقیقت پر غالب آ گئیں، جب جماعت بندی کے نعرے لگائے گئے، اور جب عقیدت نے بصیرت کو نگل لیا، تو بگاڑ نے جنم لیا، انتشار نے پرورش پائی اور زوال نے اپنی جڑیں مضبوط کر لیں۔ زوال آندھی کی طرح اچانک نہیں آتا؛ وہ پہلے ذہنوں کو اپنا شکار بناتا ہے، پھر دلوں کو تقسیم کرتا ہے، پھر زوال دروازوں پر دستک نہیں دیتا، دیواریں گرا کر اندر داخل ہوجاتا ہے۔
تم نے اپنے گرد ایسی فضا قائم کر لی ہے جہاں سچ بولنے والا بے وقوف سمجھا جاتا ہے اور ہر بات پر سر ہلانے والا دانا۔ تم نے اختلافِ رائے کو دشمنی کا نام دے دیا اور خیر خواہی کو گستاخی کا عنوان۔ اب تمہارے ایوانوں میں چاپلوسی کو قربت ملتی ہے اور حق گوئی دروازے پر منہ تکتی کھڑی رہ جاتی ہے۔
تمہارا مسئلہ محبت نہیں، محبت کا نام لے کر شعور کو قربان کر دینا ہے۔ تم نے عقیدت کو اس مقام پر پہنچا دیا ہے جہاں نہ حق کی روشنی دکھائی دیتی ہے، نہ باطل کی تاریکی؛ تمہارے لیے وہی درست ہے جسے تمہارے آقا درست کہیں، اور وہی غلط ہے جسے وہ غلط قرار دیں۔
مجھے علمی اختلافات سے اندیشہ نہیں، غلام ذہنیت سے خوف آتا ہے؛ جو عقل کو قید، زبان کو گونگا اور ضمیر کو خاموش کر دیتی ہے۔
آج تم اپنے آقاؤں کے نام پر صفیں بنا رہے ہو، کل انہی ناموں پر دیواریں کھڑی ہوں گی۔ آج تم شخصیتوں کے گرد حلقے قائم کر رہے ہو، کل انہی حلقوں کے درمیان خندقیں کھد جائیں گی۔ پھر تم اتحاد کے جتنے بھی نعرے لگا لو، بکھرے ہوئے دل نعروں سے نہیں جڑا کرتے اور منتشر راستے نعروں سے یکجا نہیں ہوا کرتے۔
اے اس مٹ جانے والی شخصیات کے پرستارو! بچا سکتے ہو تو بچا لو۔ کچھ نہیں بچے گا۔
اور سنو! شخصیت کے چاہنے والو سنو! سنو اے حقوقِ انسانی کا راگ الاپنے والو، سنو! سنو اے خود ارادیت کا ڈھونگ رچانے والے مفاد پرستو، سنو اور غور سے سنو! کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ تمہاری بے سر و پا تسلیوں سے، تمہارے رچائے ہوئے ناٹک سے، تمہاری دکھاوے کی اچھل کود سے حقائق کا رخ بدل جائے گا؟ کیا تمہارے شور سے سچ دب جائے گا؟ کیا تمہاری تاویلوں سے حقیقت اپنا نام بدل لے گی؟
ہرگز نہیں!
تم خواہ شخصیتوں کے گرد تقدس کے کتنے ہی حصار کھڑے کر لو، وفاداری کے کتنے ہی قصیدے پڑھ لو، عقیدت کے کتنے ہی چراغ جلا لو، وقت ایک دن سب پردے چاک کر دیتا ہے۔ پھر نہ نعروں کی گونج باقی رہتی ہے، نہ مجمعوں کا ہجوم، نہ درباروں کی رونق۔
اس دن نہ تمہاری تاویلیں کام آئیں گی، نہ تمہارے نعرے، نہ تمہارے مجمعے۔ باقی رہے گا تو صرف یہ سوال کہ تم نے لوگوں کو اللہ کی طرف بلایا تھا یا اپنے آقاؤں کی طرف؟ تم نے حق کا پرچم بلند کیا تھا یا شخصیتوں کا؟ تم نے امت کو جوڑا تھا یا اسے مزید منتشر راستوں کے حوالے کر دیا تھا؟
یاد رکھو! حق کو تمہاری تائید کی ضرورت نہیں، تمہیں حق کی ضرورت ہے۔ شخصیتیں مٹ جاتی ہیں، دربار ویران ہو جاتے ہیں، نعرے خاموش ہو جاتے ہیں، مگر حق اپنی جگہ قائم رہتا ہے۔ خسارہ صرف اُن لوگوں کا ہوتا ہے جو حق کو چھوڑ کر شخصیت کے سائے میں پناہ ڈھونڈتے ہیں۔
اس لیے ابھی بھی وقت ہے، شخصیتوں کے سائے سے نکل آؤ، ورنہ تاریخ تمہارے نعروں کو نہیں، تمہاری لغزشوں کو یاد رکھے گی؛ تمہاری عقیدت کو نہیں، تمہاری فکری غلامی کو لکھے گی؛ اور ان منتشر راستوں کی داستان لکھے گی جہاں لوگ شخصیتوں کو بچاتے رہے اور امت بکھرتی رہی۔