*دیہات کی صبح قدرتی حسن کا بےمثال شاہکار*

*خامہ بکف محمد عادل ارریاوی*
_________________________________
دیہات کی صبح واقعی اپنے اندر ایک خاص کشش تازگی اور سکون سموئے ہوئے ہوتی ہے جب صبح صادق کا وقت ہوتا ہے سورج ابھی پوری طرح طلوع نہیں ہوا ہوتا فضا میں ہلکی ہلکی روشنی پھیل رہی ہوتی ہے اور ہر طرف خاموشی کے ساتھ ایک عجیب سی تازگی محسوس ہوتی ہے۔ ایسے وقت میں گھر سے باہر نکل کر سڑکوں پر چلتے ہوئے کھیت کھلیان کی طرف جانا دل کو ایک الگ ہی خوشی اور سکون عطا کرتا ہے۔
آج جب صبح کے وقت باہر نکلا تو موسم نہایت خوشگوار تھا آسمان پر ہلکے ہلکے بادل چھائے ہوئے تھے اور بارش کی نرم نرم بوندیں آہستہ آہستہ زمین پر گر رہی تھیں ٹھنڈی خوشبودار اور مزیدار ہوائیں چل رہی تھیں جو جسم کے ساتھ ساتھ دل و دماغ کو بھی تازگی بخش رہی تھیں بارش کے بعد مٹی کی خوشبو فضا میں گھلی ہوئی تھی جو ماحول کو مزید خوبصورت بنا رہی تھی۔
راستے کے دونوں جانب طرح طرح کے سرسبز و شاداب درخت پودے اور لہلہاتے ہوئے کھیت ایک دلکش منظر پیش کر رہے تھے۔ کہیں ہرے بھرے کھیت اپنی خوبصورتی دکھا رہے تھے کہیں درختوں کی شاخیں ہوا کے ساتھ جھوم رہی تھیں تو کہیں پرندے اپنی میٹھی اور دلکش آوازوں سے ماحول کو مزید پرلطف بنا رہے تھے۔
ٹھنڈا ٹھنڈا موسم نرم ہواؤں کے جھونکے اور بارش کی بوندوں کا یہ حسین امتزاج انسان کے دل کو بےحد سکون پہنچا رہا تھا راستے میں معصوم بچے ہنستے کھیلتے اور بھاگتے دوڑتے دکھائی دے رہے تھے۔ کچھ لوگ اپنے بیل بکریاں اور دوسرے جانور لے کر کھیتوں کی طرف جا رہے تھے گاؤں کی یہ سادہ مگر خوبصورت زندگی اپنے اندر ایک خاص اپنائیت رکھتی ہے۔
پھر راستے میں کسی جان پہچان والے شخص سے اچانک ملاقات ہو جانا خیریت دریافت کرنا مسکرا کر سلام کرنا اور دو باتیں کر لینا یہ سب لمحے دل کو ایک الگ ہی خوشی دیتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ گاؤں کی صبح کی یہ سادگی یہ قدرتی مناظر یہ ٹھنڈی ہوائیں اور یہ پرسکون ماحول انسان کو ایسی راحت اور سکون فراہم کرتے ہیں جو شاید شہروں کی چمک دمک میں بھی آسانی سے نصیب نہیں ہوتے۔