لمحات قسط 17
28/05/2026 بروز جمعرات
اظفر منصور
ندوہ میں عیدالاضحیٰ کی نماز!!!
ایک رات قبل سے ہی تیاریاں شروع کردی گئیں۔ تمام چیزیں ترتیب سے لگا دی گئیں کہ کہیں عین وقت پر کچھ کمی و بیشی نہ ہو جائے۔ اپنوں سے دور بہت دور دیار غیر میں پہلی عید ہے، اس لئے ان تیاریوں کو بروقت کر لینے میں ہی عافیت سمجھی گئی کہ والدہ کی طرح کوئی عیدگاہ کی طرف نکلتے ہوئے نہ دیکھے گا اور نہ ہی بہن بھائیوں کی توجہ حاصل ہوگی۔ سید عبد السمیع (امام جامع مسجد کٹرا بازار کاکوری) سے کہہ رکھا تھا کہ عید کی نماز ندوہ میں ہی ادا کرنی ہے ان شاءاللہ۔ میری خواہش کو اولیت دیتے ہوئے انہوں نے میرے جذبات کا پورا خیال رکھا۔ اور آج 28/05/2026 عیدالاضحیٰ کی صبح نئے لباس و عطر کی مہک کے سائبان میں بائیک سے روانہ ہو گئے۔ راستے میں حماد اللہ سے رابطہ کیا، وہ بھی ندوہ میں ہی نماز کی ادائیگی کا ارادہ رکھتے تھے، مگر اس نے منع کر دیا۔ ندوہ میں ساڑھے سات بجے نماز ہونی تھی، ہم سات بجے پہنچ گئے۔ ہائی وے پر نیچے سڑک پر فورسز کی تعداد نے چھاؤنی کا ماحول بنا دیا تھا۔ اتر پردیش سرکار کی مسلم منافرت سر چڑھ کر بول رہی ہے یہی وجہ ہے کہ اب سیکیورٹی کے نام پر مسلمان بندوقوں کے سائے میں نماز پڑھنے پر مجبور ہیں۔ کیمپس میں داخل ہوتے ہی سامنے کھڑی عالیشان مسجد مسلمانوں کی عظمت رفتہ کا نوحہ پڑھتے ہوئے ہمیں گویا متوجہ کر رہی تھی کہ
تھے تو وہ آباء تمہارے ہی مگر تم کیا ہو
ہاتھ پہ ہاتھ دھرے منتظر فردا ہو
گمان تھا کہ آدھے گھنٹے قبل تک مسجد اپنی متعینہ مقدار نمازی کو عبور کر چکی ہوگی اور ہمیں میدان یا تو سڑک پر جاں نماز بچھانی ہوگی مگر الحمدللہ گراؤنڈ فلور میں ہی دائیں سمت جگہ مل گئی۔ پوری مسجد خوشبوؤں سے معطر تھی، خیال گزرا کہ باقاعدہ اس کا اہتمام کیا گیا ہوگا۔ محراب میں مائیک سنبھالے مولانا خالد غازی پوری صاحب ندوی دامت برکاتہم اپنے زور خطابت کا جوہر دکھلا رہے تھے، قربانی کے عظیم مقاصد سے دلوں کو گرما رہے تھے، نوجوانوں کو حوصلہ دلا رہے تھے، موجودہ حالات کی حقیقت اور اس سے راہ یاب ہونے نسخے بیان فرما رہے تھے، لفظ لفظ پر دل دھڑکا رہے تھے، جملے جملے سے شان مصطفوی کو عام کر رہے تھے، قرآنی آیات سے استدلال اور واقعات سے مدلل گفتگو سے اپنا گرویدہ بنا رہے تھے کہ وقت 07:25 ہوگیا۔ اور خطاب بھی مکمل ہوگیا۔ معاً بعد مولانا فرمان صاحب ندوی دامت برکاتہم نے مائیک سنبھالا، عید کی نماز کا طریقہ سمجھایا۔ جو کہ کچھ یوں تھا۔
عید کی نماز کا طریقہ!!!
عید کی نماز دو رکعات پر مشتمل ہوتی ہے جس میں اذان و اقامت نہیں ہوتی۔ اس نماز کی خصوصیت زائد تکبیرات ہیں۔ حنفی مسلک کے مطابق طریقہ یہ ہے:
پہلی رکعت: امام "اللہ اکبر" کہہ کر تکبیر تحریمہ کہتا ہے اور مقتدی نیت باندھ کر اس کی پیروی کرتے ہیں۔ پہلے ثناء (سبحانک اللہم…) پڑھی جاتی ہے۔ اس کے بعد امام تین بار بلند آواز سے "اللہ اکبر" کہتا ہے۔ ہر تکبیر پر ہاتھ کانوں تک اٹھائے جاتے ہیں اور پھر نیچے چھوڑ دیے جاتے ہیں، سوائے تیسری تکبیر کے بعد ہاتھ ناف کے نیچے باندھ لیے جاتے ہیں۔ پھر امام تعوذ، تسمیہ، سورہ فاتحہ اور کوئی سورت (مثلاً سورہ الاعلیٰ) پڑھ کر رکوع و سجود کرتا ہے۔
دوسری رکعت: دوسری رکعت کے لیے کھڑے ہو کر امام پہلے سورہ فاتحہ اور کوئی سورت (مثلاً سورہ الغاشیہ) پڑھتا ہے۔ اب تین تکبیریں پھر کہی جاتی ہیں، لیکن اس بار تیسری تکبیر کے بعد ہاتھ باندھے بغیر ہی رکوع میں چلے جاتے ہیں۔ باقی نماز عام نماز کی طرح رکوع، سجدے، تشہد، درود اور دعا کے بعد سلام پھیر کر ختم کی جاتی ہے۔
خطبہ: نماز کے فوراً بعد امام خطبہ دیتا ہے جو عید کی نماز کا لازمی جزو ہے۔ خطبہ میں امام اللہ کی حمد و ثنا کرتا ہے، تکبیرات کہتا ہے اور عید کی اہمیت اور اس کے متعلقات بیان کرتا ہے۔ مقتدیوں پر لازم ہے کہ وہ خاموشی سے خطبہ سنیں۔
خطبہ میں مولانا نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زندگی کے بعض پہلوؤں کو بیان کیا، ہم موجودہ حالات میں کیسے ان کی حیات مبارکہ سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں رہنمائی فرمائی۔
عیدالاضحیٰ کی نماز سے فراغت کے بعد انگلش کے استاذ جناب مولانا ماسٹر رفیق صاحب دامت برکاتہم پر نظر پڑی تو میں ان کی جانب بے اختیارانہ کھنچا کہ یہ اصل میں استاذ ہیں جو بس تعمیر شخصیت پر نگاہ رکھتے ہیں۔ ماسٹر صاحب نے خلاف توقع مصافحہ کے ساتھ ساتھ معانقہ فرما کر بھی عزت افزائی کر دی۔ کچھ ساتھیوں سے بھی مصافحہ و معانقہ کی ضرورت محسوس ہوئی۔
عیدین کے موقع سے معانقہ کرنا!!!
آجکل لوگوں کے درمیان یہ بات مشہور ہونے لگی کہ مصافحہ و معانقہ کرنا بدعت ہے، جب ہم اس پر غور کرتے ہیں تو نتیجہ نکلتا ہے کہ واقعی لوگوں نے اسے بدعت بنا دیا ہے۔ حالانکہ مسلمانوں کو خوشی و مسرت کے موقع پر مصافحہ و معانقہ کی مطلق اجازت دی گئی ہے۔ مگر ہم نے اس میں تحدید و تحذیف سے کام لے کر اسے بدعت بنا دیا۔ مثلاً مسنون طریقہ یہ ہے کہ بغیر قیود تعداد و حدود وقت و حالات کے معانقہ کیا جائے مگر ہم نے بدعت کی رسیوں سے تین کی تعداد میں باندھ دیا ہے کہ جب مصافحہ کریں گے تو تین کی تعداد کے ساتھ ہی کریں گے کیونکہ یہی طریقہ سنت ہے۔ حالانکہ یہ غیر مناسب ہے۔ اس سلسلے میں ہم نے جامعہ بنوریہ کی فتویٰ ویب سائٹ سے بھی رجوع کیا۔ (لنک پیش ہے:https://share.google/qpB3LWSFPpD0VAvc6)
ـــــــــــــــــــــــــمسجد کے باہر ہجوم عاشقاں تھا، لوگ اپنے اپنے اعز و اقارب سے بغلگیر تھے، ایسا لگ رہا تھا گویا مسجد بھی جھک کر سلام و تسلیمات پیش کر رہی ہو۔ سیلفیز، فوٹوز وغیرہ کے لئے عجیب عجیب شگوفے پھوٹ رہے تھے۔ ہم بھی اسی مشغلہ کے اسیر ہیں، دو چار تصویریں بنوائیں کہ یادگار رہے۔ دھیرے دھیرے ہم آگے بڑھ رہے تھے کہ رفیق درس حذیفہ نے فون کیا کہ گھر آئیے۔ حذیفہ استاذ گرامی مولانا عبدالحی صاحب ندوی (استاذ مدرسہ اسلامیہ سمہریا مہپت مئو لکھنؤ/ معروف بہ معہد سیدنا ابی بکر الصدیق) کے صاحب زادے اور دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ کے سینئر استاذ، تعمیر حیات پرچہ کے ایڈیٹر جناب مولانا شمس الحق صاحب ندوی دامت برکاتہم العالیہ کے نواسے ہیں۔ یہاں ہم نے سوئیاں کھائیں۔ اور دسترخوان پر سجے مختلف النوع اشیاء سے لطف اندوز ہوئے۔ ہمارے سینئر ساتھی (مولانا) انس ندوی (بھائی) ملاقات کی غرض سے تشریف لائے، خیر و عافیت کی تلاشی کے بعد کچھ دیر بیٹھ کر ہم رخصت ہوئے۔ ٹہلتے ہوئے کچھ لمحے بعد صدر دروازہ کے قریب پہنچے تو دیکھا کہ کسی چینل کی ایک خاتون صحافی انٹرویو لے رہی ہے۔
ڈیجیٹل میڈیا سے گفتگو!!!
بالکل قریب پہنچتے ہی وہ خاتون صحافی میری طرف لپکی، اور مائیک سامنے کر دیا۔ مائیک کیمرے سے چونکہ تعلقات پرانے ہیں اس لیے گھبراہٹ نہیں ہوئی۔ البتہ یہ خیال ضرور ستانے لگا کہ میری اس گفتگو پر ہمارے ادارے کی انتظامیہ نہ برہم ہو جائے۔ پھر بھی ہم نے بات اور مگر حد درجہ احتیاط کے ساتھ۔ ہمارے درمیان ہونے سوالات و جوابات کی مختصر تفصیل یہ ہے۔
صحافی: آپ عید کی نماز پڑھ کر نکل رہے ہیں کیسا لگ رہا ہے ؟
اظفر: الحمدللہ! بہت خوشی، سکون اور اطمینان حاصل ہوا۔
صحافی: عید کی تیاریاں کی تھیں آپ نے؟
اظفر: ہاں! چونکہ ہمارے یہاں اصلا دو ہی تہوار ہیں عید بقرعید، اس لیے اس کی تیاریاں دو تین دنوں پہلے ہی شروع کر دیتے ہیں۔
اب یہاں سے خاتون نے اپنا رخ بدلا، اور مسئلہ کو نازک بنانے کے لئے سوال کیا کہ
صحافی: نماز کے بعد کیا کریں گے ؟
اظفر: نماز کی ادائیگی کے بعد ہمارا سب سے پہلا کام قربانی دینا ہے۔ جس میں ہم سب خوب شوق سے شریک ہوتے ہیں۔
صحافی: قربانی کھلے میں کرنا چاہیے یا نہیں؟
اظفر: نہیں، قربانی سڑک کنارے یا کھلے میں تو بالکل نہیں ہونا چاہیے۔ ہمارے کسی عمل سے کسی کو تکلیف نہ پہنچے۔
صحافی: وزیر اعلیٰ نے سڑک پر نماز ادا کرنے سے منع کیا ہے۔ آپ کیا کہتے ہیں ؟
اظفر: (ہنستے ہوئے) اس بارے میں ہم کچھ نہ بولنا بہتر سمجھتے ہیں۔ مگر پھر بھی اگر گائڈ لائن ہے تو ٹھیک ہے ہم سڑک پر نماز نہیں پڑھیں گے۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــاچانک معلوم ہوا کہ بائیک کا پٹرول ختم ہو چکا ہے، جیسے کہ دھیرے دھیرے ملک سے ختم ہو رہا ہے، اب پیٹرول پمپ تک پہنچنا بڑا صبر آمیز کام تھا، مگر لکھنؤ چونکہ تہذیب و ثقافت کا شہر ہے، یہاں آپسی بھائی چارے کا رواج ہے، محبت و مؤدت عام ہے، تو کہاں ممکن تھا کہ لوگ ساقی رہے جام نہ رہے۔ اللہ نے مدد کا ندوہ مارکیٹ کے علی کیپ ہاؤس کے عبد الرحمن بھائی کو ذریعہ بنایا۔ محترم گزر رہے تھے، دیکھ کر خود ہی گاڑی روک دی، اور دس والی کیمپا کی بوتل میں پیٹرول بھر دے دیا۔ واللہ گرمی کی اس شدت میں عبد الرحمن بھائی کی یہ مدد ہمیشہ یاد رہے گی۔
ـــــــــــــــــــــــــــــمجموعی تاثرات!!!
عید کی اصل خوشی اپنوں کے درمیان ہے، گھر سے دور پردیس میں عید منتی ہے، منائی نہیں جاتی ہے۔ گذرتی نہیں گزاری جاتی ہے۔ جلو میں لاکھ دوست و احباب ہوں مگر والدین، بہن بھائیوں کے بغیر عید کی حقیقی خوشی کا تصور کرنا محال ہے۔
تجھ کو میری نہ مجھے تیری خبر جائے گی
عید اب کے دبے پاؤں گزر جائے گی
ظفر اقبال کے اس شعر میں ہم نے اہل ادب سے پیشگی معافی کے ساتھ "بھی" حذف کیا ہے۔ کیونکہ اب کی عید واقعی دبے پاؤں گزر رہی ہے۔ گھر کی بنیاد ستا رہی ہے، بھتیجے بھتیجوں کا شور و غل تڑپا رہا ہے۔ مگر ہم کچھ نہیں کر سکتے، آنسوؤں کے چار قطرے بہتے ہیں کہ کسی ساتھی، دوست، محب کی کال یا پیغام آ جاتا ہے، یعنی سکون سے رونا بھی نصیب نہیں کہ غم ہلکا ہو۔
ندوہ میں عید کی نماز پڑھنے کا پہلا اتفاق تھا، مصلیوں کی تعداد، پولیس انتظامات، جوش و خروش ساری چیزیں لائق دید تھیں۔ مگر ان سب کے باوجود ایک ٹیس، ایک کسک، ایک درد، ایک آہ تھی دل میں چنگاری بن بن کر احساس تنہائی کو شرمندہ کرتی اور آنکھوں میں سیلاب و تلاطم خیزی برپا ہو جاتی۔
ـــــــــــــ……………………ــــــــــ
بشیر بدر کا انتقال!!!
لوگ ٹوٹ جاتے ہیں گھر بسانے میں
تم ترس نہیں کھاتے بستیاں جلانے میں
ایسا فکری و نظریاتی شعر کہنے والے عظیم شاعر بشیر بدر ہمارے درمیان سے عیدالاضحیٰ کی مسرت آمیز ساعات میں رخصت ہو گئے۔ آپ کی وفات کی اطلاع نے دل کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا، کیونکہ آپ ہماری اس نئی صدی جس میں ہر طرح کی ملاوٹ و مفاد پرستی عام ہے ایک بے غرض و خالص شاعر تھے، آپ کا اپنا اسلوب، اپنا انداز، اپنی زمین، اپنی فکر، اپنا خیال تھا۔ آپ کے اشعار نے بشیر بدر نام کو تو بہت مشہور کیا مگر بدر صاحب کی شخصیت زیادہ شہرت نہ ہو سکی۔ اسی وجہ سے بعض لوگوں کو خیال گزرتا کہ آپ میر و غالب کے ہم عصر ہیں۔ ہم یہ تسلیم کرتے ہیں کہ بھلے ہی زمانی لحاظ سے میر و غالب کے ہم عصر نہ ہوں مگر فکری بلندی، اسلوب جمالی کی بدولت آپ ان کی رقابت ضرور کر رہے تھے۔ بشیر بدر صاحب سے ہمارا شعری تعلق شعور کے بالغ ہوتے ہی ہوگیا تھا۔ یاد پڑتا ہے کہ پہلا شعر جو ہمیں یاد ہوا یہی تھا کہ
اجالے اپنی یادوں کے ہمارے ساتھ رہنے دو
نہ جانے کس گلی میں زندگی کی شام ہو جائے
یہ شعر ہر خاص و عام کی زبان زد ہے، بلکہ کثرتِ استعمال نے اسے محاورہ کی قبیل سے بنا دیا۔ ایک مرتبہ رات کے پہر پا پیادہ راستے سے گزرتے ہوئے میخانہ کے پاس چند بادہ کشوں کو دیکھا کہ وہ عالم بے کیفی میں یہی شعر ایک دوسرے کو جھوم جھوم کر سنا رہے ہیں۔
ان سب کے باوجود یہ شکوہ تمام اہل اردو سے رہے گا کہ اس کمال کے شاعر کی جو قدر آخر عمر میں ہونی چاہیے وہ نہ ہو سکی۔ ہم تمام نے انہیں ایسے ہی بھلا دیا جیسے مرض کی وجہ سے ان کی یادداشت نے ان کو۔
ان کے جنازے پر بھی کافی بحث جاری ہے، بعض کہہ رہے ہیں کہ جنازہ بھی ناقدری کا شکار ہوگیا جبکہ کچھ کا کہنا ہے کہ سینکڑوں کی تعداد موجود تھی۔ اس سلسلے میں ہم نے فیس بک پر ایک تبصرہ قلم بند کیا ہے، اسے یہاں بھی چسپاں کر رہے ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ بشیر بدر صاحب کو جیسی توجہ چاہئے تھی وہ آخر کے بیس پچیس برس میں نہیں مل پائی۔ وہ اردو کے قندیل رہبانی تھے مگر ان کی روشنی چھین لی گئی۔ ان کے اشعار زندہ جاوید ہو گئے مگر شخصیت کہیں پیچھے چھوٹ گئی تھی۔
یاد پڑتا ہے گزشتہ سال ہی ہم نے اپنے ساتھیوں سے پوچھا تھا کہ بشیر بدر زندہ ہیں یا وفات پا چکے ؟ تو ادھر سے صاف یہی جواب آتا کہ عرصہ ہوا وہ انتقال کر چکے۔ ایسا محسوس ہوتا تھا کہ وہ ہماری صدی کے شاعر تھے ہی نہیں۔ جب انہیں بتاتے کہ نہیں بھائی بشیر بدر زندہ ہیں اور بھوپال میں رہتے ہیں تو انہیں سخت تعجب ہوتا۔ یہی حقیقت ہے، ہم نے انہیں فراموش کر دیا تھا۔ کئی مرتبہ تو میری خواہش ہوئی کہ ان پر ایک ویڈیو بنا کر اطلاع دوں کہ
اجالے اپنی یادوں کے ہمارے ساتھ رہنے دو
نہ جانے کس گلی میں زندگی کی شام ہو جائے
کہنے والے عظیم شاعر ابھی باحیات ہیں۔ وغیرہ وغیرہ
مگر اس خیال پر اس سے پہلے کہ عمل درآمد ہوتا ہماری بے توجہی کا شکار عظیم شاعر روٹھ کر چلا گیا۔
ہمارا رویہ تو ایسا ہے کہ اگر ان کے اشعار مشہور نہ ہوتے تو شاید ہم انہیں اردو کا استاذ بھی نہ مانتے۔
اللہ مرحوم کی مغفرت فرمائے۔ ان کی قدر نصیب فرمائے۔ اہل ادب کو شعور بخشے۔ آمین ثم آمین 