محمد امیر الاسلام

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم سے پہلے اہل کتاب میں سے تھے وہ 72 فرقے میں بٹ گئے اور عنقریب یہ امت بھی 73 فرقوں میں بٹ جائے گی اور 72 فرقے جہنمی ہوں گے اور ایک فرقہ جنت میں جائے گا۔اور وہ جماعت وہ ہوگی جس پر میں اور میرے صحابہ ہوں گے،آج کے دور میں لوگ فرقہ درفرقہ تقسیم ہو رہے ہیں جو اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ قیامت قریب ہے۔اور ہر فرقہ اپنے آپ کو یہ سمجھ رہا ہے کہ وہ حق پر ہے جس کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ جنتی ہوگا۔اور یہ گمان کرتے ہے تمام فرقے جہنمی ہوں گے چونکہ فرق ہے اصول اور فروع میں ڈفرنٹ ہوتے ہیں اور عقائد کے سلسلے میں متضاد ہوتے ہیں۔ ایسے ہی گمراہ فرقوں میں ایک فرقہ ضالہ شیعہ بھی ہے۔اب یہاں سے میں آپ کو ہمارے اشیا کے عقائد میں فرق کیا ہے؟

مثلا یہ عقیدہ کہ اللہ ایک ہے اس کی بادشاہت تمام چیزوں پر ہے اور بے ائے بھی یہ عقیدہ جس میں تمام لوگ متفق ہیں۔لیکن شیعہ خدا کو بے عیب نہیں مانتے اور خدا کے سلسلے میں بدأ کے قائل ہیں۔یعنی خدا تعالی کو نعوذ باللہ جاھل سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس کو سب باتوں کا علم نہیں ہوتا نعوذ باللہ اور وہ فیصلہ کر دینے کے بعد اپنے فیصلے کو بدل دیتا ہے۔2: نبی کے سلسلے میں یہ عقیدہ ہے کہ وہ اخری نبی نہیں ہیں ختم نبوت کا انکار کرتے ہیں3: اس بات پر تمام مسلمان متفق ہیں کہ قران مجید وہی کتاب ہدایت ہے جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر منجانب اللہ نازل ہوئی اور اس کے کسی لفظ اور کسی نقطے میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ہے اور نہ تبدیلی کا امکان ہے کیونکہ خود خدا نے فرمایا {ان نحن نزلنا الذكرى وإنا له لحافظون} اب اگر کوئی شخص مذکورہ عقیدے کے علاوہ قران کے سلسلے میں دوسرا عقیدہ رکھ کر اپنے اپ کو مسلمان کہلانے کا حقدار نہیں ہے لیکن شیعہ قران کو ناقابل اعتبار قرار دیتے ہیں اور تحریف کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمارے سامنے وہ کلام اللہ کلام اللہ موجود نہیں ہے جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوا تھا یہ تین عقائد تھے جو ایمانیات سے تعلق رکھنے والے ہیں اب اخلاقیات کے بارے میں ہمارے اور شیعہ کے مابین فرق بیان کیا جا رہا ہے ایک ایسا عقیدہ جس پر نہ صرف اہل مذاہب بن کے تمام عقلمند انسانوں کا اتفاق ہے لیکن شیعہ لوگ اس بات کا انکار کرتے ہوئے دنیا بھر کے تمام انسانوں کے مقابل میں نہیں تعلیم پیش کرتے ہیں مثال کے طور پر جھوٹ ایک ایسی برائی ہے جس کا برا ہوا اتنا بدیہی نہیں جتنا سورج کا نکلنا ہے تمام مذہبوں نے اس برائی سے بچنے کی تاکید کی۔لیکن شیعہ جھوٹ بولنے کو ہنر قرار دیتے ہیں اور جھوٹ بولنے کو عین مذہب قرار دیتے ہیں اسے تقیہ کہتے ہیں۔شیعہ کے نزدیک بغیر تقی کے دین مکمل نہیں ہوتا۔متعا کے نام سے اس مذہب میں عبادت راج ہے وہ انسانیت کے پیشانی پرکلنک سا ٹیکا ہے،مت کا حاصل ایک لڑکا لڑکی کچھ روپیے مہر ایک مقررہ وقت تک ازواجی تعلق قائم کر سکتے ہیں۔اپ ذرا غور کریے یہ کیا چیز ہے کہ ایک طرف تمام مذاہب ف**** و عریانیت سے روکنے کی تعلیم دے رہے ہیں دوسری طرف وہی چیز شیعوں کی طرف سے بڑےزور و شور کے ساتھ جزئہ مذہب بنا کر پیش کی جا رہی ہے۔اور اس برائی پر پابندی لگانے والوں پر الزامات اور ان کو اسلام کا دشمن منافق قرار دینے کی کوشش کی جا رہی ہے انسانی زندگی کے اس المیہ پر انسان جس قدر بھی انسو بہائے کم ہے۔مندرجہ ذیل پانچ عقائد شیعوں کے محض اس لیے ذکر کیے گئے تاکہ قارئین کو معلوم ہو سکے کہ اہل سنت اور شیعہ کے درمیان جزی اختلاف نہیں ہے کہ اسے دور کر کے سب کو مسلمان میں شمار کیا جائے بلکہ شیعت اسلام کے خلاف ایک سازش ہے جس نے اسلامی لبادہ اوڑھ کر اسلام کو ہمیشہ نقصان پہنچانے کی کوشش کی اج بھی ناواقفیت مسلمان شیعوں کو مسلمانوں میں ہی کا ایک فرقہ خیال کرتے ہیں۔اپ خود ہی فیصلہ کریں کہ خدا نعوذ باللہ جاھل کہنے والا ختم نبوت کا انکار کرنے والا اور غریب قران کا قول کرنے والا اور جھوٹ اور زنا متاج جیسی بےہودہ چیزوں پہ عبادت میں شمار کرنے والا بھی کہ مسلمان ہو سکتا ہے اللہ تعالی سے دعا گو ہوں کہ اللہ تعالی ہماری ہر گمراہ ہی سے حفاظت فرمائے اور خاتمہ بالخیر فرمائے