*قانونِ اسلام، قربانی اور جانوروں کے حقوق کا فلسفہ*
*(قسطِ سوم)*
پہلی اور دوسری قسط میں، میں نے قربانی پر کیے جانے والے معاشی، سائنسی، اور اخلاقی اعتراضات کا جائزہ لیا اور مغرب کے اینیمل رائٹس *جانوروں کے حقوق* کے فلسفے کے تضادات کو بے نقاب کیا، اس آخری قسط میں ہم اسلامی طریقۂ ذبح (ذبیحہ) کی جدید ترین سائنسی و طبی برتری، مغرب کے بے رحمانہ طریقوں کا فکری و حسی موازنہ، اور قربانی کے سماجی و عالمی اثرات کا حتمی علمی احاطہ کریں گے۔
*سوال نمبر 1: مغرب کا دعویٰ ہے کہ ذبح کا اسلامی طریقہ (حلال) جانور کو زیادہ تکلیف دیتا ہے، اس کے برعکس ان کا سٹننگ (جانور کو پہلے بے ہوش کرنا) زیادہ انسانی ہے اس کی سائنسی حقیقت کیا ہے؟*
*جواب: اسلامی طریقۂ ذبح کی سائنسی اور اعصابی برتری* مغرب کا یہ پروپیگنڈا سراسر جہالت اور سائنسی حقائق کو مسخ کرنے پر مبنی ہے، جرمنی کی ہینوور یونیورسٹی کے پروفیسر ولہلم شلٹز اور ان کی ٹیم نے ای۔ای۔جی (EEG دماغی لہروں) اور ای۔سی۔جی (ECG دل کی دھڑکن) کے ذریعے اسلامی طریقۂ ذبح اور مغربی طریقے (پسٹل کی گولی یا بجلی کے جھٹکے سے بے ہوش کرنا) کا تفصیلی موازنہ کیا، نتائج حیران کن تھے۔
*درد کا عدم احساس* اسلامی طریقے میں جب تیز چھری سے ایک ہی لمحے میں جانور کی شہ رگ اور سانس کی نالی کاٹ دی جاتی ہے، تو دماغ کو خون کی سپلائی فوری طور پر بند ہو جاتی ہے، اعصابی سائنس کے مطابق، دماغ کو خون نہ پہنچنے کے باعث جانور سیکنڈ کے ہزارویں حصے میں بے ہوش ہو جاتا ہے اور اسے درد کا کوئی احساس نہیں ہوتا، *تڑپنے کی حیاتیاتی حقیقت* ذبح کے بعد جانور کا جو جسم تڑپتا ہے، ملحدین اسے درد کی تڑپ سمجھتے ہیں، جبکہ سائنس نے ثابت کیا کہ یہ درد کی وجہ سے نہیں بلکہ *اسپینل کارڈ ریفلیکس* ہے، جب دماغ کو خون جانا بند ہوتا ہے، تو دل اور اعصاب تیزی سے سکڑتے ہیں تاکہ جسم کا پورا خون باہر نکل جائے، یہ تڑپ جانور کی نہیں، بلکہ گوشت کو صاف کرنے کا ایک قدرتی پمپنگ سسٹم ہے، *مغربی طریقے کی ہولناکی* مغرب میں جانور کے سر پر *کیپٹو بولٹ پسٹل* سے وار کیا جاتا ہے یا بجلی کا شدید جھٹکا دیا جاتا ہے، سائنسی تحقیق کے مطابق، اس عمل سے جانور شدید تکلیف اور مفلوج پن (Paralysis) کا شکار ہو جاتا ہے لیکن اس کا دماغ جاگ رہا ہوتا ہے، یعنی وہ درد محسوس تو کرتا ہے، مگر مفلوج ہونے کی وجہ سے چیخ یا تڑپ نہیں سکتا، مغرب جسے *انسانی طریقہ* کہتا ہے، وہ دراصل جانور کو اپنی تکلیف کا اظہار کرنے سے بھی محروم کر دینا ہے۔
*سوال نمبر 2: طبی نقطۂ نظر سے اسلامی طریقے (حلال) سے حاصل ہونے والے گوشت اور مغربی طریقے (حرام/جھٹکا) کے گوشت میں کیا فرق ہے؟*
*جواب: بائیو کیمیکل لیبارٹری رپورٹس اور انسانی صحت*
اسلام صرف ایک عقیدے کا نام نہیں، بلکہ انسانی صحت کا ضامن ہے، ذبح اور جھٹکے کے گوشت کا اگر کیمیائی تجزیہ کیا جائے تو واضح فرق سامنے آتا ہے *طبی اصول* جانور کے خون میں تمام جراثیم، زہریلے مادے اور یورک ایسڈ پایا جاتا ہے، جب تک خون جسم سے مکمل طور پر خارج نہ ہو، وہ گوشت انسانی صحت کے لیے مضرِ رساں ہے، *خون کا اخراج* دل دھڑکتا رہتا ہے، جس سے جسم کا *95٪ سے زائد خون* باہر نکل جاتا ہے، دل فوری بند ہو جاتا ہے، جس سے خون گوشت کے ریشوں کے اندر ہی جم جاتا ہے، *بیکٹیریا کی افزائش* خون نہ ہونے کی وجہ سے گوشت طویل عرصے تک تازہ رہتا ہے اور جراثیم سے پاک ہوتا ہے، جما ہوا خون بیکٹیریا کی آماجگاہ بن جاتا ہے، جس سے گوشت جلدی سڑتا ہے، *خوف کے ہارمونز* چھری یکدم چلنے سے خوف کے ہارمونز گوشت میں جذب نہیں ہو پاتے، بے ہوش کرنے کے طویل اور خوفناک عمل کے دوران جانور شدید تناؤ کا شکار ہوتا ہے، جس سے یہ زہریلے ہارمونز گوشت کا حصہ بن جاتے ہیں۔
*سوال نمبر 3: اگر ہر سال کروڑوں جانور ذبح کیے جائیں، تو کیا یہ عالمی ماحول اور ماحولیاتی توازن کے لیے نقصان دہ نہیں ہے؟*
*جواب: پائیدار زراعت اور فطری سائیکل* جدید ماحولیاتی سائنس اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ پالتو چوپایوں کی آبادی کو ایک خاص تناسب میں رکھنا زمین کی بقا کے لیے ضروری ہے، *چراہ گاہوں کا تحفظ* اگر گائے، بھیڑ اور بکریوں کو ذبح نہ کیا جائے اور ان کی افزائشِ نسل اسی رفتار سے ہوتی رہے، تو دنیا کی چراہ گاہیں اور نباتات چند ہی سالوں میں ختم ہو جائیں گی، اسے ماحولیات کی زبان میں *Overgrazing* کہتے ہیں، جو زمین کو بنجر اور صحرا میں تبدیل کر دیتی ہے، قربانی کا نظام اس ماحولیاتی توازن کو برقرار رکھتا ہے، *آرگینک ویسٹ مینجمنٹ* جانوروں کا فضلہ (گوبر) اور ذبح کے بعد بچ جانے والے وہ حصے جو انسان نہیں کھاتا، وہ زمین کے لیے بہترین نائٹروجن فرٹیلائزر (قدرتی کھاد) بنتے ہیں، یہ زمین کی زرخیزی کو دوبارہ بحال کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔
*سوال نمبر 4: قربانی کا یہ پورا فلسفہ دورِ حاضر کے انسان کو الحاد اور مادیت پرستی کے فکری بحران سے کیسے نجات دلاتا ہے؟*
*جواب: الحادی فکر کا زوال اور اسلام کا آفاقی پیغام* جدید الحاد (Atheism) انسان کو صرف ایک حیاتیاتی مشین سمجھتا ہے، جس کا مقصد صرف کھانا، پینا اور لذت حاصل کرنا ہے،اس فلسفے نے انسان کو انتہائی خود غرض، تنہا اور ڈپریشن کا مریض بنا دیا ہے قربانی کا ابراہیمی فلسفہ اس مادی بت کو پاش پاش کرتا ہے *ہمدردی کا عروج* سال بھر گوشت نہ خرید سکنے والے غریب طبقات جب عیدِ قربان پر اپنے امیر پڑوسیوں کے ہاتھ سے عزت کے ساتھ گوشت وصول کرتے ہیں، تو معاشرے سے طبقاتی نفرت کا خاتمہ ہوتا ہے، یہ سرمایہ داری کے منہ پر سب سے بڑا طماچہ ہے، *تسلیم و رضا کی مشق* جب ایک مسلمان اپنے ہاتھ سے چھری چلاتا ہے، تو وہ دراصل یہ عہد کرتا ہے کہ *اے اللہ جس طرح یہ جانور تیرے حکم کے سامنے بے بس ہے، اسی طرح میری خواہشات، میری انا اور میری عقل بھی تیرے قانون کے سامنے سرِ تسلیم خم کرتی ہے۔* الحاد کا المیہ یہ ہے کہ وہ کائنات کے ہر منظر کو صرف مادی عینک سے دیکھتا ہے، اس لیے وہ روح کی پیاس اور الٰہی حکمتوں کو سمجھنے سے قاصر ہے، اسلام کا *قانونِ قربانی ایک ایسا آفاقی اور ہمہ جہت نظام ہے جو سائنسی طور پر انسانی صحت کا محافظ ہے، معاشی طور پر دولت کی منصفانہ تقسیم کا ذریعہ ہے، ماحولیاتی طور پر زمین کا توازن ہے، اور روحانی طور پر تقویٰ کی معراج ہے،* مغرب کے کھوکھلے اینیمل رائٹس اور الحادی دانشوروں کے اعتراضات کے برعکس، اسلام کا دامنِ رحمت اتنا وسیع ہے کہ وہ ذبح کرتے وقت بھی جانور پر چھری تیز کرنے اور اسے آرام پہنچانے کا حکم دیتا ہے، بے شک، اسلام ہی دینِ فطرت ہے اور اس کا ہر حکم رہتی دنیا تک انسانیت کے لیے رحمت کا شاہکار ہے، *قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، فرما دیجئے کہ یقیناً میری نماز، میری قربانی، میرا جینا اور میرا مرنا سب اللہ ہی کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے۔* (القرآن)
*✍️متعلم الجامعۃ الاشرفیہ✍️*