اسکرول کرتے ہوئے یکایک نظر اس پُرشکوہ مجمعے پر پڑی جہاں لاکھوں کروڑوں کا ہجوم تھا۔ مگر حیرت کا مقام یہ کہ وہاں دور دور تک بدنظمی کا نام و نشان نہ تھا۔ سب ایک منظم طریقے سے، پانی کے ریلے کی طرح، اپنی منزلِ مقصود کی طرف رواں دواں تھے!
وہاں نہ تو کوئی بڑا تھا نہ چھوٹا، سب ایک ہی فرش پر دراز تھے۔ نہ کوئی دکھاوا، نہ کوئی تفاخر؛ ایک ہی لباس (ڈریس کوڈ) کہ یہ پہچاننا ہی مشکل ہو جائے کہ دنیاوی مال و دولت کے اعتبار سے آپ کی حیثیت کیا ہے۔
کوئی ظاہری رنگینی نہ ہونے کے باوجود نظر وہاں سے ہٹنے کو تیار نہ تھی، ایک عجب مقناطیسی کشش تھی اس منظر میں!
فضا میں ایک عجیب سا سکون اور آنکھوں میں حیرت تھی کہ پھر اچانک سے وہ بات کانوں میں گونج اٹھتی ہے کہ یہ تو اسی سچے قرآن کا زندہ معجزہ ہے جس نے رہتی دنیا تک کے لیے انسانوں کو ایک لڑی میں پرو دیا۔
یہ اسلام کا وہ کھلا چیلنج اور پکار ہے جس کا جواب دنیا کے بڑے سے بڑے مادی نظاموں کے پاس بھی نہیں!
ہے کوئی۔۔۔۔۔۔۔۔ جو ایسا منظم نظام بنا سکے؟
ہے کوئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جو صدیوں پرانی صدا پر اس طرح لبیک کہلواۓ؟
ہے کوئی۔۔۔۔۔۔۔۔ جو اس بحرِ بیکراں جیسے ہجوم کو یوں سنبھالے کہ نہ کوئی بھگدڑ مچے اور نہ کسی کو شکایت کا موقع ملے؟
یہ منظر دیکھ کر خلیفۂ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا وہ واقعہ یاد آ جاتا ہے جب بچپن میں ان کے والدِ محترم نے انہیں چند اونٹ چرانے اور سنبھالنے کا کام سونپا تھا، اور جب وہ ایسا نہ کر پائے تو والد نے سخت ڈانٹ پلاتے ہوئے کہا تھا کہ 'تم سے چند اونٹ نہیں سنبھالے جا رہے!'۔ مگر تاریخ نے دیکھا کہ جب وہی عمر (رضی اللہ عنہ) ایمان کی دولت سے مالامال ہوۓ اور امتِ مسلمہ کے خلیفہ بنے، تو ان کے قائم کردہ نظامِ خلافت اور عدل کی بدولت آج تاقیامت امتِ مسلمہ ایک ہی قطار میں کھڑے ہونے کو تیار ہے۔
یہ صرف اور صرف اسلام کی برکت ہے جس نے دنیا کو اتنا منظم، منفرد اور امن و سلامتی والا نظام عطا کیا۔
ازقلم: زا-شیخ