تکبیر تشریق
ماہ ذی الحجہ کا عشرہ اولی عظمت وفضیلت ۔رحمت وبرکت ۔عزت بزرگی فدائیت وجاں نثاری ۔عبادات واعمال خیر ،ثواب ونیکیوں ۔ایثاروقربانی سے پر ہے البتہ اس میں چند اعمال ہیں ۔عوام وخواص میں مشہو ومعروف ہیں ۔ہرکس وناکس ان سے آگاہ ہے ہر کہ ومہ کے باعث ثواب وسعادت دارین ہے ۔۔
1.حج جیسامبارک مہتم بالشان عمل جس کو امت مسلمہ بڑے زور وشور پایۂ تکمیل تک پہونچا تی ہےان مبارک ساعتوں سے لطف اندوز ہوتی ہے۔۔۔۔۔
2.. ۔قربانی جیسا بابرکت عمل ۔کہ جانوروں کو اللہ کے راستے میں ذبح کیا جاتا ہے سنت ابراہیمی کو زندہ کیا جاتا ہے
اسکے علاوہ ایک اور عمل انجام دیا جاتا ہے جس سے مسجدیں خدا کے نام سے گونج اٹھتی ہے اور ہر طرف سے اللہ کی صدائیں آنے لگتی ہے ۔۔۔۔۔
وہ ہے تکبیر تشریق
تکبیر تشریق ۔۔۔۔۔"أَللّٰهُ أَكْبَرُـ۔۔۔۔۔"أَللّٰهُ أَكْبَرُـ۔۔۔۔۔" لاَ إِلٰهَ إِلاَّ اللّٰهُ وَأَللّٰهُ أَكْبَرُـ۔۔۔۔۔"أَللّٰهُ أَكْبَرُـوَلِلّٰهِ الْحَمْدُـ
تکبیر تشریق کی ابتداء
اس کی ابتدا حضرت ابراہیم کے واقعہ سے وابستہ ہے جیسا کہ
درمحتار ۔ج5.ص۔142.باب العیدین میں علامہ شامی رقمطراز ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔اسکی اصل یہ ہے کہ جب حضرت جبرئیل علیہ السلام جنت سے دنبہ لیکرآرہے تھے تو انھوں حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اس حالت پر دیکھا جسکے بارے میں شاعر کہتا ہے
زمیں سہمی پڑی تھی آسماں ساکت تھا بے چارہ
نہ اس سے پیشتر دیکھا تھا حیرت کا یہ نظارہ ____
تو انھوں نے فوراً پڑھا
۔۔۔۔۔۔۔"أَللّٰهُ أَكْبَرُ۔۔۔۔۔"أَللّٰهُ أَكْبَرُـ
جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے انکو دیکھا تو کہا:
۔۔۔۔۔" لاَ إِلٰهَ إِلاَّ اللّٰهُ وَأَللّٰهُ أَكْبَرُـ
جب حضرت اسماعیل علیہ السلام کو معلوم ہوا تو کہا:
أَللّٰهُ أَكْبَرُـوَلِلّٰهِ الْحَمْدُـ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تکبیر تشریق کے احکام
یہ تکبیر ۔۔کل 23 نمازوں میں پڑھی جائے گی ۔۔۔۔۔اسکے دن 5ہیں
وعندھما یکبر عقیب ثلاث وعشرین صلاۃ۔۔۔۔(الجوہرۃ النیرۃ \2/59
جیسا کہ آئندہ تفصیل۔میں یہ تعداد آشکارہ ہوجاتی ہے کہ یہ تکبیر
9 ذی الحجہ کی فجر کی نماز سے لیکر13 ذی الحجہ کی عصر تک
ہر مسلمان کے لیے پڑھنا واجب ہے خواہ وہ مرد وعورت ہے۔امام۔ہو یا مقتدی یا پھر تنہا نماز پڑھنے والا ہو ۔۔۔۔۔
اسکاوقت فرض نماز کے فوراً بعد ہے-
والتکبیر واجب عقیب الصلوات المفروضۃ ۔(الجوہرۃ النیرۃ/٢/٥٧
اگر سلام کے فوراً بعد بات چیت میں لگ گیا تو تکبیر فوت ہوگئی.۔۔۔۔۔
ہر نماز کے بعد ایک ہی مرتبہ پڑھے
قال فی الھدایہ ۔یقولھامرۃ واحدۃ
(الجوہرۃ النیرۃ/٢/٥٩
مرد بلند آواز سے تکبیر کہے گا اور عورت آہستہ آواز سے کہے گی
اگر امام بھول جائے تو مقتدی تکبیر پڑھے گا ۔۔
امام ابو یوسف کہتے ہیں ۔۔۔
ایک مرتبہ میں نے عرفہ کے دن مغرب کی نماز پڑھائی امام ابوحنیفہ بھی موجود تھے-
میں تکبیر تشریق پڑھنا بھول گیا فوراً امام ابوحنیفہ نے تکبیر تشریق پڑھی ۔۔۔اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ امام بھول جائے تو مقتدی امام کی رہنمائی کرے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قضاء نماز میں تکبیر تشریق کا حکم ۔۔۔
اگر ایام تشریق سے پہلے نمازیں چھوٹی ہیں اسکی قضا ایام تشریق میں کررہا ہے تو سلام کے بعد تکبیر نہیں پڑھے گا ۔۔۔۔
اگر پچھلے سال ایام تشریق میں کوئی نماز چھوٹ گیی تھی۔اسکی موجودہ ایام تشریق میں قضا کرے تب بھی تکبیر نہیں پڑھے گا ۔۔۔
اگر ایام تشریق میں کوئی نماز چھوٹ گئی تھی اسکی ایام تشریق کے بعد قضا کررہا ہے تب بھی تکبیر نہیں کہے گا ۔۔
لیکن موجودہ ایام تشریق میں کسی دن کوئی نماز چھوٹ گئی اسی دن اگلی نمازمیں قضاء کرلی یا ایام تشریق کے اگلے دن قضاء کی تو اسکے لیے تکبیر پڑھنا واجب ہوگا ۔۔۔۔
(حاشیۃ الطحطاوی علی الدر المختار ۔ج٣۔ص٢٤)
مگر افسوس ہے کہ اولا تو مسلمان نماز سے کتراتے ہیں اور اگر نماز پڑھتے ہیں توبہت سے حضرات بے توجہی برتتے ہیں ۔بعض حضرات تکبیر بہت ہی آہستہ پڑھتے ہیں کہ اس کو بوجھ سمجھتے ہیں ۔اس کی مثال اس وقت نمایاں ہوتی ہے جب آدمی تنہا نماز پڑھتا ہے بعض تو اتنی چپکے سے ادا کرتے ہیں جیسا لگتا ہے کہ ان کو اللہ نام لینے سے مصیبتوں کے انبار لگ گیے ہوں ۔بعض تو بلا پڑھے گھر 🏡 کی سدھار جاتے ہیں ۔جب ہم اللہ کے نام کو بلند کرنے میں بوجھ محسوس کریں گے تو ہم بھی دوسری اقوام کے لیے بوجھ بنیں گے وہ قومیں ہمیں بازیچہ اطفال سمجھیں گے پھر جب چاہیں گے جڑ سے اکھاڑ پھینکیں گیں اور ہم ماضی کی ایک داستان بن جائیں گے ۔۔۔۔
اسلیے اللہ کے نام کو بلند کرنے اور تکبیر تشریق باآواز بلند پڑھنے سے نہ ہچکچائیں ہماری مساجد اللہ کے نام سے گونج اٹھنی چاہئیے
محمد شعیب قاسمی موتی پور ۔سیتاپور
استاذ مدرسہ دار الرشاد بنکی بارہ بنکی