جس بچے کے سر پر آقا ﷺ نے شفقت سے ہاتھ رکھ دیا، گویا اُس کی قسمت پر محبتِ مصطفی ﷺ کی مہر ثبت ہوگئی۔ پھر وہ بچہ اپنے گھر والوں کا نہیں رہتا تھا بلکہ خوشبو میں ڈھلا ہوا ایک زندہ معجزہ بن جاتا تھا۔ لوگ اُس کے قریب آتے اور بے اختیار پوچھ اٹھتے:
“یہ کیسی مہک ہے جو دل میں اُترتی چلی جارہی ہے؟”
ایسی مہک بازار میں کسی عطر فروش کی کہاں، یہ اُس ہستی کے لمس کا صدقہ تھی جن کے ذکر سے زمانے معطر ہیں۔ جن کے لب ہلتے تو وحی اترتی، جن کی نگاہ اٹھتی تو دلوں کو ایمان نصیب ہوجاتا، اور جن کا ہاتھ کسی کے سر پر آجاتا تو اُس کی پیشانی سعادت سے جگمگا اٹھتی۔
عشقِ رسول ﷺ کا عالم یہ ہے کہ عاشق اِن واقعات کو پڑھتے نہیں، انہیں اپنی روح میں اُتارتے ہیں۔ پھر دل چاہتا ہے کہ کاش! مدینے کی کسی گلی میں بچپن گزرا ہوتا، کاش! کبھی حضور ﷺ کی مجلس میں بیٹھنے کا شرف ملا ہوتا، کاش! اُن مبارک ہاتھوں کی ٹھنڈک روح کو چھو گئی ہوتی۔
یہی حسرت جب ادب کا پیرہن اوڑھتی ہے تو لفظ موتی رولنے لگتے ہیں، قرطاس خوشبو سے معطر ہوجاتا ہے، اور قلم سجدہ ریز ہوکر یوں رقم طراز ہوتا ہے:
“حضور ﷺ!
آپ کے شہر کی مٹی بھی دنیا کے خزانوں سے بڑھ کر ہے، کیونکہ وہاں کی ہواؤں نے آپ ﷺ کے قدموں کی خوشبو سمیٹی ہے۔
 حضور ﷺ!
آپ کے غلام آج بھی آپ کے ذکر سے جیتے ہیں، آپ کے نام سے مہکتے ہیں، اور آپ کی یاد کو اپنے دلوں کی تسکین سمجھتے ہیں۔
حضور ﷺ!
ہمیں بھی اپنی نسبت کی ایک رمق عطا فرما دیجیے، تاکہ ہماری بے رنگ زندگیوں میں بھی آپﷺ کی محبت کی مہک بس جائے، اور ہمارا دل بھی قیامت تک آپﷺ کے عشق میں دھڑکتا رہے۔”
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ❤️