*قانونِ اسلام، قربانی اور جانوروں کے حقوق کا فلسفہ*
                   *(قسطِ دوم)*
پہلی قسط میں میں نے قربانی پر کیے جانے والے بنیادی سائنسی، معاشی اور اخلاقی اعتراضات کا تفصیلی جائزہ لیا تھا، اس دوسری قسط میں ہم الحادی فکر کے مزید گہرے تضادات، قربانی کے روحانی و نفسیاتی اثرات، اور جانوروں کے حقوق کے حوالے سے مغرب کے منافقانہ رویے کا علمی و تاریخی محاکمہ کریں گے۔
*سوال نمبر 1: اگر اللہ رحمان و رحیم ہے، تو اس نے کائنات کا نظام ایسا کیوں بنایا جہاں ایک جاندار دوسرے کو مار کر کھاتا ہے؟ کیا یہ نظام خود بے رحمی پر مبنی نہیں؟*
*جواب حکمتِ الٰہی اور کائناتی توازن*
یہ اعتراض دراصل کائنات کے تخلیقی حسن اور اس کے بقا کے نظام سے جہالت کا نتیجہ ہے، اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو دار الامتحان اور ایک مربوط زنجیر کے تحت پیدا کیا ہے، *موت فنا نہیں، تبدیلی ہے* مادی کائنات میں کوئی چیز مطلقاً فنا نہیں ہوتی، بلکہ ایک شکل سے دوسری شکل میں منتقل ہوتی ہے، مٹی کی نباتاتی طاقت پودا بنتی ہے، پودا بکری کی غذا بن کر حیوانی زندگی میں تبدیل ہوتا ہے، اور بکری انسان کی غذا بن کر انسانی توانائی، شعور اور سجدوں میں تبدیل ہو جاتی ہے، یہ جانور کا زوال نہیں، بلکہ اس کے مرتبے کا ارتقا ہے کہ وہ اشرف المخلوقات کے جسم کا حصہ بن کر کارِ خیر کا سبب بنتا ہے۔
 *درد کا حیاتیاتی مقصد* ملحدین درد کو صرف ایک شر سمجھتے ہیں، جبکہ جدید بائیولوجی کے مطابق درد جانداروں کی بقا کے لیے ایک دفاعی نظام ہے، اگر ہرن کو شیر کا خوف اور درد کا احساس نہ ہو، تو وہ اپنی حفاظت کبھی نہ کرے، کائنات کا یہ نظام بے رحمی پر نہیں، بلکہ عدل اور کمالِ حکمت پر قائم ہے تاکہ زندگی کا پہیہ چلتا رہے۔
*سوال نمبر 2: اسلام میں صرف چند مخصوص جانوروں (بہیمۃ الانعام) کی ہی قربانی کیوں جائز ہے؟ کیا یہ دیگر جانداروں کے ساتھ ناانصافی نہیں؟*
*جواب حیاتیاتی تنوع اور انتخاب کی حکمت* اسلام نے ہر جانور کی قربانی یا گوشت کھانے کی اجازت نہیں دی، بلکہ اس کے لیے گائے، بھینس، بکری، بھیڑ اور اونٹ جیسے پالتو چوپایوں کو منتخب کیا ہے، اس کے پیچھے گہری سائنسی اور ماحولیاتی حکمتیں کارفرما ہیں۔
 *جدید طبیعت اور مزاج پر اثرات سائنس کی تحقیق* جدید نفسیات اور میڈیکل سائنس یہ تسلیم کرتی ہے کہ انسان جو غذا کھاتا ہے، اس کے اثرات اس کے اخلاق اور رویے پر مرتب ہوتے ہیں، اسلام نے درندوں شیر، چیتے اور مردار خور جانوروں کو حرام قرار دیا کیونکہ ان کا گوشت انسان کے اندر وحشیانہ پن اور جارحیت پیدا کرتا ہے، اس کے برعکس، قربانی کے جانور امن پسند، سبزی خور اور حلیم مزاج ہوتے ہیں، جن کا گوشت انسانی طبیعت میں اعتدال پیدا کرتا ہے۔
 *پیداواری صلاحیت* کائنات کے مالک کا نظامِ قدرت دیکھیں کہ جن جانوروں (کتے، بلی، شیر) کا گوشت حرام ہے، وہ ایک وقت میں کئی بچوں کو جنم دیتے ہیں، پھر بھی ان کی تعداد محدود ہے، اس کے برعکس، قربانی کے جانور سال میں صرف ایک یا دو بچے دیتے ہیں اور دنیا بھر میں کروڑوں کی تعداد میں ذبح ہوتے ہیں، لیکن اس کے باوجود ان کی نسل کبھی ختم نہیں ہوتی، یہ برکتِ الٰہی اور فطری توازن کا زندہ معجزہ ہے۔
*سوال نمبر 3: مغرب جانوروں کے حقوق کا سب سے بڑا علمبردار بنتا ہے، اسلامی قانونِ ذبح کے مقابلے میں ان کا اپنا تاریخی اور موجودہ ریکارڈ کیا ہے؟
*جواب مغرب کا منافقانہ تضاد اور اسلامی موازنہ*
مغرب کا *اینیمل رائٹس* کا فلسفہ محض ایک فریب اور مسلمانوں کو ذہنی غلام بنانے کا ہتھیار ہے، تاریخ اور حال گواہ ہیں کہ جانوروں پر جتنا ظلم مغرب نے کیا، اس کی مثال نہیں ملتی۔
*مغربی تہذیب کا رویہ اسلامی قانون کا معیار تفریحی قتل* اسپین میں (سانڈوں کی لڑائی) اور انگلینڈ میں لومڑی کے شکار جیسے کھیلوں میں جانوروں کو تڑپا تڑپا کر تفریحاً مارا جاتا ہے، اسلام نے جانوروں کو تفریح کا ذریعہ بنانے، ان کو آپس میں لڑانے اور نشانہ بازی کی مشق بنانے پر سخت لعنت بھیجی ہے، *کاسمیٹک ٹیسٹنگ* مغربی کمپنیاں سالانہ لاکھوں بندروں، خرگوشوں اور چوہوں کی آنکھوں اور جلد پر تیزاب اور کیمیکلز ڈال کر بیوٹی پروڈکٹس کی ٹیسٹنگ کرتی ہیں، اسلام میں کسی بھی جاندار کو بلاوجہ اذیت دینا یا اس کے اعضاء کو بگاڑنا (مثلہ کرنا) سخت حرام اور جہنم میں لے جانے والا عمل ہے، *بوجھ لادنا* صنعتی انقلاب کے دوران جانوروں سے ان کی طاقت سے زیادہ کام لے کر انہیں ہلاک کر دیا جاتا تھا، رسول اللہ ﷺ نے ایک اونٹ کو روتے دیکھ کر اس کے مالک کو بلایا اور فرمایا: *تم اس بے زبان کے معاملے میں اللہ سے نہیں ڈرتے؟ یہ مجھ سے تمہاری شکایت کر رہا ہے،* مغرب کا رحم صرف پالتو کتے اور بلی تک محدود ہے، جبکہ کروڑوں معصوم جاندار ان کی ہوس اور تفریح کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں۔
*سوال نمبر 4: قربانی کا اصل مقصد اگر تقویٰ ہے، تو اس کا ابراہیمی تاریخ اور انسانی نفسیات سے کیا تعلق ہے؟ یہ انسان کی خود غرضی کو کیسے ختم کرتی ہے؟*
*جواب نفسیاتی و روحانی انقلاب* قربانی دراصل حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اس عظیم قربانی کی یادگار ہے جہاں بیٹے کے گلے پر چھری پھیرنے کا حکم دیا گیا تھا، اللہ نے انسان کا خون بہانے سے روک کر جانور کی قربانی کو متبادل بنا دیا، *ملکیت کے بت کو توڑنا* انسان فطرتاً حریص اور مادہ پرست ہے، جب وہ اپنے ہاتھ سے پالی ہوئی، محبت کی ہوئی حلال چیز کو اللہ کے نام پر قربان کرتا ہے، تو اس کے اندر سے میری دولت، میرا مال کا بت ٹوٹ جاتا ہے، یہ عمل انسان کو سکھاتا ہے کہ جب خالق کا حکم ہو، تو جان تو کیا، کائنات کی ہر قیمتی چیز قربان کی جا سکتی ہے۔
 *خون کی ہوس کا علاج* انسانی تاریخ گواہ ہے کہ جب انسان اللہ کی بتائی ہوئی قربانی سے دور ہوا، تو اس نے دیوی دیوتاؤں کو خوش کرنے کے لیے انسانوں اور بچوں کی بلیاں (Human Sacrifices) چڑھانا شروع کر دیں، اسلام نے جانور کی قربانی مقرر کر کے انسانیت کو اس ہولناک وحشت سے نجات دلائی، یہ قربانی انسان کے اندر موجود جارحانہ جبلت کا ایک پاکیزہ اور تعمیری نکاس ہے،مآصل و حاصلِ کلام الحاد کا المیہ یہ ہے کہ وہ کائنات کو بغیر کسی مقصد کے ایک حادثہ مانتا ہے، اس لیے وہ ہر اس عمل پر معترض ہوتا ہے جس کے پیچھے کوئی الٰہی حکمت کارفرما ہو، اسلام کا *قانونِ قربانی* معاشی طور پر دولت کو گردش میں لاتا ہے، سماجی طور پر غریبوں کی محرومی ختم کرتا ہے، طبی طور پر انسانی جسم کو پاکیزہ غذا فراہم کرتا ہے، اور روحانی طور پر انسان کو خود غرضی کے اندھیروں سے نکال کر تقویٰ کے نور سے منور کرتا ہے،
یہ وہ دینِ فطرت ہے جس کا ہر حکم حکمت کا شاہکار ہے، اور دورِ حاضر کا الحاد اس کے سامنے محض ایک فکری دیوالیہ پن کے کچھ نہیں *فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ، پس اپنے رب کے لیے نماز پڑھیے اور قربانی کیجیے۔*

               *✍️متعلم الجامعۃ الاشرفیہ✍️*