🖋️بنتِ ابوالخیر اعظمیؔ
آج کا دور ایک عجیب آزمائش سے گزر رہا ہے۔
کسی ایک فرد کی لغزش کو پوری جماعت کا عیب بنا دینا گویا لوگوں کا محبوب مشغلہ بن چکا ہے۔ خصوصاً جب کسی عالمہ کی کسی کمزوری، غلطی یا بے احتیاطی کا ذکر سامنے آتا ہے تو فوراً زبانوں پر یہ جملے جاری ہو جاتے ہیں کہ
“لڑکیوں کو عالمہ نہیں بنانا چاہیے…”
“عالمہ لڑکیاں سب سے زیادہ خراب ہوتی ہیں…”
“علم نے انہیں کیا دیا…؟”
اور پھر ایک فرد کی خطا کو تمام عالمات کے دامن پر ڈال دیا جاتا ہے۔
حالانکہ انصاف کا تقاضا یہ نہیں۔
میں اپنی کم علمی اور عاجزی کے ساتھ صرف اتنی گزارش کرنا چاہتی ہوں کہ اگر ایک عالمہ کی غلطی پر تمام عالمات کو موردِ الزام ٹھہرایا جائے، تو پھر دنیا کے کسی بھی طبقے میں کوئی پاکیزگی باقی نہیں رہ سکتی۔
کیونکہ ہر میدان میں اچھے بھی ہوتے ہیں اور کمزور بھی، مخلص بھی ہوتے ہیں اور لغزش زدہ بھی۔
کیا چند نافرمان اولادوں کی وجہ سے تمام بیٹیوں کو برا کہا جا سکتا ہے؟
کیا چند بے عمل لوگوں کی وجہ سے پورے اہلِ علم پر تنقید درست ہو جاتی ہے؟
کیا چند غلط تاجروں کی وجہ سے ساری تجارت کو حرام کہہ دیا جاتا ہے؟
ہرگز نہیں۔
تو پھر صرف عالمات ہی کیوں اس عمومی تنقید کا نشانہ بنائی جائیں؟
یہ حقیقت ہے کہ بعض جگہوں پر بے احتیاطیاں ہوئی ہیں، بعض عالمات نے اپنے مقام اور وقار کی حفاظت نہیں کی، کچھ نے علم کی روح کو سمجھنے کے بجائے صرف سند کو کافی سمجھ لیا۔
ہم اس کا انکار نہیں کرتے۔
ہم یہ نہیں کہتے کہ سب اچھی ہیں۔
لیکن ہم یہ بھی نہیں کہتے کہ سب خراب ہیں۔
یہی تو انصاف ہے۔
دنیا آج بھی ان بے شمار عالمات سے ناواقف ہے جو خاموشی کے ساتھ قرآن پڑھا رہی ہیں، بچیوں کی تربیت کر رہی ہیں، امت کی بیٹیوں کو حیا، ادب، دین اور اخلاق سکھا رہی ہیں۔
وہ جو راتوں کو دعاؤں میں امت کے لیے روتی ہیں…
جو اپنی خواہشات کو قربان کرکے دین کی خدمت میں لگی ہوئی ہیں…
جو شہرت نہیں چاہتیں، بلکہ قبولیت چاہتی ہیں۔
مگر افسوس!
ان کی خاموش خدمات کسی کو نظر نہیں آتیں، جبکہ ایک غلطی چیخ چیخ کر پوری قوم میں پھیلا دی جاتی ہے۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم جذبات کے بجائے انصاف سے کام لیں۔
جو غلط ہے، یقیناً اس کی اصلاح ہونی چاہیے۔
علم والے اگر غلطی کریں تو ان کی اصلاح کی فکر اور بھی زیادہ ہونی چاہیے، کیونکہ علم ذمہ داری کا نام ہے۔
مگر اصلاح اور تذلیل میں فرق ہوتا ہے۔
اصلاح یہ ہے کہ انسان کو سنبھالا جائے۔
اور تذلیل یہ ہے کہ ایک کی وجہ سے ہزاروں کو مشکوک بنا دیا جائے۔
افسوس کہ اب تو بعض لوگوں کی زبان پر یہی جملہ رہ گیا ہے کہ
“لڑکیوں کو عالمہ نہیں بنانا چاہیے۔”
سوچنے کی بات یہ ہے کہ اگر بیٹیاں دین نہیں سیکھیں گی تو آنے والی نسلوں کو دین کون سکھائے گا؟
ماں اگر قرآن سے ناواقف ہوگی تو اولاد کے دل میں ایمان کی پہلی شمع کون روشن کرے گا؟
عورت اگر دینی علم سے محروم ہوگی تو گھروں میں دینی تربیت کیسے باقی رہے گی؟
علم تو نور ہے، اور نور کو بند نہیں کیا جاتا۔
ہاں! اس نور کے ساتھ تقویٰ، اخلاص، خوفِ خدا اور صحیح تربیت کا ہونا ضروری ہے۔
اصل مسئلہ “عالمہ بننا” نہیں، بلکہ “علم پر عمل نہ کرنا” ہے۔
اور یہ بیماری صرف خواتین میں نہیں، مردوں میں بھی پائی جاتی ہے۔
لہٰذا انصاف کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا جائے۔
جو غلط ہیں ان کے لیے دعا بھی کی جائے، اصلاح بھی کی جائے، نصیحت بھی کی جائے۔
مگر ہر عالمہ کو ایک ہی ترازو میں تول دینا یقیناً ناانصافی ہے۔
میں اپنی عاجزانہ گزارش کے ساتھ بس اتنا کہنا چاہتی ہوں کہ
علمِ دین حاصل کرنے والی ہر لڑکی کو شک کی نگاہ سے نہ دیکھا جائے۔
کیونکہ انہی عالمات میں کچھ وہ بھی ہیں جن کی خاموش دعاؤں سے گھروں میں رحمت اترتی ہے،
جن کی تعلیم سے بچیوں میں حیا زندہ رہتی ہے،
اور جن کی محنت سے قرآن نسلوں تک منتقل ہو رہا ہے۔
اللہ تعالیٰ تمام اہلِ علم، خصوصاً عالمات کو اخلاص، تقویٰ، حیا اور استقامت عطا فرمائے،
اور ہمیں انصاف، حسنِ ظن اور اصلاح کی صحیح فکر نصیب فرمائے۔
آمین یا رب العالمین۔